Site icon اردو محفل

حضرت معاویہ کی شخصیت تمام صحابہ کی ناموس جانچنے کا زریعہ

اہلسنت کے نزدیک حضرت معاویہ کی شخصیت تمام صحابہ کی ناموس جانچنے کا زریعہ ہے جو متقدمین سے متاخرین تک چلا ارہا ہے۔

جیسا کہ امام خطیب امام ربیع بن نافع (المتوفی 241ھ) سے نقل کرتے ہیں:

أخبرنا محمد بن احمد بن رزق البزار قال نا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى النيسابوري قال نا أبو عمرو أحمد بن محمد بن احمد الحيري قراءة عليه بمكة قال نا عثمان بن سعيد قال سمعت الربيع بن نافع يقول معاوية بن أبي سفيان ستر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا كشف الرجل الستر اجترىء على ما وراءه

امام ربیع بن نافع فرماتے ہیں:
حضرت  معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کا پردہ (یعنی حفاظت کا ذریعہ) ہیں، جب کوئی شخص اس پردے کو ہٹاتا ہے تو وہ اس کے پیچھے موجود (باقی صحابہ) پر بھی جری ہو جاتا ہے۔
[تاریخ بغداد وسندہ صحیح]

امام ربیع بن نافع کے بارے امام ذھبی فرماتے ہیں:
الإمام الثقة الحافظ ، بقية المشايخ أبو توبة الربيع بن نافع الحلبي نزيل طرسوس التي هي اليوم من بلاد الأرمن .
مولده في حدود الخمسين ومائة .
ووعى علما جما ، وعمر دهرا ، وارتحلوا إليه
وحدث البخاري ومسلم والنسائي والقزويني في كتبهم عن رجل عنه .
قال أبو حاتم : ثقة حجة .
وقال أبو داود : قدم أبو توبة الكوفة ، ولم يرحل إلى البصرة ، وكان يحفظ الطوال يجيء بها ، ورأيته يمشي حافيا وعلى رأسه الطويلة . قال : وكان يقال : إنه من الأبدال – رحمه الله .
قلت : هو آخر من حدث عن معاوية بن سلام .
قال النسائي : لم يكن به بأس .
وقال الفسوي : كان لا بأس به ، توفي سنة إحدى وأربعين ومائتين
قلت : كان من أبناء التسعين ، وإنما قدمت ترجمته لقدمه ونبله ، ولذلك ما أزال مترددا في الكهل القديم الموت وفي المعمر الذي تأخر

ثقہ، حافظِ حدیث امام، مشائخِ حدیث کے باقی ماندہ افراد میں سے تھے، ابو تُوبَہ الربیع بن نافع الحلبی، جو طرسوس میں مقیم تھے — وہ جگہ آج کے دور میں بلادِ ارمن (Armenia) میں شمار ہوتی ہے۔

ان کی ولادت تقریباً 150 ہجری کے آس پاس ہوئی۔

انہوں نے بے حد علم حاصل کیا، طویل عمر پائی، اور لوگ ان کے پاس سفر کر کے آتے تھے۔

بخاری، مسلم، نسائی اور قزوینی نے اپنی کتب میں ان سے روایت کرنے والے ایک راوی کے واسطے سے ان سے حدیث روایت کی ہے۔

ابوحاتم الرازی نے فرمایا: وہ “ثقہ اور حجت” ہیں۔
ابوداؤد نے کہا: ابو تُوبَہ کوفہ آئے، لیکن بصرہ کا سفر نہ کیا۔ وہ لمبی لمبی (یعنی مفصل) احادیث یاد رکھتے تھے اور انہیں سناتے تھے۔
(ابوداؤد کہتے ہیں) انہیں ننگے پاؤں چلتے دیکھا، اور ان کے سر پر پگڑی تھی۔
مزید فرمایا: ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ابدال میں سے تھے — اللہ ان پر رحم کرے۔

میں (امام ذہبی) کہتا ہوں: یہ معاویہ بن سلام سے حدیث روایت کرنے والے آخری راوی تھے۔

نسائی نے فرمایا: ان میں کوئی خرابی نہ تھی۔
فسوی نے کہا: ان میں کوئی حرج کی بات نہیں تھی۔
ان کی وفات 241 ہجری میں ہوئی۔
میں کہتا ہوں (یعنی امام ذہبی): وہ 90 سال سے زائد عمر کے تھے۔
میں نے ان کی سوانح مقدم اس لیے لکھی ہے کہ وہ قدیم اور عالی مقام شخصیت تھے،
اور اسی وجہ سے میں بعض اوقات بوڑھے راویوں میں اور طویل عمر پانے والوں میں تردد میں پڑ جاتا ہوں کہ کس کو پہلے درج کیا جائے۔
[سیر اعلام النبلاء]


