Site icon اردو محفل

لَتَرۡكَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍؕ – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 19

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَتَرۡكَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍؕ ۞

ترجمہ:

تم ضرور درجہ بہ درجہ چڑھو گے

الانشقاق : ١٩ میں فرمایا : تم ضرور درجہ بہ درجہ چڑھو گے۔

انسانوں کا مختلف احوال اور منازل میں منتقل ہونا

اس آیت میں عام انسانوں اور کفار سے خطاب ہے اور اس کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) انسان پہلے مرحلہ میں گندے پانی کا قطرہ تھا، پھر اپنی تخلیق کے مراحل طے کرتا ہوا مکمل انسان بنا، پھر جوان ہوا، پھر ادھیڑ عمر کو پہنچا، پھر بوڑھا ہوا، پھر مرگیا اور قبر میں دفن ہوگیا، پھر برزخ میں آگیا، پھر حشر میں پہنچا، پھر اپنے ایمان اور اعمال کے اعتبار سے جنت میں گیا یا دوزخ میں جھونک دیا گیا، یوں انسان متعدد امور اور احوال میں منتقل ہوتا رہا، ایک امر کے بعد دوسرے امر کی طرف اور ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف منتقل ہوتا رہا اور ایک منزل کے بعد دوسری منزل میں پہنچتا رہا اور پھر اس کو دار ثواب یا دار عذاب میں خلود اور دوام حاصل ہوگیا۔

(٢) لوگ قیامت کے دن مختلف احوال اور شدائد کی طرف منتقل ہوتے رہیں گے، ایک شدت سے دوسری شدت کی طرف اور ایک ہول سے دوسرے ہول کی طرف، گویا کہ جب لوگوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت اور حشر کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے رات کی اور چاند کی قسم کھا کر فرمایا : قیامت ضرور واقع ہوگی اور تم ضرور میدان حشر میں جمع کیے جائو گے اور حشر کے ہولناک مناظر اور شدتوں کا سامنا کرو گے، حتیٰ کہ تمہارے حساب اور کتاب کے بعد تم کو جنت یا دوزخ میں داخل کردیا جائے گا، جیسا کہ اس آیت میں ہے :

قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ط (التغابن : ٧)

آپ کہیے : کیوں نہیں اور میرے رب کی قسم ! تم ضرور دوبارہ اٹھائے جائو گے، پھر تم کو تمہارے اعمال کی خبر دی جائے گی۔

(٣) قیامت کے دن لوگ دنیاوی احوال کے برعکس احوال میں منتقل ہوتے رہیں گے، جو شخص دنیا میں ذلیل اور حقیر کو سمجھا جاتا تھا وہ آخرت میں عزت اور وجاہت والا ہوگا اور جو دنیا میں عزت اور وجاہت والا تھا وہ آخرت میں ذلیل اور حقیر ہوگا، جو دنیا میں عیش و عشرت میں تھے وہ آخرت میں تنگ دست اور قلاش ہو گے اور جو دنیا میں تہی دست اور قلاش تھے وہ آخرت میں نعمتوں میں ہوں گے، قیامت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ۔ (الواقعہ : ٣) وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہے۔

اللہ کی اطاعت گزار بندوں کو یہ بلند کرنے والی ہے اور فساق فجار اور کفار کو یہ پست کرنے والی ہے، دنیا میں اہل ایمان ضعیف اور حقیر سمجھے جاتے تھے، وہ آخرت میں قوی اور معزز ہوں گے اور کفار دنیا میں قوی اور معزز سمجھے جاتے تھے، وہ آخرت میں ضعیف اور حقیر ہوں گے، اور اس سورت کی اس سے پہلے والی آیات کا بھی یہی مضمون ہے، ان آیات میں فرمایا ہے۔

