پس لیکن جب انسان کو اس کا رب عزت اور نعمت دے کر آزمائے تو وہ کہتا ہے : میرے رب نے مجھے عزت دی
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس لیکن جب انسان کو اس کا رب عزت اور نعمت دے کر آزمائے تو وہ کہتا ہے : میرے رب نے مجھے عزت دی۔ اور جب اس کا رب اس کو ( مصیبت سے) آزمائے اور اس پر اس کا رزق تنگ کر دے تو وہ کہتا ہے : میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔ یہ بات نہیں ہے، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے ہو۔ اور تم ایک دوسرے کو یتیم کے کھلانے پر راغب نہیں کرتے ہو۔ اور تم وراثت کا پورا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اور تم مال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو۔ ( الفجر : ٢٠۔ ١٥)
دنیا کی نعمتیں ملنے کو عزت اور کرامت اور ان سے محرومی کو بےعزتی نہیں سمجھنا چاہیے
اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا : بیشک آپ کا رب ان کی گھات میں ہے یعنی آپ کا رب دیکھ رہا ہے کہ اس کے بندے آخرت کے لیے کیا عمل کر رہے ہیں، سو اس کی نظر صرف آخرت کی طرف ہے، اور انسان کا یہ حال ہے کہ اس کی نظر صرف دنیا کی طرف ہے، اس کے نزدیک اہم چیز صرف دنیا کی لذتیں اور شہوتیں ہیں، اگر دنیا میں اس کی نفسانی خواہشیں پوری ہوجائیں تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی اور اگر دنیا میں اس کی نفسانی خواہشیں پوری نہ ہوں تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا، اس کی نظیر وہ آیات ہیں جو کفار کے متعلق نازل ہوئی ہیں :
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو ایک کنارے پر ( کھڑے ہو کر) اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اگر ان کو کوئی فائدہ ہوا تو وہ اس سے مطمئن ہوتے ہیں، اور اگر ان پر کوئی مصیبت آگئی تو وہ اسی وقت پلٹ جاتے ہیں، انہوں نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھانا ہی کھلا ہوا نقصان ہے۔
صرف دنیا کو مطمع نظر بنانا اور آخرت کی طرف توجہ نہ کرنا حسب ِ ذیل وجوہ سے باطل ہے :
دنیاوی عیش و عشرت کی مذمت کی وجوہ
(١) دنیا کی نعمتیں آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں اس قدر کم ہیں جیسے قطرہ سمندر کے مقابلہ میں ہو، بلکہ یہ نسبت بھی نہیں ہے، کیونکہ قطرہ کی سمندر کی طرف نسبت متناہی کی متناہی کی طرف ہے اور دنیا کی آخرت کی طرف نسبت متناہی کی غیر متناہی کی طرف ہے، دنیا کی نعمتیں متناہی اور محدود ہیں اور آخرت کی نعمتیں غیر متناہی اور لا محدود ہیں، پس اگر کسی شخص کو دنیا کی نعمتیں حاصل ہوں اور وہ آخرت کی نعمتیں حاصل نہ کرے سکے تو یہ سرا سر خسارہ ہے اور جو دنیا کی نعمتیں حاصل نہ کرسکا بلکہ مصائب اور آفات میں مبتلا رہا اور آخرت میں اس کو جنت اور اس کی نعمتیں مل گئیں تو وہ کامیاب اور بامراد ہے، اس کا اپنے متعلق یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اس کے رب نے اس کو ذلیل کردیا بلکہ اس کے رب نے اس کو عزت والا بنایا اور کامیاب کردیا۔
(٢) جب بھی کسی انسان پر کوئی مصیب آئے یا اس کو کوئی نعمت ملے تو اس کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ اس کے کسی عمل کا نتیجہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے، بعض اوقات اس کے نیک بندوں پر دنیا میں مصائب آتے ہیں جیسے حضرت امام حسین (رض) پر مصائب آئے اور بعض اوقات فساق اور فجار بہت عیش و آرام اور نعمتوں میں ہوتے ہیں جیسے یزید اور اس کے دیگر رفقاء، اور عمومی طور پر کفار بہت دولت مند، قومی اور مستحکم ہیں اور مسلمان بہت پس ماندہ، کمزور اور دبے ہوئے ہیں کیونکہ دنیا میں کفار کی شوکت اور عزت بہ طور استدراج، مکر اور ان کو ڈھیل دینے کے لیے ہوتی ہے اور مسلمانوں کی زبوں حالی ان کی آزمائش اور آخرت میں ان کے درجات کی بلندی کے لیے ہوتی ہے۔
(٣) جو شخص مار دار اور خوش حال ہو، اس کو اپنی زندگی کے خاتمہ سے غافل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اعتبار انسان کے خاتمہ کا ہونا ہے اور جو شخص فقیر اور محتاج ہو، اس کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو مال و زر نہیں دیا، تو کیا ہو اللہ تعالیٰ نے اس کو اور بیشمار نعمتیں دی ہیں، اس کا بدن صحیح وسالم ہے، اس کی عقل کام کر رہی ہے، وہ صاحب ایمان ہے اور عمل صالحہ پر قادر ہے، سانس لینے کے لیے ہوا، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے غذا اس کو میسر ہے، وہ ناگہانی آفات مثلاً زلزلوں اور سونامی ایسے سمندری طوفانوں سے محفوظ ہے اور مہلک اور موذی امراض مثلاً ایڈز اور کینسر وغیرہ سے بچا ہوا ہے۔
