بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ( ترک کی) مصیبت میں ڈالا، پھر انہوں نے توبہ نہیں کی ان کے لیے دوزخ کا ( عام) عذاب اور ( خصوصاً ) جلنے کا عذاب ہے۔
البروج : ١٠ میں فرمایا : بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ( آگ کی) مصیبت میں ڈالا، پھر انہوں نے توبہ نہیں کی، ان کے لیے دوزخ کا ( عام) عذاب ہے اور ( خصوصاً ) جلنے کا عذاب ہے۔
اس آیت میں ” فتنۃ “ کا لفظ ہے، ” فتنۃ “ کا معنی ہے : ابتلاء اور امتحان، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کفار نے مؤمنوں کو امتحان میں مبتلا کیا اور کفر نہ کرنے پر آگ کی خندق میں ڈال دیا اور بعض مفسرین نے کہا کہ ” فتنۃ “ کا معنی آگ میں جلانا ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : اس آیت کا معنی ہے : جن لوگوں نے مؤمنوں کو آگ میں جلا دیا۔
نیز اس آیت میں فرمایا : پھر انہوں نے توبہ نہیں کی، یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر وہ توبہ کرلیتے تو وہ اس وعید سے نکل آتے اور ان کو آخرت میں دوزخ کا عذاب نہ ہوتا، اور اس آیت میں یہ قطعی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ عمداً قتل کرنے والے کی توبہ بھی قبول کرلیتا ہے حضرت وخشی (رض) نے سید الشہداء حضرت حمزہ (رض) کو قتل کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور ان کو اسلام اور شرف صحابیت سے مشرف کردیا۔
اس آیت میں خندق میں مؤمنوں کو ڈالے والے ظالموں کے لیے دو عذابوں کا ذکر فرمایا ہے : ایک دوزخ کا عذاب ہے اور ایک جلنے کا عذاب ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دو جرم تھے : ایک کفر تھا اور دوسرا مؤمنوں کو جلانے کا تھا، ہرچند کہ دوزخ میں بھی جلانے کا عذاب ہے لیکن ان کو اس عذاب کے علاوہ شدید نوعیت کے جلانے کا عذاب بھی دیا جائے گا۔