سو جس شخص کا صحیفہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ تو اس سے عنقریب بہت آسان حساب لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے اہل کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ اور جس شخص کا صحیفہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ تو وہ عنقریب اپنی موت کی طلب کرے گا۔ اور بھڑکتی ہوئی آگ میں پہنچے گا۔ بیشک وہ ( دنیا میں) اپنے اہل میں بہت خوش تھا۔ اس کا گمان تھا کہ وہ اللہ کی طرف نہیں لوٹے گا۔ ( الانشقاق : ١٤۔ ٧)

(٤) تم لوگ ضرور اپنے سے پہلے کی امتوں کے طریقہ پر چلو گے، جس طرح وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت کی تکذیب کرتے تھے، اسی طرح تم بھی تکذیب کر گے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا درجہ بہ درجہ ترقی کرنا

اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے اور اس اعتبار سے اس کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مشرکین اور منکرین قیامت پر فتح اور غلبہ کی بشارت ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور چاند کی قسم کھا کر فرمایا : اے رسول مکرم ! ہم آپ کو ایک حالت سے دوسری حالت تک سوار کرتے رہیں گے اور آپ کو تدریجا ً غلبہ اور فتح سے ہم کنار کرتے رہیں گے حتیٰ کہ آپ اپنے مقصد میں سرخ رو ہوجائیں گے۔

(٢) ابتداء میں آپ پر فقر، شدت اور خوف کا جو حال تھا، بعد میں ہم آپ کو اس حال سے خوش حالی، عافیت اور امن کے حال کی طرف منتقل کردیں گے۔

(٣) ابتداء میں جو مشرکین آپ کے مخالف تھے ہم بعد میں ان کو آپ کے حامی اور انصار بنادیں گے۔

(٤) ہم آپ کو زمین کے طبقات سے آسمان کے طبقات پر سوار کریں گے تاکہ آپ ہماری نشانیوں کا مشاہدہ کریں اور جنت اور دوزخ کو ملاحظہ کریں۔

(٥) آپ درجہ بہ درجہ بلند منازل اور رفیع مراتب پر سوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے درجات کو حاصل کرتے رہیں گے۔

ایک طبقہ سے دوسرے طبقہ میں سوار ہونے کے متعلق احادیث اور اقوال مفسرین

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقہ کی اتباع کرو گے، بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ، حتیٰ کہ اگر پہلے لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تھے تو تم بھی داخل ہوگئے، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! یہود و نصاریٰ کے طریقہ پر ؟ آپ نے فرمایا : اور کس کے !

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٥٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤١٢٩ )

حضرت عبد اللہ عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت پر وہ احوال اور افعال ضرور طاری ہوں گے جو بنی اسرائیل پر طاری ہوئے تھے، برابر سرابر، حتیٰ کہ ان میں سے اگر کسی نے اپنی ماں کے ساتھ برسر عام بدکاری کی تو میری امت میں بھی کچھ لوگ ایسا کریں گے۔ الحدیث (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٦٤١، المستدرک ج ١ ص ١٢٩ )

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

امام ابن ابی حاتم اور امام ابن المنذر نے ” لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ۔ “ (الانشقاق : ١٩) کی تفسیر میں مکحول سے روایت کیا ہے کہ ہر بیس سال بعد تم میں وہ کیفیات ہوں گی جو تم میں پہلے نہیں تھیں۔

امام عبد بن حمید نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ لوگوں کے احوال بدلتے رہیں گے، وہ پہلے تنگ دست ہوں گے پھر خوش حال ہوجائیں گے اور پہلے خوش حال ہوں گے پھر تنگ دست ہوجائیں گے۔

امام ابن المنذر نے سعید بن جبیر سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ جو لوگ دنیا میں گھٹیا اور پست سمجھے جاتے تھے، وہ آخرت میں معزز ہوں گے اور جو لوگ دنیا میں معزز تھے وہ آخرت میں حقیر ہوں گے۔

(الدرالمنثور ج ٨ ص ٤٢٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 19

Exit mobile version