الغاشیہ : ٢ میں فرمایا : اس دن بہت چہرے ذلیل ہوں گے۔
اس آیت میں ” خاشعۃ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : ذلیل و خوار ہونے والے، دینے والے، عاجزی کرنے والے۔
اس آیت کا لفظی معنی ہے : کفار کے چہرے اس دن ذلیل و خوار ہوں گے اور اس سے مراد ہے : خود کفار اس دن ذلیل و خوار ہوں گے، چہروں کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ ان کی ذلت اور خواری کے آثار ان کے چہروں سے ظاہر ہوں گے، قرآن مجید کی دیگر آیتوں میں بھی کفار کی ذلت اور خواری کا ذکر فرمایا ہے :