خاک نشین سے مراد یہ ہے کہ جس کے پاس کچھ نہ ہو، حتیٰ کہ فقیر کی وجہ سے وہ مٹی سے آلود ہے اور سوائے خاک اور مٹی کے اس کا اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ وہ شخص ہے جو راستہ ( فٹ پاتھ) پر پڑا ہو اور اس کا کوئی گھر نہ ہو، مجاہد نے کہا : یہ وہ شخص ہے جو اپنے جسم اور لباس کو مٹی سے نہ بچا سکے، قتادہ نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ عیال دار ہو، عکرمہ نے کہا : اس سے مراد ہے کہ وہ مقروض ہو، ابوسنان نے کہا : اس سے مراد ہے کہ وہ اپاہج ہو، ابن جبیر نے کہا : اس سے مراد ہے : جس کو دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٦٢، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)