Site icon اردو محفل

وَالۡفَجۡرِۙ سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 1

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡفَجۡرِۙ ۞

ترجمہ:

اور فجر کی قسم

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور فجر کی قسم۔ اور دس راتوں کی۔ اور جفت اور طاق کی۔ اور رات کی ( قسم) جب وہ گزرے۔ بیشک اس میں صاحب عقل کے لیے بہت بڑی قسم ہے۔ ( الفجر : ٥۔ ١)

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فجر، دس راتوں، جفت اور طاق اور گزرنے والی رات کی قسم کھائی ہے، عرب ان چیزوں کی قسم کھاتے ہیں جو ان کے نزدیک عظمت والی ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی قسم کھا کر یہ ظاہر فرمایا کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظمت والی ہیں، اور یہ چیزیں اس لیے عظیم ہیں کہ ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور توحید پر دلائل ہیں اور مخلوق پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔

اس آیت میں فجر سے کون سی فجر مراد ہے ؟ اس میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں، امام رازی نے ان تمام اقوال کو جمع کرلیا ہے، ہم یہاں پر ان اقوال کا تفصیل سے ذکر کر رہے ہیں :

الفجر سے مراد معروف صبح ہے اور اس کی فضلیت

حضرت ابن عباس (رض) نے ذکر کیا ہے کہ فجر سے مراد معروف صبح ہے، اور وہ صبح صادق کا صبح کا ذب سے پھٹ کر نمودار ہونا ہے، اس وقت رات ختم ہوجاتی ہے اور روشنی پھیل جاتی ہے اور انسان، حیوان، پرندے اور وحشی جانور سب اپنے اپنے رزق کی تلاش میں نکل جاتے ہیں، اور اس میں اس کی مثال ہے جب مردے اپنی اپنی قبروں سے نکل کر کھڑے ہوں گے سو اس میں غور و فکر کر کے اس وقت کو یاد کرنا چاہیے، صبح کے وقت کی اہمیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں صبح کا ذکر فرمایا ہے :

والصبح اذا اسفر۔ ( المدثر : ٣٤) اور صبح کی قسم ! جب روشن ہوجائے۔

والصبح اذا تنفس۔ ( التکویر : ١٨) اور صبح کی قسم ! جب وہ طلوع ہوجائے۔

اللہ تعالیٰ نے صبح کے خالق ہونے پر اپنی مدح فرمائی ہے :

فالق الاصباح ( الانعام : ٩٦) وہ صبح کو نکالنے والا ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ الفجر سے مراد نماز فجر ہے اور اللہ تعالیٰ نے نماز فجر کی اس لیے قسم کھائی ہے کہ وہ دن کے شروع میں پڑھی جاتی ہے اور اس میں رات اور دن کے فرشتے جمع ہوجاتے ہیں، جیسا کہ اس آیت میں ہے :

ان قران الفجرگان مشھودا۔ ( بنی اسرائیل : ٧٨) بیشک فجر میں قرآن پڑھنے پر ( فرشتے) حاضر ہوتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بان کرتے ہیں کہ تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہتے ہیں اور فجر کی نماز میں اور عصر کی نماز میں جمع ہوجاتے ہیں، پھر جو فرشتے ساری رات تمہارے ساتھ رہے تھے، وہ فجر کے وقت آسمان پر جاتے ہیں، ان سے ان کا رب سوال کرتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ جاننے والا ہے : تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں : جب ہم نے ان کو چھوڑا تو وہ ( فجر کی) نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس آئے تھے وہ ( عصر کی) نماز پڑھ رہے تھے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٣٢، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٤٨٦، السنن الکبریٰ ، للنسائی رقم الحدیث : ١٧٧٢٠ )

تیسرا قول یہ ہے کہ فجر سے مراد معین فجر ہے، پھر اس کی تعیین میں متعدد اقوال ہیں، وہ حسب ِ ذیل ہیں :

” والفجر “ سے مراد یوم ِ نحر کی صبح اور اس کی فضلیت میں احادیث

اس سے مرادیوم ِ نحر یعنی دس ذوالحج کی فجر ہے، کیونکہ مناسک حج ملت ِ ابراہیم کے خصائص میں سے ہیں اور عرب حج کو ترک نہیں کرتے تھے، اور وہ عظیم دن ہے جس میں مسلمان اپنی قربانی ادا کرتے ہیں، جیسا کہ اس آیت میں ہے :

