امام اہلسنت حافظ ذھبی علیہ الرحمہ کا جنگ صفین کے حوالے سے انصاف پسند تجزیہ!
آپ فرناتے ہیں:
ﻭﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﻭﺣﻜﻴﻢ ﺑﻦ ﺣﺰاﻡ ﻭﺃﻣﺜﺎﻟﻬﻢ ﻭﻛﺎﻧﻮا ﻣﻦ ﺧﻴﺎﺭ اﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﻭﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻣﻤﻦ ﺣﺴﻦ ﺇﺳﻼﻣﻪ ﻭﻭﻻﻩ ﻋﻤﺮ ﺑﻌﺪ ﺃﺧﻴﻪ ﻳﺰﻳﺪ ﻭﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻋﻤﺮ ﻭاﻟﻠﻪ ﻣﻤﻦ ﻳﺤﺎﺑﻲ ﻭﻻ ﺗﺄﺧﺬﻩ ﻓﻲ اﻟﻠﻪ ﻟﻮﻣﺔ ﻻﺋﻢ ﻭﻻ ﻛﺎﻥ ﻳﺤﺐ ﺃﺑﺎ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﻭﻗﺪ ﺣﺮﺹ ﻋﻠﻰ ﻗﺘﻠﻪ ﻟﻤﺎ ﺟﺎء ﺑﻪ اﻟﻌﺒﺎﺱ ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻣﻤﻦ ﻳﺤﺎﺑﻲ ﻟﻮﻟﻲ ﺃﻗﺎﺭﺑﻪ ﻣﻦ ﺑﻨﻲ ﻋﺪﻱ
ﺛﻢ ﺇﻥ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺑﻘﻲ ﻋﻠﻰ ﺩﻣﺸﻖ ﻭﻏﻴﺮﻫﺎ ﻋﺸﺮﻳﻦ ﺳﻨﺔ ﺃﻣﻴﺮ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﺳﻨﺔ ﺧﻠﻴﻔﺔ ﻭﺭﻋﻴﺘﻪ ﻳﺤﺒﻮﻧﻪ ﻹﺣﺴﺎﻧﻪ ﻭﺣﺴﻦ ﺳﻴﺎﺳﺘﻪ ﻭﺗﺄﻟﻴﻔﻪ ﻟﻘﻠﻮﺑﻬﻢ ﺣﺘﻰ ﺇﻧﻬﻢ ﻗﺎﺗﻠﻮا ﻣﻌﻪ ﻋﻠﻴﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﺃﻣﺜﺎﻟﻪ ﻭﺃﻭﻟﻰ ﺑﺎﻟﺤﻖ ﻣﻨﻪ ﻭﻫﺬا ﻳﻌﺘﺮﻑ ﺑﻪ ﻏﺎﻟﺐ ﺟﻨﺪ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻭﻟﻜﻨﻬﻢ ﻗﺎﺗﻠﻮا ﻣﻊ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻟﻈﻨﻬﻢ ﺃﻥ ﻋﺴﻜﺮ ﻋﻠﻲ ﻓﻴﻪ ﻗﺘﻠﺔ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻭﻓﻴﻪ ﻇﻠﻤﺔ ﻭﻟﻬﺬا ﻟﻢ ﻳﺒﺪﺃﻭا ﺑﺎﻟﻘﺘﺎﻝ ﺣﺘﻰ ﺑﺪﺃﻫﻢ ﺃﻭﻟﺌﻚ ﻓﻘﺎﺗﻠﻮﻫﻢ ﺩﻓﻌﺎ ﻟﺼﻴﺎﻟﻬﻢ ﻋﻠﻴﻬﻢ ﻭﻗﺘﺎﻝ اﻟﺼﺎﺋﻞ ﺟﺎﺋﺰ ﻭﻟﻬﺬا ﻗﺎﻝ اﻷﺷﺘﺮ اﻟﻨﺨﻌﻲ ﺇﻧﻬﻢ ﻳﻨﺼﺮﻭﻥ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﻷﻧﺎ ﻧﺤﻦ ﺑﺪﺃﻧﺎﻫﻢ ﺑﺎﻟﻘﺘﺎﻝ ﻭﻋﻠﻲ ﻛﺎﻥ ﻋﺎﺟﺰا ﻋﻦ ﻗﻬﺮ اﻟﻈﻠﻤﺔ ﻣﻦ اﻟﻌﺴﻜﺮﻳﻦ ﻭﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﺃﻣﺮاﺅﻩ ﻭﺃﻋﻮاﻧﻪ ﻳﻮاﻓﻘﻮﻧﻪ ﻋﻠﻰ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻤﺎ ﻳﺎﻣﺮ ﺑﻪ ﻭﺃﻋﻮاﻥ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻳﻮاﻓﻘﻮﻧﻪ
ﻗﺎﻝ ﻭﻗﺎﺗﻞ ﻋﻠﻴﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﻋﻨﺪﻫﻢ ﺭاﺑﻊ اﻟﺨﻠﻔﺎء ﺇﻣﺎﻡ ﺣﻖ ﻭﻛﻞ ﻣﻦ ﻗﺎﺗﻞ ﺇﻣﺎﻡ ﺣﻖ ﻓﻬﻮ ﺑﺎﻍ ﻇﺎﻟﻢ
ﻗﻠﻨﺎ ﻧﻌﻢ ﻭاﻟﺒﺎﻏﻲ ﻗﺪ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﺘﺄﻭﻻ ﻣﻌﺘﻘﺪا ﺃﻧﻪ ﻋﻠﻰ ﺣﻖ ﻭﻗﺪ ﻳﻜﻮﻥ ﺑﻐﻴﻪ ﻣﺮﻛﺒﺎ ﻣﻦ ﺗﺄﻭﻳﻞ ﻭﺷﻬﻮﺓ ﻭﺷﺒﻬﺔ ﻭﻫﻮ اﻟﻐﺎﻟﺐ ﻭﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﺗﻘﺪﻳﺮ ﻓﻬﺬا ﻻ ﻳﺮﺩ ﻭﺇﻧﺎ ﻻ ﻧﻨﺰﻩ ﻫﺬا اﻟﺮﺟﻞ ﻭﻻ ﻣﻦ ﻫﻮ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻨﻪ ﻋﻦ اﻟﺬﻧﻮﺏ۔
