بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی طرف سے غیرت کے اظہار پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جو جواب عطا فرمایا وہ آج بھی ہمارے ان نام نہاد غیرت مندوں کی آنکھیں
کھول دینے کے لیے کافی ہے۔۔۔۔
علامہ عبدالمجید
یوٹیوب پر وزٹ فرمائیے #ضیائے شریعت
غیرت کے نام پر جان لینا اور اسلامی تعلیمات
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
معزز ناظرین کرام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک مشہور صحابی ہیں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ ان کا ایک جملہ آپ تک پہنچایا جاتا ہے آپ تک ایک جملہ لایا جاتا ہے
اور وہ جملہ ایسا تھا کہ جس نے مدینہ کی فضاؤں میں ایک ارتیاش سا پیدا کر دیا تھا لوگ بڑی تعجب کے ساتھ اس جملے کو لے کر ادھر ادھر جو ہے وہ پہنچا رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک یہ جملہ پہنچا کہ حضرت سعد بن عبادہ نے یہ کہا ہے کہ اگر میں اپنی زوجہ کے ساتھ کسی شخص کو نازیبہ حالت میں پاؤں تو میں اسے قتل کر دوں گا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارسال فرمایا کہ کیا تمہیں سعد بن عبادہ کی غیرت پر تعجب ہو رہا ہے آپ نے فرمایا میں اس سے بڑھ کر غیرت والا ہوں اور اللہ رب العزت ہم دونوں سے ہم سب سے بڑھ کر غیرت والا ہے اور اسی غیرت کی وجہ سے اس نے ان تمام فواحش کو حرام قرار دیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گویا کہ کہنے کا مقصد اور مطلب یہ تھا ارادہ آپ کا یہ تھا مراد یہ تھی کہ جب شریعت کے بانی ہونے کی حیثیت سے شریعہ حکام کے معاملہ میں اتنا غیرت مند ہونے کے باوجود اس ماحول کے اندر اس سیچویشن کے اندر جب شریعت کے کسی بھی بانی نے اللہ تبارک و تعالی بنیادی شریعت کا اس شریعت کا بانی ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس شریعت کے بانی ہیں تو حضور نے صاحب فرمایا کہ جب ہم دونوں میں سے کسی نے قتل کا حکم نہیں دیا اس سیچویشن میں بغیر کسی ثبوت کے گواہوں کے اور بغیر کوئی قاضی کے پاس کیس لائے تو پھر سعد کون ہوتا ہے جو اس طریقے سے اس انداز سے قتل کر دینے کا اندیا دیتا ہے اشارہ دیتا ہے اور اس طرح اعلان کرتا ہے تو یہ گویا کہ بین السطور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ تھا تو آج ہم جس قربناک واقعے کے ایک تذکرہ لے کر یہاں پر آئے ہیں اور جو سوشل میڈیا پر اس کے حوالے سے چیزیں پھیلی ہوئی ہیں یہ قطعا اسلامی معاشرہ نہیں ہو سکتا یہ قطا وہ معاشرہ نہیں ہے جس کی بنیاد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی اور رکھنا چاہتے تھے اور اس معاشرے پر اور اسے بنیاد پر معاشرے کو چلانا بھی چاہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آ کر عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اگر اپنی زوجہ کے ساتھ کسی کو نازیبہ حالت میں دیکھوں تو کیا میں گواہ لینے کے لئے چل پڑوں یعنی وہ تعجب کا اظہار کر رہا تھا کہ یہ کیسا آپ کا شرعی حکم ہے کہ میں ادھر اپنی آنکھوں سے ایک منظر دیکھ رہا ہوں اور واضح طور پر مجھے پتا ہے کہ اس طرح ایک غیر شرعی کام ہو رہا ہے تو کیا میں بجائے اس کے کہ انتہائی قدم اٹھاؤں میں اس کو قتل کر دوں وہاں پر اس