انہوں نے میزائل مارے اور پورے ملک میں اپنی بلے بلے کروالی اب وہ آسانی سے اگلے الیکشن جیت سکیں گی اور ان کے عوام اپنے ٹک ٹاک بنا سکیں گے کہ گھر میں گھس کر مار لیا
آپ نے بھئ ان کے طیارے گرا لئے اور اب آپ بھی اگلے کئی مہینوں تک اپنی بلے بلے کروا لیں اور ٹک ٹاک بنا لیں کہ ہم سو تھوڑا ہی رہے تھے
دونوں کی فیس سیونگ ہو گئی ہے ۔ اب بس کریں چپ کر کے اپنے اپنے کام پر لگیں ۔ جنگیں آپ دونوں ممالک کو سوٹ نہیں کرتیں
دنیا بھی اب آپ کی شرلیوں کو اہمیت نہین دیتی کوئی آپ کی صلح کرانے تک نۂیں آیا ۔ چین جس پر آپ ہر بار تکیہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں ۔ “افسوس ہے” کا بیان دیکر سائیڈ پر بیٹھ جاتا ہے
امریکی صدر کو پتہ چلتا ہے تو وہ کہتا ہے یہ صدیوں سے لڑ رہے ہیں خود ہی حل کر لیں گے ۔ یعنی اسے کوئی پرواہ ہی نہیں ہے
دونوں ممالک کے حکمران ہوش کے ناخن لیں جنکے عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں وہ بھڑکیں مارتے اچھے نہیں لگتے ۔
اب سکون سے بیٹھ کر سوچیں کہ اس حالیہ جنگ کا آپ کو کیا فائدہ پہنچا آپ نے ۳۱ سویلین پاکستان کے مار دہئے جن میں بچے اور عورتیں تھیں اور دعویٰ کیا کہ آتنک وادی تھی ان کی تصویریں دیکھ کر شرم کر لیں اور بقول آپ کے پندرہ بھارتی کراس فائرنگ میں مارے گئے
دونوں بیٹھ کر ان سویلین معصوم شہریوں کو جشن منائیں اور جنگی جنون میں مبتلا ٹک ٹاکروں اور پاگل جنونی صحافیوں کو ویوز لینے کا ایندھن مہیا کریں
لیکن اب خدارا مزید کوئی ایڈونچر نہ کریں ۔ اپنے سیف ہاؤس میں بیٹھ کر میزائل داغنے والوں کا کچھ نہیں جاتا اور سڑکوں پر نکل کر نعرے مارنے والے کے بچے ہلاک ہوتے ہیں
اگر کوئی دوسرا ملک صلح کروانے نہیں آرہا تو خود ہی سوچ لیں کیا کرنا ہے
محموداصغرچودھری