امام ذھبی فرماتے ہیں:
حضرت یزید بن ابی سفیان، حضرت حکیم بن حزام اور ان جیسے لوگ مسلمانوں کے بہترین افراد میں سے تھے، اور حضرت معاویہ بھی ان لوگوں میں سے تھے۔ جن کا اسلام بہت اچھا تھا۔ حضرت عمرؓ نے انہیں ان کے بھائی حضرت یزید کے بعد (شام کا) والی مقرر کیا، جبکہ حضرت عمرؓ خدا کی قسم کسی کی خوشامد نہیں کرتے تھے، اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ رکھتے تھے۔ وہ حضرت ابو سفیان سے محبت بھی نہیں رکھتے تھے، بلکہ جب حضرت عباسؓ ان کو (اسلام کی طرف) لائے تو حضرت عمرؓ انہیں قتل کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ اگر وہ کسی کی رعایت کرنے والے ہوتے تو اپنے قبیلہ بنی عدی کے لوگوں کو ولایت دیتے۔
حضرت معاویہؓ دمشق اور دیگر علاقوں پر بیس سال تک امیر اور بیس سال تک خلیفہ رہے، اور ان کی رعیت انہیں ان کے احسان، اچھی سیاست، اور دلوں کو نرم کرنے کی وجہ سے محبت کرتی تھی، حتیٰ کہ انہوں نے حضرت علیؓ کے مقابلے میں ان کے ساتھ جنگ کی، حالانکہ حضرت علیؓ ان جیسے لوگوں سے افضل تھے اور حق کے زیادہ حقدار تھے۔ یہ بات حضرت معاویہ کے بیشتر لشکری بھی تسلیم کرتے تھے، مگر وہ یہ سمجھتے تھے کہ حضرت علیؓ کی فوج میں قاتلانِ حضرت عثمان اور ظالم لوگ موجود ہیں، اسی لیے انہوں نے لڑائی کی ابتدا نہ کی، بلکہ جب ان پر حملہ کیا گیا تو دفاعاً لڑے، اور صائل (حملہ آور) سے لڑائی جائز ہے۔
اسی لیے الاشتر نخعی نے کہا: وہ ہم پر غالب آتے ہیں کیونکہ ہم نے ان سے جنگ کی ابتدا کی۔
اور حضرت علیؓ ان ظالموں کو قابو میں کرنے سے عاجز تھے جو ان کے لشکر میں تھے، اور ان کے امراء و اعوان بھی ان کے اکثر احکام پر عمل نہیں کرتے تھے، جبکہ حضرت معاویہ کے اعوان ان سے اتفاق رکھتے تھے۔
(پھر امام ذھبی اعتراض نقل کرتے ہیں:
انہوں نے حضرت علیؓ سے جنگ کی، حالانکہ حضرت علی ان کے نزدیک چوتھے خلیفہ راشد اور امامِ حق تھے، اور ہر وہ شخص جو امامِ حق سے جنگ کرے وہ باغی اور ظالم ہوتا ہے۔
امام ذھبی جوابا فرماتے ہیں:
ہم کہتے ہیں: جی ہاں، اور باغی کبھی تاویل کے ساتھ ہوتا ہے، یعنی وہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے، اور کبھی اس کا بغاوت کرنا تاویل، خواہش اور شبہ کا مجموعہ ہوتا ہے، اور یہ صورت زیادہ عام ہے۔
بہر حال، یہ بات (کہ حضرت معاویہؓ نے حضرت علیؓ سے جنگ کی) قابل رد نہیں ہے، اور ہم نہ تو انکو (حضرت معاویہؓ) کو معصوم سمجھتے ہیں اور نہ ان سے بہتر کو۔
