ایران کی جس ایٹمی تنصیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کی سطح سے تقریباً 100 میٹر نیچے واقع ہے، وہ فوردو (Fordow) یورینیم افزودگی تنصیب ہے۔
اس کو امریکہ کا جو بم نشانہ بنا سکتا ہے وہ ہے:
GBU-57A/B MOP (Massive Ordnance Penetrator)
وزن: تقریباً 30,000 پاؤنڈ (13,600 کلوگرام)
گہرائی میں نفوذ (penetration): اندازاً 60 میٹر تک کنکریٹ یا 100+ میٹر مٹی یا نرم چٹان میں۔
مقصد: انتہائی گہرائی میں موجود اور مضبوط حفاظتی ڈھانچے والے اہداف کو تباہ کرنا۔
پلیٹ فارم: یہ بم B-2 اسپریٹ (B-2 Spirit) اسٹیلتھ بمبار طیارے سے گرایا جا سکتا ہے۔
کامیابی: اگرچہ فوردو بہت گہرائی میں ہے، MOP ہی واحد روایتی (non-nuclear) ہتھیار ہے جو ممکنہ طور پر اسے نقصان پہنچا سکتا ہے، خاص طور پر اگر کئی حملے مسلسل کیے جائیں۔
یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک سے زیادہ ایسے بم ایک ہی جگہ گرائے گئے تو اس ایٹمی تنصیب کا بچنا مشکل ہو جائے گا۔
اس بم کو بنانے کے لیے جو آر اینڈ ڈی، یعنی جو تحقیقی کام کیے گئے اور ٹیسٹ کیے گئے ان پر چالیس سے پچاس کروڑ ڈالرز خرچ آیا۔
جب امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایسی خونخوار ٹیکنالوجی بنا رہے تھے اس وقت مسلم دنیا کے حکمران مہنگی کشتیاں، اور سستی **** خریدنے میں۔۔ مغربی مصوروں کی پینٹنگز خریدنے میں، اپنی اور اپنے خاندانوں کے لیے مغربی ممالک کی سیریں کرنے اور ان کی شہریتیں حاصل کرنے میں، لندن میں مہنگے ترین فلیٹس اور تقریباً آدھا لندن خریدنے میں، گولڈ کی ملمع کاری والی اور ہیروں سے مرصع مہنگی ترین گاڑیاں خرید کر لشکارنے مارنے میں، دنیا کی بلند ترین عمارات بنانے کے جنون میں، مہنگے فیشن برانڈز کی مصنوعات خریدنے میں، مہنگی گاڑیوں کی ڈرفٹنگ یعنی “گھسیٹا لگانے” میں ، کوک پیپسیوں کے ساتھ بھنے ہوئے سالم اونٹ یا سالم بکرے کے پہاڑ بنا کر ان کو چکھ کے کوڑے میں پھینکنے میں مصروف تھے۔
نیز یہ مسلم دنیا کے انتہائی ذہین “شودروں” یعنی عجمیوں کو شہریتیں دینے سے انکاری تھے، جبکہ مغربی ممالک ان ہی ذہین لوگوں کو دھڑا دھڑ شہریتیں آفر کرنے اور “اپنا بنانے” میں مصروف تھے۔
لیکن یہی “مسلم” حکمران ان ہی ذہین لوگوں کو مغربی ممالک سے وفاداری کے حلف اٹھانے اور مغربی معاشروں سے برین واش ہو جانے پر ان کے مغربی پاسپورٹس دیکھ کر ان کی تنخواہ کئی گنا بڑھانے میں بھی مصروف تھے۔
ساتھ میں ان میں سے کچھ عراق و شام و یمن اور پاکستان میں رافضیت ، کف۔ فر اور فساد پھیلانے میں مصروف تھے، تاکہ جب ان کی اپنی شامت آ جائے تو مسلم دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ یہ تو خود بڑے ظالم تھے ان کی مدد کیوں کریں۔۔۔
ہاں البتہ۔۔۔ ان “مسلم” حکمرانوں نے بھوک سے بلکتے ، چیر پھاڑ ہوتے ، زندہ درگور ہوتے، اور زندہ جلتے فل۔ سطی۔ نی بچوں کے زخموں پر مرہم بہت رکھا ہے یار۔۔۔۔۔ انہوں نے نرسنگ بہت کی ہے۔ اس لیے ہمیں توازن سے کام لینا چاہیئے اور جو اچھا کام ان حکمرانوں نے کیا ہے اس کا ذکر کرتے رہنا چاہئے۔
تحریر: Usman EM
۔۔۔۔
۔۔۔۔
