Site icon اردو محفل

وَاِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡؕ – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 3

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡؕ ۞

ترجمہ:

اور جب زمین پھیلا دے جائے گی.

الانشقاق : 4۔ 3 میں فرمایا : اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ باہر ڈال دے گی اور ہو جائیگی۔

زمین کو پھیلانے کے متعلق احادیث

زمین کو کھینچ کر پھیلانے کا ذکر ان احادیث میں ہے :

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ شب معراج رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے قیامت کا تذکرہ کیا، پہلے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے سوال کیا تو حضرت ابراہیم کو اس کا علم نہیں تھا، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا، ان کو بھی علم نہ تھا، پھر سب نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا، حضرت عیسیٰ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت سے پہلے مجھ کو زمین پر نازل فرمائے گا بہر حال قیامت کب آئے گی اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، پھر انہوں نے خروج دجال کا ذکر کیا اور فرمایا : میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا، لوگ اپنے شہروں کی طرف لوٹ جائیں گے اور یاجوج ماجوج ہر بلندی سے ان کے سامنے آئیں گے، وہ جس پانی کے پاس سے گزریں گے اس کو پی جائیں گے اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے اس کو خراب کردیں گے، پھر لوگ اللہ سے فریاد کریں گے، پس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کر دے، پھر روئے زمین میں ان کی لاشوں سے بدبو پھیل جائے گی، پھر لوگ اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے، میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا، وہ بارش ان کی لاشوں کو سمندر میں ڈال دے گی، پھر پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے اور زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ کر پھیلا دیا جائے گا اور مجھے بتایا گیا کہ جب یہ ہوگا کہ تو قیامت اس طرح اچانک آجائے گی جس طرح گھر والوں کو پتہ نہیں چلتا کہ حاملہ عورت کے کب بچہ ہوجاتا ہے۔ ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٨١، اس حدیث کی سند صحیح ہے)

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ زمین کو پھیلا دے گا حتیٰ کہ لوگوں کے لیے صرف اپنے قدموں کی جگہ ہوگی، پس سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا اور جبریل رحمن کی دائیں طرف ہوں گے، پس میں کہوں گا : اے میرے رب ! بیشک انہوں نے مجھے خبر دی تھی کہ تو نے ان کو میری طرف بھیجا ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ سچ ہے، پھر میں شفاعت کروں گا، پس میں کہوں گا : اے میرے رب ! تیرے بندوں نے اطراف زمین میں تیری عبادت کی ہے، علی بن حسین نے کہا : یہی مقام محمود ہے۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٨٤٥١، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام رازی فرماتے ہیں : زمین کی وسعت میں قیامت کے دن اضافہ کیا جائے گا کیونکہ اس دن اس میں تمام مخلوق حساب کے لیے کھڑی ہوگی، اور زمین میں اس دن اضافہ کرنا ضروری ہے خواہ زمین کو پھیلا کر اس میں اضافہ کیا جائے یا زمین کے طول و عرض میں زیادتی کر کے اس میں اضافہ کیا جائے۔

القرآن – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 3

Exit mobile version