” الشفع “ سے مراد یوم نحر اور ” الوتر “ سے مراد یوم عرفہ اور ان کی فضلیت میں احادیث
” الشفیع “ ( جفت) اور ” الوتر “ ( طاق) کی متعدد تفسیریں ہیں :
ایک تفسیر یہ ہے کہ طاق سے مراد یوم عرفہ ہے اور جفت سے مراد یوم نحر ہے اور ان کی فضلیت میں یہ احادیث ہیں :
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام ایام میں افضل یوم عرفہ ہے۔( الاتحاف ج ٤ ص ٢٧٤)
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کسی دن دوزخ سے اتنے بندوں کو آزاد نہیں کرتا جتنے یوم ِ عرفہ کو کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قریب ہوتا ہے اور ان کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے، پھر فرما ات ہے، ان لوگوں کا کیا ارادہ ہے ؟ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٤٨، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٠٠٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ٣٠١٤، المستدرک رقم الحدیث ١٤٦٤، السنن الکبریٰ للبیہقی ج ٥ ص ١١٨)
حضرت جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب یوم ِ عرفہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ حجاج کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے اور فرماتا ہے : میرے بندوں کی طرف دیکھو، ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور یہ گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں، یہ دور دراز سے فریاد کرتے ہوئے میرے پاس آئے ہیں، میں تم کو گواہ بناتا ہوں میں نے ان سب کو بخش دیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عرفہ سے زیادہ کسی دن دوزخ سے لوگ آزاد نہیں کیے جاتے۔
( فضائل الاوقات للبیہقی ص ٣٥٥، صحیح ابن خزیمہ ج ٤ ص ٢٦٣، شعب الایمان ج ٣ ص ٣٦، کنز العمال ج ٥ ص ٧١)
حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عرفہ سے زیادہ کسی اور دن شیطان کو اس قدر غم اور غصہ میں نہیں دیکھا گیا ماسوا یوم بدر کے، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرما رہا ہے۔
( موطا امام مالک رقم الحدیث : ٩٨٢، مصنف عبد الرزاق ج ٥ ص ١٧، سنن کبریٰ للبیقہی ج ٢ ص ٣٦، کنز العمال ج ٥ ص ٧٢)
جفت سے مراد یوم نحر ہے یعنی دس ذوالحجہ کا دن، عید الاضحی، اس کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :
حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عرفہ، یوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور یہ کھانے اور پینے کے ایام ہیں۔
( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٧٧٣، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٤١٩، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٠٠٤)
حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ قربانیاں کیسی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہیں، آپ سے پوچھا گیا : ہمارے لیے ان میں کیا اجر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے، آپ سے پوچھا گیا : اور اون کے بدلہ میں ؟ آپ نے فرمایا : ہر اون کے بدلہ میں بھی ایک نیکی ہے۔
( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٧، المستدرک ج ٢ ص ٣٨٩، مسند احمد ج ٤ ص ٣٦٨، شعب الایمان رقم الحدیث : ٧٣٢٧ )
عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ کھائے بغیر عید گاہ نہیں جاتے تھے اور عید الاضحی کے دن عید گاہ سے واپس آئے بغیر نہیں کھاتے تھے، پھر آ کر آپ اپنی قربانی کی کلیجی سے کھاتے تھے۔
( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٤٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧٥٦، مسند احمدج ٥ ص ٣٥٢ )
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قربانی کے دن کسی آدمی کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب نہیں ہے کہ وہ (قربانی کے جانور کا) خون بہائے، بیشک قربانی کا وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگھوں، اور اپنے بالوں اور اپنے کھروں کے ساتھ آئے گا اور اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ سے پاس پہنچ جاتا ہے، سو تم خوشی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٤٩٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣٢٦ )
