اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے صف بہ صف حاضر ہوں گے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جب زمین پاش پاش کر کے ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے صف بہ صف حاضر ہوں گے۔ اور اس دن دوزخ کو لایا جائے گا، اس دن انسان یاد کرے گا اور اب کہاں یاد کرنے کا وقت ہے۔ وہ کہے گا : کاش ! میں نے زندگی میں کوئی نیکی آگے کے لیے بھیجی ہوتی۔ سو اس دن اس کے عذاب کی طرح کوئی عذاب نہ دے گا۔ اور نہ کوئی اس کے جکڑنے کی طرح جکڑے گا۔ ( الفجر : ٢٦۔ ٢١ )
الفجر : ٢٢ میں فرمایا : اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے صف بہ صف حاضر ہوں گے۔
قیامت کے دن آپ کے رب کے آنے کی توجیہات
یہ قیامت کے دن کی دوسری صفت ہے، اس آیت میں فرمایا : ” وجاء ربک “ اس کا لفظ معنی ہے : آپ کا رب آئے گا، واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کا حرکت کرنا اور آنا جانا حال ہے کیونکہ حرکت کرنا اور آنا جانا جسم کی صفت ہے اور اللہ تعالیٰ جسم اور جسمانیت سے منزہ اور میرا ہے، مقتدمین اس آیت کی تقریر میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آتا جاتا بھی ہے اور آسمانوں پر اترتا بھی ہے اور وہ بھاگتا بھی ہے جیسا کہ قرآن مجید کی آیات اور احادیث صحیحہ میں ہے، لیکن اس کا آنا جانا، اترنا اور بھاگنا مخلوق کی طرح نہیں ہے کیونکہ کوئی چیز اس کی مثل نہیں ہے، وہ اپی شان کے مطابق آتا جاتا ہے اور اترنا چڑھتا ہے، ہم نہیں جانتے کہ اس کے آنے جانے اور اترنے چڑھنے کی کیا کیفیت ہے اور متاخرین نے جب دیکھا کہ بد مذہب لوگ اللہ تعالیٰ کے آنے پر اعتراض کرتے ہیں کہ آن جانا تو جسم کی صفت ہے اور اگر اللہ آئے گا تو العیاذ باللہ وہ جسم ہوگا اور جسم ممکن اور حادیث ہوتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا حادیث ہونا لازم آئے گا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے آنے کی حسب ذیل توجیہات کی ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ کے آنے سے مراد یہ ہے کہ حساب لینے اور جزادینے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا۔
(٢) اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کا قہر اور اس کا عذاب آئے گا۔
(٣) اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں آئیں گی کیونکہ یہ قیامت کا دن ہوگا اور اس دن اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان آیات کا ظہو ہوگا، پس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے آنے کو اللہ تعالیٰ کا آنا فرمایا، تاکہ ان نشانیوں کی عظمت معلوم ہوا۔
(٤) اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کی ذات کا ظہور تام ہوگا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں جس قدر شکوک اور شبہات تھے، وہ سب زائل ہوجائیں گے اور سب کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا ظہو ہوجائے گا، یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی واضح تجلی فرمائے گا۔
(٥) اس آیت میں جو فرمایا ہے : آپ کا رب آیا، اس میں آپ کے رب کے قہر اور سلطنت کے آثار کے ظہور کا بیان ہے اور اس کی نشانیوں کے ظہور کی تمثیل ہے، جب بادشاہ خود دربار میں آتا ہے تو اس کے آنے سے اس کے رعب، اس کی ہیبت اور جلال کے جو آثار ظاہر ہوتے ہیں وہ آثار ظاہر ہوگئے اور آپ کے رب کے آنے سے آپ کے رب کے جلال کے آثار کا ظہور مراد ہے۔
اس کے بعد فرمایا ہے : اور فرشتے صف بہ صف حاضر ہوں گے، اس کا معنی ہے : ہر آسمان سے فرشتے نازل ہو کر صف باندھ کر کھڑے ہوجائیں گے اور وہ جنات اور انسان کو گھیر لیں گے۔