وفدینہ بذبح عظیم۔ ( الصافات : ١٠٧) اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا۔

یوم نحر کی فضلیت میں حسب ِ ذیل احادیث ہیں :

حضرت الحسن بن علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا کہ ہم اس دن سب سے عمدہ لباس پہنیں گے اور سب سے اچھی خوشبو لگائیں اور سب سے فربہ قربانی کریں جو ہمیں میسر ہوگا، گائے سات افراد کی طرف سے اور اونٹ سات افراد کی طرف سے اور بلند آواز سے تکبیر پڑھیں اور ہم طمانیت اور وقار سے رہیں۔

( المعجم الکبیر ج ٣ ص ٩٣، المستدرک ج ٤ ص ٢٣٠، شعب الایمان ج ٢ ص ١٣، مجمع الزوائدج ٤ ص ٢٠، کنز العمال ج ٥ ص ٢٢٤ )

حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سرمئی رنگ کے سینگھوں والے دو بڑے بڑے خصی مینڈھے تھے، آپ نے ان میں سے ایک کو لٹا کر عرض کیا :” بسم اللہ واللہ اکبر “ اے اللہ ! یہ محمد کی طرف سے ہے، پھر دوسرے کو لٹا کر عرض کیا :” بسم اللہ واللہ اکبر ‘ یہ محمد اور اس کی اس امت کی طرف سے ہے، جس نے تیری توحید کی گواہی دی اور میرے تبلیغ کرنے کی گواہی دی۔

( مسند ابو یعلیٰ ج ٣ ص ٣٢٧، السنن الکبری للبیہقی ج ٩ ص ٢٦٨، مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٢، المطالب العالیہ ج ٢ ص ٢٨٤)

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فاطمہ ! کھڑی ہو اور اپنی قربانی کے سامنے حاضر رہو کیونکہ اسکے خون کے پہلے قطرہ کے ساتھ تمہارے کیے ہوئے ہر گناہ کی مغفرت کردی جائے گی، اور یہ آیات پڑھو :

اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ ِ اللہ ِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗج وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (الانعام : ١٢٦۔ ١٦٣ )

بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العٰلمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سب سے پہلا ہوں۔

میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ بشارت صرف آپ کے اور آپ کے اہل بیت کے لیے خاص ہے، اس کے مصداق آپ ہیں یا تمام مسلمان ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بلکہ یہ بشارت تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔ ( الکامل لا بن عدی ج ٧ ص ٢٤٩٢، کتاب الدعا للطبرانی ج ٢ ص ١٢٤٤، المستدرک ج ٤ ص ٢٢٢، السنن الکبریٰ للبیہقی ج ٩ ص ٢٨٣، مجمع الزوائد ٤ ص ١٧)

ان احادیث کی اسانید ضعیف ہیں لیکن چونکہ فضائل اعمال میں سند ضعیف کے ساتھ بھی احادیث معتبر ہوتی ہیں، اس لیے ہم نے ان احادیث کو درج کیا ہے۔

” الفجر “ سے مراد ذوالحجہ کی صبح اور اس کی فضلیت میں احادیث

معین فجر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس فجر سے مراد ذوالحجۃ کی صبح ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہی دس راتوں کا ذکر ہے اور یہ اس عظیم عبادت کے مہینہ کا پہلادن ہے، ذوالحجہ کے مہینہ کے فضائل میں حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنوں اور مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے اور سب سے زیادہ عزت والا مہینہ ذوالحجہ ہے۔

(شعب الایمان ج ٢ ص ١٥، مجمع الزوائد ج ٣ ص ١٤٠، کنز العمال ج ٨ ص ١٨٦٣ )

” الفجر “ سے مراد ماہ محرم کی صبح اور اس کی فضلیت میں احادیث

اس سلسلہ میں تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد ماہ محرم کی صبح ہے کیونکہ وہ ہر سال کا پہلا دن ہے، ماہِ محرم کی فضلیت میں حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) ” والفجر۔ والیال عشر۔ ( الفجر : ٢۔ ١) کی تفسیر میں فرماتے تھے : فجر سے مراد محرم کی صبح ہے جو سال کی پہلی فجر ہے۔ ( شعب الایمان ج ٢ ص ١٦، فضائل الاوقات ص ٣٢٦ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان کے مہینہ کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینہ محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٦٣، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٤٢٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٣٨، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٦١٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧٢٢ )

تبیان القرآن سورۃ نمبر 89 الفجر آیت نمبر 1

Exit mobile version