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ امام ابن العماد حنبلی علیہ الرحمہ اہلسنت کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے حضرت معاویہ کے حوالے سے فرماتے ہیں:

وهو (معاویہ) أحد كتبة الوحي، وهو الميزان في حب الصحابة، ومفتاح الصحابة،
معاویہ رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے ایک تھے جو وحی لکھنے والے تھے۔ انہیں صحابہ سے محبت کے لیے ایک میزان (پیمانہ) اور صحابہ کے لیے ایک کلید (مفتاح) قرار دیا گیا ہے۔
[ شذرات الذهب في أخبار من ذهب، ص 270]

اس لیے اہلسنت  امت میں تمام طبقات میں سب سے افضل طبقہ صحابہ کو قرار دیا ہے۔
کہ تا قیامت آنے والے لوگوں پر گروح صحابہ سے محبت و تعظیم واجب قرار دیا۔ کیونکہ یہ قرآنی نصوص کے مطابق اللہ کے پسندیدہ اشخاص ہیں۔

اس لیے کسی بھی غیر صحابی کو چاہے ظاہری طور پر کتنا ہی نیک اور عدل کا سر چشمہ ہو درجہ صحابیت کے سامنے کچھ بھی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امام خلال امام ابو اسامہ جو کہ امام ابو حنیفہ کے ہم عصر تھے۔
انسے نقل کرتے ہیں:

ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﺻﺪﻗﺔ، ﻳﻘﻮﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﺃﺳﺎﻣﺔ، ﻭﺫﻛﺮﻭا ﻟﻪ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻭﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻻ ﻳﻘﺎﺱ ﺑﺄﺻﺤﺎﺏ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺃﺣﺪ

  امام ابراہیم بن سعید فرماتے ہیں،
میں نے امام  ابو اسامہ کو سنا، جب ان کے سامنے حضرت معاویہ  اور امام عمر بن عبدالعزیز کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا:
نبی ﷺ کے صحابہ پر کسی کو بھی قیاس نہیں کیا جا سکتا ہے۔
[السنةللخلال وسندہ صحیح]

یہی وجہ ہے کہ اس امت کے ابدال کا درجہ پانے والے اولیاء اللہ نے حضرت معاویہ کی فضیلت اور درجہ صحابیت کے سبب کسی غیر صحابی سے انکے تقابل کو ناجائز قرار دیا۔

جیسا کہ امام بشر حافی علیہ الرحمہ امام معافی بن عمران  تمیذ امام ابو حنیفہ سے روایت کرتے ہیں:

ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻟﻤﺮﻭﺫﻱ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺘﺐ ﺇﻟﻴﻨﺎ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺧﺸﺮﻡ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ اﻟﺤﺎﺭﺙ، ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﺌﻞ اﻟﻤﻌﺎﻓﻰ ﻭﺃﻧﺎ ﺃﺳﻤﻊ، ﺃﻭ ﺳﺄﻟﺘﻪ: ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺃﻓﻀﻞ ﺃﻭ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ؟، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻛﺎﻥ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﺳﺘﻤﺎﺋﺔ ﻣﺜﻞ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ

امام بشر بن الحارث کو کہتے ہوئے سنا
امام معافی  سے سوال کیا گیا جبکہ میں سن رہا تھا، یا میں نے خود ان سے پوچھا:
“حضرت معاویہ  افضل ہیں یا امام عمر بن عبدالعزیز؟”
تو انہوں نے جواب دیا:

“حضرت معاویہ، امام عمر بن عبدالعزیز جیسے چھ سو (600) افراد سے افضل تھے۔”
[ السنةللخلال وسندہ صحیح]

حضرت معاویہ رضی اللہ اہلسنت کے نزدیک ایک پل ہے جو صحابہ تک پہنچاتا ہے۔
اور یہ بات صدیوں سے ثابت ہے جس نے اس پل کو توڑا ہے
وہ کبھی بھی مستقیم ہدایت تک نہیں پہنچا ہے۔!!
اور اس سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کو عدل کے اعتبار سے خلیفہ راشد جو عرفی اعتبار سے کہا جاتا تھا ان سے سیکڑوں درجہ افضل حضرت معاویہ خلیفہ راشد عرفی طور ہر کہلانے کا حق بدرجہ اولا رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ائمہ نے 12 خلفائے عدول میں حضرت معاویہ کو شامل فرمایا ہے۔

اسد الطحاوی ✍️

Exit mobile version