مزید ایک روایت کو بیان کرتے ہیں:
ﻭاﻟﺤﻜﺎﻳﺔ ﻣﺸﻬﻮﺭﺓ ﻋﻦ اﻟﻤﺴﻮﺭ ﺑﻦ ﻣﺨﺮﻣﺔ ﺃﻧﻪ ﺧﻼ ﺑﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻓﻄﻠﺐ ﻣﻨﻪ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺃﻥ ﻳﺨﺒﺮﻩ ﺑﻤﺎ ﻳﻨﻘﻤﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﺬﻛﺮ اﻟﻤﺴﻮﺭ ﺃﻣﻮﺭا ﻓﻘﺎﻝ ﻳﺎ ﻣﺴﻮﺭ ﺃﻟﻚ ﺳﻴﺌﺎﺕ ﻗﺎﻝ ﻧﻌﻢ ﻗﺎﻝ ﺃﺗﺮﺟﻮ ﺃﻥ ﻳﻐﻔﺮﻫﺎ اﻟﻠﻪ ﻗﺎﻝ ﻧﻌﻢ ﻗﺎﻝ ﻓﻤﺎ ﺟﻌﻠﻚ ﺃﺭﺟﻰ ﻟﺮﺣﻤﺔ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﻲ ﻭﺇﻧﻲ ﻣﻊ ﺫﻟﻚ ﻭاﻟﻠﻪ ﻣﺎ ﺧﻴﺮﺕ ﺑﻴﻦ اﻟﻠﻪ ﻭﺑﻴﻦ ﺳﻮاﻩ ﺇﻻ اﺧﺘﺮﺕ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﺳﻮاﻩ ﻭﻭاﻟﻠﻪ ﻟﻤﺎ ﺃﻟﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺠﻬﺎﺩ ﻭﺇﻗﺎﻣﺔ اﻟﺤﺪﻭﺩ ﻭاﻷﻣﺮ ﺑﺎﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﻭاﻟﻨﻬﻲ ﻋﻦ اﻟﻤﻨﻜﺮ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﻋﻤﻠﻚ ﻭﺃﻧﺎ ﻋﻠﻰ ﺩﻳﻦ ﻳﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﺃﻫﻠﻪ اﻟﺤﺴﻨﺎﺕ ﻭﻳﺘﺠﺎﻭﺯ ﻟﻬﻢ ﻋﻦ اﻟﺴﻴﺌﺎﺕ
اور مسور بن مخرمہ سے مشہور حکایت ہے کہ وہ معاویہؓ کے پاس تنہائی میں گئے، تو معاویہؓ نے ان سے پوچھا: “کیا تم مجھے وہ باتیں بتاؤ گے جن پر تم مجھے ملامت کرتے ہو؟” تو مسورؓ نے کچھ باتیں ذکر کیں۔ اس پر معاویہؓ نے کہا: “اے مسور! کیا تمہارے پاس بھی کچھ برائیاں ہیں؟” انہوں نے کہا: “ہاں۔”
( حضرت معاویہؓ نے کہا:)
کیا تمہیں امید ہے کہ اللہ تمہاری ان (برائیوں) کو معاف کر دے گا؟
(مسورؓ نے) کہا: ہاں
(حضرت معاویہؓ نے) کہا: تو پھر کس بات نے تمہیں اللہ کی رحمت کی نسبت مجھ سے زیادہ پر امید بنا دیا، حالانکہ، واللہ! کبھی بھی مجھے اللہ اور کسی اور چیز کے درمیان اختیار دیا گیا تو میں نے ہمیشہ اللہ کو باقی ہر چیز پر ترجیح دی۔
اور خدا کی قسم! جو کچھ میرے ذریعے جہاد، حدود کا قیام، نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کے عمل میں حاصل ہوا، وہ تمہارے عمل سے بہتر ہے۔
اور میں ایسے دین پر ہوں کہ اللہ اس دین والوں کی نیکیوں کو قبول کرتا ہے اور ان کی برائیوں سے درگزر فرماتا ہے۔۔
[المنتقی من المنھاج الاعتدال ص250]
ان تصریحات کو بیان کرنے میں امام ذھبی اکیلے نہیں دیگر ائمہ نے بھی یہ زمینی حقائق بیان کیے۔ جس کو سمجھنے سے دونوں اطراف کے گروح صحابہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اور کسی سے حسن ظن کی کمی نہیں ہوتی۔
اسد الطحاوی الحنفی