جبلہ بن سہیم بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا : کیا قربانی کرنا واجب ہے ؟ حضرت ابن عمر نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کی اور مسلمانوں نے قربانی کی، اس نے پھر سوال کیا تو انہوں نے کہا : کیا تم میں عقل ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کی اور مسلمانوں نے قربانی کی۔
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٥٠٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٢٤ )
حضرت عبد اللہ بن قرط (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر ہے، پھر اس کے بعد دوسرا دن ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب پانچ یا چھ اونٹیناں لائی گئیں، ان میں سے ہر ایک بڑھ کر آپ کے قریب آرہی تھی کہ آپ اس سے قربانی کی ابتداء کریں۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٧٦٥ )
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام حیوانات سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت کو پہچانتے تھے، جیسا کہ درج ذیل حدیث میں بھی واضح ہوتا ہے۔
حضرت یعلیٰ بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین ایسی چیزیں دیکھیں جن کو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا، ان میں سے دوسری چیز یہ تھی کہ آپ کے پاس سے ایک اونٹ گزرا، وہ اپنی گردن بڑھا کر بڑبڑانے لگا، آپ نے فرمایا : اس اونٹ کے مالک کو بلائو، پس وہ آگیا تو آپ نے اس سے فرمایا : یہ اونٹ تمہاری شکایت کر رہا ہے کہ یہ اونٹ تمہارے ہاں پیدا ہوا، تم نے اس سے کام لیا، حتیٰ کہ اب وہ بوڑھا ہوگیا تو تم اس کو دبح کرنا چاہتے ہو، اس شخص نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں ایسا نہیں کروں گا۔ پھر آپ آگے روانہ ہوگئے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
مامن شیئی الا یعلم انی رسول اللہ الا کفرۃ او فسقۃ الجن والانس
ہر چیز جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں سوائے جنات اور انسانوں میں سے کافروں اور فاسقوں کے۔
( المعجم الکبیر ج ٢٢ ص ٢٦١۔ رقم الحدیث : ٦٧٢، مسند احمد ٤ ص ١٧٣ قدیم، مسند احمد ج ٢٩ ص ١٠٩۔ رقم الحدیث : ١٧٥٦٧، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤١٩ ھ، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص ٢٢۔ ٢١۔ ٢٠، البدایہ والنہایہ ج ٤ ص ٤٣٥، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)
” الشفع “ ( جفت، جوڑا) اور ” الوتر “ ( طاق) میں مزید عقلی احتمالات
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے جفت اور طاق کے متعلق حسب ذیل اقوال ذکر کیے ہیں :
(١) ’ ’ الشفع “ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا ہیں اور ” الوتر “ سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔
(٢) ” الشفع “ سے مراد وہ نمازیں ہیں جو جفت ہیں، جیسے فجر، ظہر، عصر اور عشاء اور ” الوتر “ سے مراد وہ نماز ہے جو طاق ہے، جیسے مغرب، حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض نمازیں جفت ہیں اور بعض طارق ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ان نمازوں کی اس لیے قسم کھائی ہے کہ ایمان کے بعد نماز کا مرتبہ ہے اور عبادات میں نماز کا جو مقام ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔
(٣) ” الشفع “ سے مراد کل مخلوق ہے کیونکہ فرمایا :” وخلقنکم ازواجا “۔ ( النبا : ٨) ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا اور وتر سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔ حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ وتر ہے اور وتر سے محبت کرتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤١٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٧٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٤١٦، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٥٣، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٦٧٤)
