الغاشیہ : ٤ میں فرمایا : وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔
اس آیت میں ” تصلیٰ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : کسی جگہ داخل ہونا اور کسی جگہ پہنچنا۔
اور اس آیت میں ” حامیۃ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : دہکتی ہوئی جلتی ہوئی آگ، یہ لفظ ” حمی “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے، دہکنا اور گرم ہونا۔ ( مختار الصحاح ص ١٠٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت) اور ” تصلی “ کا لفظ ’ ’ صلی “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے، داخل ہونا، اس سے مراد ہے : وہ دوزخ میں جھونکے گئے اور جل رہے ہیں۔