اور اگر آپ کا رب چاہتا تو روئے زمین کے تمام لوگ سب کے سب ایمان لے آتے، تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے حتیٰ کہ وہ سب مومن ہوجائیں گے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چاہتے تھے کہ تمام مشرکین مومن اور مؤحد ہوجائیں اور آپ کی ان تھک تبلیغ کرنے کے باوجود ان کے ایمان نہ لانے سے آپ بہت رنجیدہ اور غم گین ہوتے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کے رنج کے ازالہ اور آپ کی تسلی کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کہ اگر آپ کا رب چاہتا تو روئے زمین کے تمام لوگ ایک ساتھ ایمان لے آتے، لیکن اللہ سبحانہ ٗنے ایسا نہیں چاہا کیونکہ سب لوگوں کو جبراً مومن بنادینا، اس کی حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حق اور باطل میں تمیز کرنے کے لیے عقل دی ہے اور اس کو اختیار عطاء فرمایا ہے، وہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی عقل سے کھوٹے کھرے کو پرکھ کر اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اس کی تخلیق، اس کی توحید اور اس کی قدرت اور اس کی حکمت پر ایمان لائے۔ اس آیت میں فرقہ جبریہ کا رد ہے، جو یہ کہتا ہے کہ انسان کو کسی چیز کا اختیار نہیں ہے، انسان کا مومن ہونا یا انسان کا کافر ہونا، یا انسان کا نیک اور صالح ہونا، یا اس کا فاسق اور فاجر ہونا، سب اللہ کے کرنے سے ہوتا ہے اور انسان اپنے تمام افعال میں مجبور محض ہے۔ ان کا یہ نظریہ ہدایتہ باطل ہے، اگر ایسا ہو تو دنیا میں رسولوں کو ہدایت کے لیے بھیجنا اور جنت اور دوزخ کو پیدا کرنا اور جزاء اور سزا کا نظام بنانا یہ سب عبث اور فائدہ ہوجائے گا۔