Site icon اردو محفل

اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 6

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے انہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟۔ وہ ارم کے لوگ تھے ستونوں جیسے لمبے قدوالے۔ ان کی مثل شہروں میں کوئی پیدا نہیں کیا گیا۔ اور ثمود کے لوگ تھے جنہوں نے وادی میں پتھروں کی چٹانیں تراشیں۔ اور میخوں والا فرعون تھا۔ ان لوگوں نے شہروں میں بہت سرکشی کی۔ پھر ان شہروں میں بہت دہشت گردی کی۔ پھر آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ بیشک آپ کا رب ( ان کی) گھات میں ہے۔

( الفجر : ١٤۔ ٦)

عام، ثمود اور قوم ِ فرعون کا عذاب

امام رازی فرماتے ہیں : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ” والفجر “ وغیرہ کی قسم کھائی ہے، اس کے جواب کے دو محمل ہیں :

ایک یہ کہ بیشک آپ کا رب گھات میں ہے اور دوسرا یہ کہ پھر آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا، لیکن پہلا محمل اولیٰ ہے۔

الفجر : ٦ میں فرمایا ہے : کیا آپ نے نہیں دیکھا ؟ اس کا معنی ہے : کیا آپ کو نہیں معلوم ؟ اس لیے کہ عاد اور ثمود اور فرعون کی خبریں، عرب میں تواتر کے ساتھ منقول تھیں، ان آیتوں میں بہ ظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے، لیکن یہ خطاب ہر شخص کو عام ہے، اور اس سے مقصود کفارِ مکہ کو زجر و توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ ہے کہ اگر وہ اسی طرح کفر اور شرک پر اڑے رہے تو یہ خطرہ ہے کہ ان پر بھی وہی عذاب آجائے جو عاد اور ثمود اور قوم فرعون پر آچکا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کفار کی تین قوموں کا اجمالاً ذکر فرمایا ہے اور یہ فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا لیکن ان کے عذاب کی کیفیت بیان نہیں فرمائی، البتہ سورة الحاقہ میں ان قوموں کے عذاب کی کیفیت بیان فرمائی ہے۔

قوم ثمود کے عذاب کی کیفیت کے متعلق فرمایا :

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُھْلِکُوْا بِالطَّاغِیَۃِ ۔ (الحاقہ : ٥) رہے ثمود تو ان کو ایک چنگھاڑ سے ہلاک کردیا گیا۔

اور قوم عاد کے عذاب کی کیفیت کے متعلق فرمایا :

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُہْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۔ (الحاقہ : ٦)

اور رہے عاد تو ان کو گرجتی ہوئی تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔

اور فرعون کے عذاب کے متعلق فرمایا :

وَجَآئَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَہٗ وَالْمُؤْتَفِکٰتُ بِالْخَاطِئَۃِ ۔ (الحاقہ : ٩)

اور فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور وہ جن کی بستیاں الٹ دی گئی تھیں انہوں نے گناہ کیے۔

فرعون اور اس کی قوم کے عذاب کی تفصیل ان آیتوں میں ہے :

وَجٰـوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُہٗ بَغْیًا وَّعَدْوًاط حَتَّٰی اِذَآ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُلا قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰـہَ الِاَّ الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَآئِ یْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ آٰ لْئٰنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃًط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ ۔ (یونس : ٩٠۔ ٩٢)

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار گزار دیا، پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے ان کا تعاقب کیا، حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو اس نے کہا : میں ایمان لایا کہ اس ذات کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں بھی مسلمانوں میں سے ہوں۔ ( جواب آیا :) اب ایمان لایا ہے اور اس سے پہلے تو سرکشی کرنے والوں میں سے تھا۔ پس آج ہم صرف تیرے بدن کو نجات دیں گے تاکہ تو بعد والوں کے لیے نشان ِ عبرت ہوجائے، اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

قوم عاد کا تعارف

عام کا نام ہے : عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح، پھر لفظ عاد اس کے قبیلہ کا نام بن گیا، پھر اس قبیلہ کے متقدمین کو عاد اولیٰ کہا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے :” وانہ اھلک عاد الاولیٰ “ (النجم : ٥٠) بیشک اس نے عاد اولیٰ کو ہلاک کردیا، اور متأخرین کو عاد الاخیرۃ کہا جاتا ہے، اور رہا ارم تو وہ عاد کے دادا کا نام ہے اور اس آیت میں ارم سے کون مراد ہے ؟ اس میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) اس سے مراد قبیلہ عاد کے متقدمین ہیں، جن کو عاد اولیٰ کہا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کو ان کے داد ا کے نام پر ارم کہتے ہیں۔

(٢) جس شہر میں یہ لوگ رہتے تھے، اس کا نام ارم تھا اور یہ اسکندریہ تھا اور ایک قوم ہے کہ یہ شہر دمشق تھا، اس پر یہ اعتراض ہے کہ قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ قوم عاد ریگستان کے بلند ٹیلوں میں رہتی تھی اور اسکندریہ اور دمشق میں ریگستان کے بلند ٹیلے نہیں ہیں، قرآن مجید میں ہے :

وَاذْکُرْ اَخَا عَادٍط اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗ بِالْاَحْقَافِ (الاحقاف : ٢١ )

اور عاد کے بھائی کو یاد کرو جب اس نے اپنی قوم کو ریگستان میں ڈرایا۔

(٣) ارم اس قوم کا نام ہے جو میناروں کی شکل میں یا قبروں کی شکل میں پہاڑوں کے اندر اپنے گھر بناتی تھی۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 6

Exit mobile version