پھر وہ ان لوگوں میں سے ہو جو ( توحید پر) ایمان لائے اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو رحم کی نصیحت کی
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر وہ ان لوگوں میں سے ہو جو ( توحید پر) ایمان لائے اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو رحم کی نصیحت کی۔ وہی لوگ دائیں طرف والے ( برکت) ہیں۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا کفر کیا، وہی لوگ بائیں طرف والے ( منحوس) ہیں۔ ان پر ( ہر طرف سے) بند کی ہوئی آگ ہوگی۔ ( البلد : ٢٠۔ ١٧)
مؤمنین صالحین کے لیے بشارت اور کفار کے لیے عذاب کی وعید
یعنی جو لوگ دشوار گزار گھاٹی پر چڑھیں گے اور نفس کے ناجائز تقاضوں سے جنگ اور جہاد کریں، ان کا یہ جہاد اس وقت قابل تحسین اور لائق اجر ہوگا، جب وہ مومن ہوں اور اگر وہ ایمان نہیں لائے تو ان کا یہ سارا جہاد رائیگا جائے گا۔
حضرت عائشہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! زمانہ جاہلت میں ابن جدعان رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتا تھا، کھانا کھلاتا تھا، قیدیوں کو چھڑاتا تھا اور غلاموں کو آزاد کرتا تھا اور اللہ کی راہ میں لوگوں کو اونٹوں پر سوار کرتا تھا، کیا ان اعمال سے اس کو نفع ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا : اے اللہ ! قیامت کے دن میری خطائوں کو بخش دینا۔
( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٤)
نیز فرمایا : انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو رحم کی نصیحت کی۔
یعنی وہ ایک دوسرے کو ایمان کی راہ میں مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے کی نصیحت کرتے تھے اور ایک دوسرے کو ہر امتحان میں ثابت قدم رہنے کی نصیحت کرتے تھے اور گناہوں سے ہمیشہ اجتناب کرنے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت پر قائم رہنے کی نصیحت کرتے تھے اور وہ ایک دوسرے کو یہ نصیحت کرتے تھے کہ وہ مظلوم اور فقیر پر رحم کریں یا جو شخص برے کام کررہا ہو، اس کو برائی سے روکیں کیونکہ یہ بھی اس کے حق میں رحم کرنا ہے اور یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہر شخص دوسرے کو نیکی کا راستہ دکھائے اور اس کو بدی کے راستہ پر چلنے سے روکے۔
اور جو مؤمنین اس دشوار گھاٹی پر چڑھے اور جنہوں نے ہر آزمائش میں صبر کیا اور لوگوں کو نیکی کی تلقین کی، اس گروہ کے سرخیل اکابر صحابہ مثلاً خلفاء راشدین اور ان کے موافقین اور بعد کے اخیار تابعین ہیں۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ صبر کی وصیت سے مراد اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے اور رحم کی وصیت سے مراد مخلوق پر شفقت ہے اور اسلام کے تمام احکام کا مدار اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور مخلوق کی شفقت پر ہے۔