Site icon اردو محفل

بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 16

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ۞

ترجمہ:

بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو

اعلیٰ : ١٦ میں فرمایا : بلکہ تم دنیا کی زندگی کی ترجیح دیتے ہو۔

دنیا کی لذتوں کو آخرت کی نعمتوں پر ترجیح دینے کی مذمت میں احادیث اور آثار

اس آیت کا معنی ہے کہ تم دنیا کے مشاغل اور دنیا کی لذات کو آخرت کے مشاغل اور آخرت کی لذات پر ترجیح دیتے ہو۔

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک خطبہ دیا، ہم میں سے جس نے اس کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے اس کو بھلا دیا اس نے بھلا دیا، اس خطبہ میں آپ نے قیام تک ہونے والے امور کو بیان فرما دیا، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : یہ دنیا سرسبز اور میٹھی ہے اور اللہ تم کو اس میں خلیفہ بنانے والا ہے، سو دیکھنے والا ہے کہ تم اس میں کیا عمل کرتے ہو، سنو ! تم دنیا اور عورتوں سے بچو۔ الحدیث۔

( مسند احمد ج ٣ ص ١٩ طبع قدیم، مسند احمد ج ١٧ ص ٢٢٧۔ رقم الحدیث : ١١١٤٣، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھنے کے بعد فرمایا : بیشک اللہ کی قسم ! میں اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے روئے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور بیشک مجھے یہ خطرہ نہیں ہے کہ میرے بعد تم سب مشرک ہو جائو گے لیکن مجھے تم پر یہ خطرہ ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرو گے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٤٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٢٢٣، مسند احمد ج ٤ ص ١٤٩ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے دنیا میں رغبت کی اور اس کی دنیا میں رغبت زیادہ ہوگئی تو جس قدر اس کی دنیا میں رغبت ہوگئی، اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اتنا اندھا کر دے گا اور جو دنیا میں بےرغبتی کرے گا اور اس کی امید کم کرے گا، اللہ اس کو پڑھنے کے بغیر علم عطاء فرمائے گا اور بغیر حصول ہدایت کے ہدایت عطاء فرمائے گا، نیز فرمایا : سنو ! تمہارے بعد ایسی قوم آئے گی جس کو بغیر قتل اور جبر کے حکومت حاصل نہیں ہوگی اور بغیر بخل اور عجز کے خوش حالی حاصل نہیں ہوگی اور بغیر دین سے نکلنے اور خواہش کی پیروی کے محبت حاصل نہیں ہوگی، سنو ! جس شخص نے ایسے زمانہ کو پایا اور حصول مال پر قدرت کے باوجود فقیر پر صبر کیا اور حصول عزت پر قدرت کے باوجود ذلت پر صبر کیا اور حصول ِ محبت پر قدرت کے باوجود بغض پر صبر کیا اور یہ صرف اللہ عزوجل کی رضا جوئی کے لیے کیا تو اللہ اس کو پچاس صدیقوں کا اجر عطاء فرمائے گا۔ ( حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٣٥، ملخصاً ، حسن بصری نے اس کو مرسلا ًروایت کیا ہے)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! یہ دنیا ہلاکت کا گھر ہے، ٹھہرنے کا گھر نہیں ہے، یہ غم کا گھر ہے، خوشی کا گھر نہیں ہے، جس نے دنیا کو پہچان لیا وہ دنیا کی کشادگی سے خوشی نہیں ہوگا اور دنیا کی شدت سے غم گین نہیں ہوگا، سنو ! اللہ نے دنیا کی آزمائش کا گھر بنایا ہے اور آخرت کو انجام کا گھر بنایا ہے، پس دنیا کی آزمائش کو آخرت کا ثواب بنادیا، اور آخرت کا ثواب دنیا کی آزمائش کا عوض ہے، پس اللہ تعالیٰ اچھی جزاء دینے کے لیے آزمائش کرتا ہے، پس تم دنیا کے میٹھے گھونٹ سے آخرت کی کڑواہٹ کی وجہ سے بچو اور اس کی لذتوں سے آخرت کے مصائب کی وجہ سے بچو اور اس گھر کو یاد کرنے کی کوشش نہ کرو جس کو ویران کرنے کا اللہ نے فیصلہ کرلیا ہے اور تم دنیا سے میلان نہ رکھو، جس سے اجتناب کا اللہ نے ارادہ فرمایا ہے ورنہ تم اللہ تعالیٰ کو نازراض کرنے والے اور اس کی سزا کے مستحق ہو گے۔

(الفردوس بما ثور الخطاب رقم الحدیث : ٨١٨٦)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے سب سے برے لوگ وہ ہیں جنکو نعمتوں سے غذا دی گئی، جو بہت لذیذ کھانا کھاتے ہیں اور بہت عمدہ کپڑے پہنتے ہیں، وہی یقینا میری امت کے سب سے برے لوگ ہیں اور جو شخص کسی ظالم سربراہ کی وجہ سے ملک سے بھاگے وہ نافرمان نہیں ہے بلکہ ظالم سربراہ ملک کا فرمان ہے، سنو ! خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ ( الفردوس بما ثور الخطاب رقم الحدیث : ٣٦٤٧ )

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے سورة الاعلیٰ پڑھی، جب وہ اس آیت پر پہنچے :” بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ “ ( الاعلیٰ : ١٦) تو انہوں نے پڑھنا چھوڑ دیا اور اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ہم نے آخرت کے اوپر دنیا کو ترجیح دے دی ہے، پھر انہوں نے کہا : ہم نے دنیا کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ ہم نے دنیا کی خوش نما چیزوں کو دنیا کی ( حسین) عورتوں کو اور دنیا کی کھانے پینے کی لذیذ چیزوں کو دیکھا اور آخرت کی نعمتیں ہم سے غائب تھی، اور ہم نے جلد ملنے والی چیزوں کو تاخیر سے ملنے والی نعمتوں پر ترجیح دی۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٨٦٥٨ )

 

القرآن – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 16

Exit mobile version