الفجر : ٥ میں فرمایا : بیشک اس میں صاحب عقل کے لیے بہت بڑی قسم ہے۔
” ذی حجر “ کا معنی
اس آیت میں ” ذی حجر “ کا لفظ ہے، ” حجر “ عقل کو کہتے ہیں کیونکہ عقل انسان کو غلط اور نا مناسب کام کرنے سے روکتی ہے، اور ” حجر “ کا معنی ہے : کسی کام سے منع کرنا اور روکنا، الفراء نے کہا ہے : جو شخص اپنے نفس پر قاہر ہو اور اپنے نفس پر ضبط کرنے والا ہو، اس کو عرب ” ذو حجر “ کہتے ہیں۔
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو شخص صاحب ِ عقل ہو، وہ جان لے گا، یہ مذکورہ چیزیں بہت عجیب و غریب ہیں اور ان میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ربوبیت پر بہت دلائل ہیں اور یہ چیزیں خالق کے وجود پر دلالت کرتی ہیں، اس لیے یہ چیزیں اس لائق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