(٤) جب انسان کو اپنی لذتوں کے حصول اور شہوتوں کے اسباب میسر ہوتے ہیں تو وہ اپنے نفسانی تقاضوں کو پورا کرنے میں منہمک ہوجاتا ہے اور ان لذتوں کو ترک کرنا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رجوع کرنا اس کے لیے مشکل ہوجاتا ہے اور جب انسان کے پاس عیش و عشرت کے سامان نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرنے والی اور معصیت پر ابھارنے والی چیزیں نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اس کے لیے سہل اور آسان ہوجاتا ہے، سو جب اللہ تعالیٰ کسی انسان کو عیش و طرب دے کر واپس لے لے تو اس کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عزت دینے کے بعد ذلت میں مبتلا کردیا بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی آخرت اور عاقبت سنوارنے کا ایک اور موقع عنایت فرما دیا ہے۔
(٥) انسان دنیاوی نعمتوں اور راحتوں سے جتنا زیادہ بہرہ اندوز ہوگا، وہ اس قدر زیادہ ان کی محبت میں گرفتار ہوگا اور موت کے وقت جب ان چیزوں سے اس کی جدائی ہوگی تو اس کو اتنا زیادہ قلق ہوگا اور دنیاوی عیش و عشرت سے اس کا جس قدر کم تعلق ہوگا، موت کے وقت ان چیزوں کی جدائی سے اسی قدر کم قلق ہوگا، اس لیے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ دنیا کی نعمتوں کا حصول عزت کا سبب ہے اور ان نعمتوں کا نہ ملنا ذلت کا سبب ہے۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ وجوہ اس پر دلالت کرتی ہیں کہ جو شخص اس دنیا کے بعد آخرت کا قائل ہو، اسے دنیاوی نعمتوں کے ملنے اور نہ ملنے کو عزت اور ذلت کا معیار نہیں بنانا چاہیے لیکن جو شخص دہریہ ہو اور آخرت کا قائل ہی نہ ہو، اس کے لیے یہ وجوہ اس پر دلیل نہیں ہیں کہ مال دنیا کا ملنا اور نہ ملنا عزت اور ذلت کا معیار نہیں ہے، تو ہم کہیں گے کہ دہر یہ کو بھی کم از کم یہ تو ماننا پڑے گا کہ جس کے پاس جتنا زیادہ مال ہوگا، اس کے لیے چوری، ڈاکے، لوٹ مار اور قتل اور دہشت گردی کے خطرات اس قدر زیادہ ہوں گے اور جس کے پاس مال دنیا جس قدر کم ہوگا وہ اس قدر زیادہ امن اور سکون کے ساتھ رہے گا۔
یاد رہے کہ میں نے چوری کا لفظ یونہی عبارت آرائی کے لیے لکھ دیا ہے، ورنہ ہم جس دور میں ہیں (٢٠٠٥ ئ) اس میں چوریاں نہیں ہوتیں، ڈاکو دن اور رات کے کسی بھی وقت عام راستوں، بازاروں اور چوراہوں پر ٹی ٹی کے زور پر موبائل فون، نقد رقم اور گھڑیاں چھین لیتے ہیں اور عورتوں کے زیورات اتروا لتے ہیں، اسلحہ کے زور پر گاڑیاں چھین لیتے ہیں اور مزاحمت کرنے پر بےدریغ گولی مار کر ہلاک کردیتے ہیں اور آئے دن یہ خبریں تواتر سے اخبارات میں آتی رہتی ہیں، میں نے پندرہ بیس سال سے کسی علاقہ میں کہیں بھی چوری کی خبر نہیں پڑھی، اب صرف برسر عام ڈاکے پڑتے ہیں۔
آیا دنیاوی مال کے حصول پر اترانے والا عام انسان ہے یا مخصوص انسان ہے ؟
الفجر : ١٥ میں ” الانسان “ کا ذکر ہے، اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ اس انسان سے عام انسان مراد ہے یا کوئی خاص انسان مراد ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس میں سے عتبہ بن ربیعہ اور ابو حذیفہ بن المغیرہ مراد ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس سے امیہ بن خلف مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے ابی بن خلف مراد ہے۔
مال اور نعمت ملنے پر خوش ہونا، اترانا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کرنا، اور رزق کی تنگی اور فقر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہانت سمجھنا ان کافروں کا شیوہ ہے، جو قیامت اور حشر و نشر پر ایمان نہیں رکھتے، رہا مومن تو جب اس پر رزق کی کشادگی کی جائے تو وہ اس کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھتا ہے اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر اس پر رزق کی تنگی کردی جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ قضاء و قدر سے متعلق ہے اور اس مصیبت پر صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ اور شکایت نہیں کرتا، البتہ بعض مسلمان بھی اپنی جہالت سے یہ گمان کرتے ہیں کہ جب ان کو کوئی نعمت ملے تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی کسی عبادت کی فضلیت کی وجہ سے اس نعمت کے مستحق تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس وجہ سے عزت دی ہے اور جب ان پر کوئی مصیبت آئے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کردیا، سو ایسے مسلمانوں کو اپنے گمان پر توبہ کرنا چاہیے اور یہ یقین کرنا چاہیے کہ وہ کافروں کی صفت ہے، مسلمانوں میں یہ صفت نہیں ہونی چاہیے