(٤) دنیا کی ہر چیز یا زوج ہے یا فرد ہے، گویا کہ میں زوج اور فرد کے رب کی قسم کھاتا ہوں، اس کی نظیریہ آیت ہے :
پس مجھے ان چیزوں کی قسم ہے جنہیں تم دیکھتے ہو۔ اور جن کو تم نہیں دیکھتے۔
(٥) ” الشفع “ سے مراد جنت کے درجات ہیں، ان کی تعداد آٹھ ہے اور ” الوتر “ سے مراد دوزخ کے طبقات ہیں اور وہ سات ہیں۔
(٦) ” الشفع “ سے مراد دن اور رات ہیں اور ” الوتر “ سے مراد وہ دن ہے جس کے بعد رات نہیں اور وہ روز قیامت ہے۔
(٧) ” الشفع “ سے مراد وہ بارہ چشمے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ضرب سے بن گئے اور ” الوتر “ سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نو معجزات ہیں۔
(٨) ” الشفع “ سے مراد قوم عاد کے عذاب کے ایام ہیں، ان کی تعداد آٹھ تھی اور ” الوتر “ سے مراد ان کی راتیں ہیں، ان کی تعداد سات تھی، قرآن مجید میں ہے :
سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًا (الحاقہ : ٧) سات راتیں اور آٹھ دن پے در پے۔
(٩) ” الشفع “ سے مراد بارہ برج ہیں اور ” الوتر “ سے مراد سات سیارے ہیں۔
(١٠) ” الشفع “ سے مراد تیس دن کا مہینہ ہے اور ” الوتر “ سے مراد ٢٩ دن کا مہینہ ہے۔
(١١) ” الشفع “ سے مراد دو ہونٹ ہیں اور ” الوتر “ سے مراد زبان ہے، قرآن مجید میں ہے :
والسانا وشفتین۔ ( البلد : ٩) ایک زبان اور دو ہونٹ۔
(١٢) ” الشفع “ سے مراد نماز کے دو سجدے ہیں اور ” الوتر “ سے مراد نماز کا رکوع ہے۔
چیزوں کا ذکر کیا ہے، وہ سب ” الشفع “ اور ” الوتر “ سے مراد ہوسکتی ہیں اور قرآن مجید میں ان میں سے کسی چیز کی تعیین کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا، اگر ان میں سے کوئی چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی حدیث سے یا اہل علم کے اجماع سے ثابت ہوجائے تو پھر وہی مراد ہے اور اگر یہ ثابت نہ ہو تو ان میں سے ہر ایک چیز مراد ہوسکتی ہے، لیکن اس کا ثبوت ظنی ہوگا قطعی نہیں ہوگا، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ تمام چیزیں مراد ہیں کیونکہ ” الشفع “ اور ” الوتر “ میں الف لام استغراق کا ہے، یعنی تمام جفت اور تمام طاق۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٥٠۔ ١٤٩، ملخصاً داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
” والشفع والوتر “ کی تفسیر میں مصنف کا صحیح اور صریح حدیث سے استدلال
امام رازی نے فرمایا ہے کہ اگر ” ولیال عشر “ اور ” والشفع والوتر “ کی تفسیر میں کوئی چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی حدیث سے ثابت ہو تو پھر وہی مراد ہے اور ہم کو اس کی تفسیر میں یہ حدیث مل گئی ہے، سو ان کی تفسیر میں اس حدیث پر ہی اعتماد کرنا چاہیے اور وہ حدیث یہ ہے :
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ( ولیال) عشر “ سے مراد قربانی کے ( مہینہ کے) دس دن ہیں اور ” الوتر “ یوم عرفہ ہے اور ” الشفع “ یوم النحر ( قربانی کا دن) ہے۔
(مسند احمد ج ٣ ص ٣٢٧ طبع قدیم، مسند احمد ج ٢٢ ص ٣٨٩۔ رقم الحدیث : ٤٥١١، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤١٩ ھ، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٤١٠١، المستدرک ج ٤ ص ٢٢٠ طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ١٨٥١٧، المکتبۃ العصریہ، بیروت، ١٤٢٠ ھ، کنز العمال رقم الحدیث : ٢٩٤٤ )
شیخ شعیب الارنؤوط نے اس حدیث کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے : اس حدیث کی سند میں کوئی حرج نہیں ہے، اور امام حاکم کی سند امام مسلم کی شرط کے مطابق ہے اور امام ذہبی نے بھی امام مسلم کی موافقت کی ہے۔ ( حاشیہ مسند احمد ج ٢٢ ص ٣٨٩)
امام رازی پر چونکہ عقلیات کا غلبہ ہے، اس لیے وہ اس حدیث کی طرف متوجہ نہیں ہو سکے، دوسری بات یہ ہے کہ احادیث تک رسائی کے جتنے وسائل اب میسر ہیں وہ امام رازی کے دور میں حاصل نہ تھے، اس لیے امام رازی اس حدیث تک نہ پہنچ سکے۔