✍🏻 اسلام فقہ میں چار مشہور مذاہب (حنفی، مالکی، شافعی، اور حنبلی) کے علاوہ دوسرے مذاہب کیوں نہیں ہیں؟ ۔۔۔۔ 🎗️
مؤھل الدعا ؛ طهٰ رفیق
تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو، اسلام کے ابتدائی دور میں فقہ کے بہت سے مکاتب فکر موجود تھے۔ ان میں سے کچھ تو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گئے یا پھر ان کے پیروکاروں کی تعداد بہت کم ہو گئی۔ جو چار مذاہب آج ہم جانتے ہیں، وہ اس لیے باقی رہے کیونکہ ان کا فقہی طریقہ کار بہت منظم تھا، ان کے علمی اثرات بہت وسیع تھے، اور ان کے اصولوں کو تسلیم کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر، امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل کے فقہی اصولوں کو امت نے قبول کیا، جبکہ باقی مکاتب فکر اتنے مقبول نہ ہو سکے۔
علماء نے ان چار مذاہب کو اس لیے تسلیم کیا کیونکہ یہ قرآن اور سنت کی تشریح کرنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے جامع تھے۔ بعد میں، ان کے علاوہ نئے مذاہب کو شروع کرنے سے روکنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ امت میں اتحاد برقرار رہے اور اختلافات کی وجہ سے انتشار نہ پھیلے۔
کچھ مورخین یہ بھی کہتے ہیں کہ اجتہاد کا دور ختم ہو گیا ہے (یعنی نئے مسائل پر اپنی فقہی رائے دینے کا دور)، لیکن اس پر تمام علماء متفق نہیں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوا، لیکن اجتہاد کرنے کی کچھ سخت شرائط ہیں (مثلاً قرآن، سنت، عربی زبان، اور اصولِ فقہ میں گہری مہارت)۔ آج بھی مجتہدین نئے مسائل پر اپنی رائے دیتے ہیں، لیکن وہ کوئی نیا مذہب شروع نہیں کرتے، بلکہ موجودہ مذاہب کے اندر ہی رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔
آخر میں، ایک فقہی مذہب بنانے کے لیے ایک مکمل علمی نظام کی ضرورت ہوتی ہے (جس میں اصولِ فقہ، فقہی قواعد، اور مسائل کا ایک بڑا ذخیرہ شامل ہو)، اور یہ نظام صدیوں کی محنت سے بنتا ہے۔ موجودہ مذاہب اس معیار پر پورے اترتے ہیں۔ اگر کوئی نیا مذہب بنانا چاہے تو اسے نہ صرف امت کی طرف سے قبولیت حاصل کرنی ہوگی، بلکہ اس کے اصولوں کو قرآن اور سنت کے مطابق بھی ہونا پڑے گا، جو کہ ایک بہت مشکل کام ہے۔
اسلام میں اختلاف رائے کی گنجائش ہے، لیکن یہ اختلاف دین کے بنیادی عقائد اور اخلاقیات کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ یہ چاروں مذاہب اسی اصول پر قائم ہیں کہ امت کا اختلاف ایک رحمت ہے۔ اس لیے ان کے درمیان جو چھوٹے موٹے اختلافات ہیں، انہیں سوچنے سمجھنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
مختصر یہ کہ ان چار مذاہب کا وجود تاریخی، علمی، اور عملی وجوہات کا نتیجہ ہے۔ نئے مذاہب بنانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہیں جن کا پورا ہونا ضروری ہے، اور امت کی قبولیت بھی ضروری ہے۔ موجودہ مذاہب اتنے وسیع اور لچکدار ہیں کہ وہ ہر دور کے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔
