کیا یہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بنایا گیا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا یہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بنایا گیا ہے۔ اور آسمان کو کہ وہ کیسے بلند کیا گیا ہے۔ اور پہاڑوں کو کہ وہ کیسے نصب کیے گئے ہیں۔ اور زمین کو کہ وہ کیسے پھیلائی گئی ہے۔ سو آپ نصیحت کرتے رہیں، آپ ہی نصیحت کرنے والے ہیں۔ آپ ان کو جبراً مسلمان کرنے والے نہیں ہیں۔ مگر جو حق سے پشت پھیرے اور کفر کرے۔ تو اللہ اس کو بہت بڑا عذاب دے گا۔ بیشک ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے۔ پھر بیشک ہم پر ہی ان کا حساب ہے۔
(الغاشیہ : ٢٦۔ ١٧)
اونٹ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور توحید کی نشانیاں
اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے آنے کی خبر دی تھی اور یہ بتایا تھا کہ اہل قیامت کی دو قسمیں ہیں : ایک مؤمنین ہیں جو نجات یافتہ ہیں اور دوسرے کافرین ہیں جو عذاب یافتہ ہیں، اور قیامت کے دن پر اور عذاب اور ثواب پر ایمان لانا اس پر موقوف ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کا واحد خالق اور مدبر اور حکیم مانا جائے، اس لیے اب درج ذیل آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور توحید اور اس کی قدرت اور اس کی حکمت پر دلائل قائم فرمائے ہیں۔
الغاشیہ : ١٧ میں اونٹ کی تخلیق کا ذکر فرمایا، اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے تمام حیوانات اس کی تخلیق اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ تمام حیوانات کی پیدائش اور ان کی نشو و نما کا طریقہ واحد ہے اور ان کی تخلیق کی طرز اور نظم واحد ہے اور تخلیق کی طرز کا واحد ہونا اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کا خالق بھی واحد ہے، پھر ان تمام حیوانات اور چوپایوں میں سے اونٹ کی تخصیص کی وجوہ حسب ذیل ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے حیوانات میں جو منافع اور فوائد رکھے ہیں، وہ یہ ہیں : انسان بعض جانوروں کا گوشت کھاتا ہے اور بعض جانوروں کا دودھ پیتا ہے، بعض جانوروں پر اپنا سامان لادتا ہے اور بعض جانوروں پر سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتا ہے، اور بعض جانوروں کو صرف ان کی خوب صورتی اور ان کا حسن و جمال دیکھنے کے لیے رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیات میں ان فوائد کا ذکر فرمایا ہے :
کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے جو مخلوق بنائی ہے، ان میں سے ہم نے ان کے فائدہ کے لیے چو پائے بھی بنائے ہیں، جن کے یہ مالک ہیں۔ اور ہم نے ان چوپایوں کو ان کے تابع کردیا ہے، سو ان میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں۔
اور اللہ نے تمہارے نفع کے لیے چوپائے پیدا کیے جن میں تمہارے گرمی کے لباس ہیں اور بھی بہت منافع ہیں اور بعض چوپائے تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں۔ اور ان چوپائوں میں تمہارے لیے حسن و جمال ہے جب تم شام کو چرا کر لائو اور جب صبح چرانے لے جائو۔ اور وہ تمہارا سامان ان شہروں تک اٹھا کرلے جاتے ہیں جہاں تم بغیر مشقت برداشت کیے خود نہیں جاسکتے تھے، بیشک تمہارا رب بہت شفیق اور نہایت مہربان ہے۔ اور اس نے گھوڑوں کو اور خچروں کو اور گدھوں کو پیدا کیا تاکہ تم ان پر سوارہو، اور وہ باعث ِ زینت ہوں، اور ان چیزوں کو پیدا کیا جن کو تم نہیں جانتے۔
ان آیات میں مویشی کو پیدا کرنے کے یہ فوائد بیان فرمائے ہیں کہ تم ان پر سواری کرتے ہو، ان کا گوشت کھاتے ہو، ان کی اون اور بالوں سے لباس اور ٹوپیاں بناتے ہو، ان کا حسن و جمال دیکھ کر تمہیں خوشی ہوتی ہے اور وہ تمہارے بار برداری کے کام آتے ہیں اور ان میں سے بعض کا تم دودھ پیتے ہو، اور یہ تمام فوائد اونٹ کے اندر باقی تمام جانوروں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہیں کیونکہ اگر حلال جانوروں کے گوشت کھانے کا فائدہ دیکھا جائے تو اونٹ کا گوشت سب سے زیادہ ہوتا ہے اور اگر دودھ پینے کا فائدہ دیکھا جائے تو اونٹنی کا دودھ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور اگر جانوروں پر سوار ہو کر قطع مسافت کو دیکھا جائے تو ریگستانی علاقوں میں اونٹ سب سے زیادہ مسافت قطع کرتا ہے بلکہ ان علاقوں میں صرف اونٹ ہی کے ذریعہ سفر کیا جاتا ہے، اور بار برداری کے لحاظ سے اونٹ تمام جانوروں سے زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے، اور عربوں کے دلوں میں تمام جانوروں سے زیادہ اونٹ کی وفعت اور اہمیت ہوتی ہے، اسی وجہ سے انہوں نے کسی انسان کو خطا ًقتل کرنے کی دیت سو اونٹ مقرر کی ہے، نیز اونٹ دوسرے جانوں کی بہ نسبت کئی کئی دن کی خوراک کو اپنے اندر ذخیرہ کرلیتا ہے اور بغیر کھائے پیئے لمبے عرصہ تک سفر کرتارہتا ہے، اسی لیے اس کو صحرائی جہاز کہا جاتا ہے، نیز یہ بہت آسانی سے سدھایا جاتا ہے اور بہت اطاعت گزار ہے، اس کی نکیل کی رسی کو پکڑ کر اس بچہ بھی اسے جہاں چاہتا ہے لے جاتا ہے، اونٹ میں اس قدر حیران کن صفات ہیں جو عقل والے کو اس پر مجبور کرتی ہیں کہ وہ اس کی تخلیق پر غور کرے اور اس کی حکمتوں سے یہ قیاس کرے کہ اس کا خالق کس قدر زبردست قدرت اور حکمت والا ہے اور بےساختہ یہ کہے کہ ” سبحان اللہ ما خلق باطلا “ اللہ سبحان ہے اس نے کوئی چیز بےفائدہ نہیں بنائی۔