Site icon اردو محفل

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِؕ – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 14

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِؕ ۞

ترجمہ:

بیشک آپ کا رب ( ان کی) گھات میں ہے.

الفجر : ١٤ میں فرمایا : بیشک آپ کا رب ( ان کی) گھات میں ہے۔

” مرصاد “ کا معنی

” مرصاد “ کا معنی ہے : گھات لگانے کی جگہ یعنی کسی کا انتظار کرنے کا مقام، جو شخص گھات لگا کر کسی پوشیدہ مقام میں بیٹھا ہو، اس کے پاس سے گزرنے والا دشمن اس سے بچ کر گزر نہیں سکتا اور اس کا دشمن اس سے چھپا نہیں رہ سکتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی در پردہ بندوں کے تمام اعمال سے باخبر ہے، اس سے بچ کر یا اس سے چھپ کر کوئی بندہ کوئی کام نہیں کرسکتا، گھات لگانے کے چار اجزا ہیں : (١) گھات لگانے کا مقام دشمن سے مخفی ہو (٢) دشمن کی گزر گاہ ہو (٣) جہاں گھات لگا کر بیٹھنے والے کو دشمن کے احوال کی خبر ہوجائے (٤) دشمن گھات لگانے والے کی گرفت سے بچ نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ جو گھات لگاتا ہے اس میں یہ چاروں امور متحقق ہیں، بندوں کو نہیں معلوم کہ اللہ کے علم کا کیا ذریعہ ہے اور وہ کس طرح ہمارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور کہاں سے دیکھ رہا ہے، زندگی کا راستہ سب کو طے کرنا ہے، سب اس راستہ سے گزر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام اقوال اور اعمال اور احوال کا، کامل علم ہے اور اس کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔

حسن اور عکرمہ نے کہا : اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کو دیکھ رہا ہے تاکہ اس کے مطابق اس کو جزا دے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : جہنم کے اوپر سات پل ہیں، پہلے پل پر انسان سے اس کے ایمان کے متعلق سوال کیا جائے گا، اگر وہاں سے نجات ہوگئی تو پھر وہ دوسرے پل پر آئے گا، وہاں اس سے نماز کے متعلق سوال کیا جائے گا، اگر اس سے نجات ہوگئی تو تیسرے پل پر آئے گا، پھر اس سے زکوٰۃ کے متعلق سوال کیا جائے گا، اگر وہاں سے گزر گیا تو پھر وہ چوتھے پل پر آئے گا، پھر اس سے ماہ رمضان کے روزوں کے متعلق سوال کیا جائے گا، اگر روزے پورے تھے تو پھر وہ پانچویں پل پر آئے گا، وہاں اس سے حج اور عمرہ کے متعلق سوال کیا جائے گا، اگر وہاں سے گزر گیا تو پھر ساتویں پل پر آئے گا، وہاں اس سے لوگوں کے حقوق کے متعلق سوال کیا جائے گا، ایک منادی ندا کرے گا : جس کسی کا اس پر حق ہے وہ آ کر اس سے وصول کرلے اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا معنی ہے : بیشک آپ کا رب ( ان کی) گھات میں ہے۔ ثوری نے کہا : جہنم پر تین پل ہیں، ایک پل میں رحم ہے، دوسرے میں امانت ہے اور تیسرے میں رب تبارک و تعالیٰ ہے، یعنی اس کی حکمت، اس کا ارادہ اور اس امر کا ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : آپ کا رب ان کی گھات میں ہے یعنی ان کی باتیں سن رہا ہے اور ان کے اعمال دیکھ رہا ہے، ان کی سرگوشیوں کو سنتا ہے اور ان کے پوشیدہ اعمال کو دیکھ رہا ہے اور سب کو ان کے اعمال کے موافق جزاء دے گا۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٤٥، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 14

Exit mobile version