Site icon اردو محفل

بئر غرس Ghars Well

“بئرِ غرَس” (جنّت کا چشمہ)

“وہ بابرکت کنواں جس کے پانی کو یہ شرف حاصل ہے کہ میرے آقا ﷺ کو وصیت کے مطابق اِس کے پانی سے غسل دیا گیا”
“اِس کنویں کو میرے آقا ﷺ نے اپنا کہہ کر یاد فرمایا کہ میرا کنواں”
“جس کا پانی جنّت کا پانی ہے”
“حضور ﷺ نے اپنے مبارک لعابِ دہن سے اِس کنویں کو شرف بخشا”

قال رسول الله ﷺ: “نعم البئر بئر غرس هي من عيون الجنة وماؤها أطيب المياه” (سیرة النبویة)

امام الأنبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا: “بیرِ غرس کیا ہی بہترین کنوا ہے یہ جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے، اور اس کا پانی سب سے بہترین پانی ہے”

سرکارِ دو عالم ﷺ نے مولا علی مشکل کشاء (کرَّمَ اللہُ وجہَهُ الکریم) کو وصیت فرمائ

:يا علي إذا أنا متُّ فاغْسِلوني بسبع قرب، من بئري بئر غرس. (ابنِ ماجہ)

: اے علی جب میں وفات پاجاؤں تو مجھے سات برتن میں “میرے کنویں بئرِ غرس” کے پانی سے غسل دینا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بئر غرس کا پانی طلب فرماتے اور ارشاد فرماتے “میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ اِس کنویں سے پانی نوش فرماتے اور وضو فرماتے اور اِس کے لۓ برکت کی دعاء فرماتے”

سیدنا عبداللہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ بئر غرس پر تشریف فرما تھے اِس موقع پر ارشاد فرمایا:

((رأيت الليلة كأني جالس على عين من عيون الجنة)). يعني بئر غرس.

“رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنّت سے جاری چشموں میں سے کسی پر بیٹھا ہوں اِس سے مراد بئرِ غرس ہے”
(رواہُ ابنُ عمر)

“کہا جاتا ہے کہ اِس کنویں کا پانی پیٹ کے أمراض کے لۓ مفید ہے”

✒️ محمد_شاہ۔۔

Exit mobile version