سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰٓىۙ سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 6
sulemansubhani
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰٓىۙ ۞
ترجمہ:
ہم عنقریب آپ کو قرآن پڑھائیں گے تو آپ نہیں بھولیں گے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم عنقریب آپ کو قرآن پڑھائیں گے تو آپ نہیں بھولیں گے۔ مگر جو اللہ چاہیے، بیشک وہ ہر ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ اور ہم آپ کے لیے سہولت کردیں گے۔ سو آپ نصیحت کرتے رہیے اگر نصیحت فائدہ دے۔ عنقریب وہی شخص نصحیت قبول کرے گا جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ اور اس نصیحت سے بڑا بدبخت دور رہے گا۔ جو بڑی آگ میں جائے گا۔ پھر وہ اس میں نہ مرے گا نہ جیئے گا۔ ( الاعلیٰ : ١٣۔ ٦)
اللہ تعالیٰ کے یاد کرانے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قرآن مجید نہ بھولنا اور اس کے ضمن میں۔۔۔۔ آپ کی نبوت کی دلیلیں
اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسبیح پڑھنے کا حکم دیا تھا، اور آپ کو معلوم تھا کہ کامل تسبیح جب ہوگی جب آپ قرآن کے موافق تسبیح پڑھیں، اس لیے آپ قرآن مجید کو یاد کرنے کی کوشش کرتے تھے، مبادا آپ قرآن مجید بھول جائیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لیے فرمایا : ہم عنقریب آپ کو قرآن پڑھائیں گے تو آپ نہیں بھولیں گے، دوسری وجہ یہ ہے کہ جب حضرت جبریل آپ پر قرآن نازل کرتے تو آپ جلدی جلدی دہرانے کی کوشش کرتے کہ آپ بھول نہ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے فرمایا : ہم عنقریب آپ کو پڑھائیں گے تو آپ نہیں بھولیں گے، اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے، ہم آپ کو قرآن پڑھائیں گے، اس کے حسب ذیل محامل ہیں :
(١) حضرت جبریل آپ کے سامنے متعدد بار قرآن مجید پڑھیں گے تو اس کو بار بار سن کر آپ کو خوب حفظ ہوجائے گا، پھر آپ نہیں بھولیں گے۔
(٢) ہم آپ کا سینہ کھول دیں گے اور آپ کی قوت ِ حافظہ کو اس قدر قوی کردیں گے کہ آپ کو پکا حفظ ہوجائے گا، پھر آپ نہیں بھولیں گے۔
(٣) آپ ہمیشہ تسبیح پڑھتے رہیے، ہم آپ کو عنقریب قرآن مجید پڑھائیں گے، جو تمام اولین اور آخرین کے علوم کا جامع ہے، اس میں آپ کی اور آپ کی قوم کا ذکر ہے، ہم اس کو آپ کے دل میں جمع کردیں گے اور اس پر عمل کرنا ہم آپکے لیے آسان کردیں گے۔
یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دو وجہوں سے دلالت کرتی ہے، ایک اس وجہ سے کہ آپ امی شخص تھے اور آپ کا اس ضخیم کتاب کو بغیر درس اور تکرار اور بغیر لکھنے کے یاد کرنا خلاف ِ عادت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت جبریل کے سامنے دہرانے سے منع فرما دیا تھا تو صرف ایک مرتبہ حضرت جبریل سے سن کر اس قدر ضخیم کتاب کو حفظ کرلینا غیرمعمولی اور خلاف ِ عادت کام ہے، اور یہ آپ کا زبردست معجزہ ہے اور آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ سورت الاعلیٰ مکہ میں نازل ہونے والی اوائل سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ آٹھویں سورت ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ پیش گوئی فرما دی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید کو نہیں بھولیں گے اور یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی اور یہ بھی آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔ باقی کسی موقع پر کسی ایک لفظ کی طرف توجہ کا مبذول نہ ہونا قرآن مجید بھولنے کو مستلزم نہیں ہے۔