آدمی کو بھی یا اس زوجہ کو تو کیا میں گواہ لینے کے لئے چل پڑوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے ضبط کے ساتھ بڑے تحمل کے ساتھ صرف اتنا رشاہ فرمایا نعم ہاں تمہیں گواہ ہی ڈھونڈ کے لانے پڑیں گے تمہیں اپنی طرف سے اس طرح کا انتہائی خدم اٹھانے کی اجازت نہیں ہے کہ تم خود شریعت ہاتھ میں لے کر وہاں پر شریعت کے اتنے ٹھیکے دار بن کر وہاں شریعت نافذ کرتے پھرو تمہیں شریعت کے پروٹوکول کو شریعت کے پراسس کو بہرحال فالو کرنا پڑے گا جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنے پاکیزہ معاشرے کے اندر صحابہ کرام کو اس طرح کی کوئی اجازت نہیں عطا فرمائی تو ہمارے اس معاشرے کے اندر ایک جائز شرعی کام کے اوپر فقط اپنی غیرت کے نام پر اپنی نام نہاد غیرت کے نام پر اس طرح قتل کی اجازت یہ اسلام نہیں دے سکتا یہ معاشرہ نہ اسلام کا معاشرہ ہے نہ یہ معاشرہ قرآن کا معاشرہ ہے اور نہ یہ معاشرہ مصطفیٰ اور مصطفیٰ کے خدا کا معاشرہ ہے یہ معاشرہ وہ ہے جس کی بنیادوں کے اندر ابلیس کے افکار اور ابلیس کے خیالات چل پھر رہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آ کر عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امراتی لا تمنع یدہ لا مصن میری جو زوجہ ہے وہ اپنی طرف بڑھنے والے کسی ہاتھ کو نہیں جھٹکتی یعنی وہ جو بھی اس کو برائی کے طرف رستے پر لے کے چلنا چاہے وہ اس کے ساتھ چل پڑتی ہے تو حضور نے صاف فرمایا اسے طلاق دے دو یعنی کوئی قتل کا حکم نہیں دیا کوئی ایسا انتہائی قدم اٹھانے کا حکم نہیں فرمایا اصاف فرمایا طلاق دے دو تو اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیکن اس کے باوجود مجھے اس سے محبت بھی بڑی ہے تو حضور نے ارشاہ فرمایا پھر گزارہ کرو پھر اس کے ساتھ اپنے آپ کو بڑے ضبط اور تحمل کے ساتھ زندگی بسر کرو تمہیں کسی بھی انداز میں کسی بھی طرح اسے قتل کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے تو جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان واقعات کے اندر اس ماحول میں قتل کرنے کی اجازت اتاہ نہیں فرمائی تو پھر پسند کی شادی کرنے کی وجہ سے صرف اس وجہ سے کہ ایک خاتون نے نکاح کیا ہے بجائے ایک ناجائز تعلق قائم کرنے کے اس نے نکاح کو ترجیح دی ہے شریعت کے اصولوں کے مطابق ایک پاکیزہ رشتے کے اندر اپنے آپ کو جوڑنے کا اس نے اعلان کیا ہے تو کیا صرف اس بنا پر اسے قتل کر دیا جائے یہ یقیناً قرآن کا معاصرہ نہیں ہے یہ یقیناً صاحبِ قرآن کا معاصرہ نہیں ہے نہ یہ مصطفیٰ کا معاصرہ ہے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور نہ یہ مصطفیٰ کے خدا کا معاصرہ ہے اللہ تبارک وطالعہ ہمیں اپنے اس عوام کی اور اپنے تمام لوگوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کرنے کی توفیق دے اور اس حوالے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے علماء اور ہماری جو حکومت وقت ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے کے اندر اسلامی اخلاقی اقدار کو رائج کرنے کے لئے ایک ایمرجنسی جس طرح ایک نافذ کی جاتی ہے اس سطح پر یہ اقدامات اٹھائے جائیں اللہ تبارک و تعالی ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے السلام علیکم و رحمت اللہ
