Site icon اردو محفل

لَاۤ اُقۡسِمُ بِهٰذَا الۡبَلَدِۙ سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 1

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَاۤ اُقۡسِمُ بِهٰذَا الۡبَلَدِۙ ۞

ترجمہ:

میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں۔ اس حال میں کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں۔ اور ( انسان کے) والد کی قسم اور اس کی اولاد کی۔ بیشک ہم نے انسان کو ( اس کی) مشقت میں پیدا کیا۔ (البلد : ٤۔ ١)

” لا اقسم “ میں لفظ ” لا “ کی تفسیر میں دو قول

البلد : ١ کے شرع میں ہے : ” لا اقسم بھذا البلد۔ “ اس کا لفظی ترجمہ ہے : میں اس شہر کی قسم نہیں کھاتا، اس میں جو لفظ ” لا “ ہے، اس کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(١) پہلاقول یہ ہے کہ لفظ ” لا “ کے ساتھ مشرکین مکہ کے زعم کی نفی فرمائی ہے، ان کا زعم یہ تھا کہ قیامت آئے گی نہ مرنے کے بعد لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے ان کے زعم کی نفی فرمائی : نہیں ایسا نہیں ہے کہ قیامت نہیں آئے گی اور نہ ایسا ہے کہ لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا بلکہ میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں کہ ایسا ضرور ہوگا، دوسری صورت یہ ہے کہ جو انسان دنیا کی زندگی پر مغرور تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ اس کے اوپر کوئی قادر نہیں ہوگا، اس کے اس زعم کی نفی فرمائی : نہیں ایسا نہیں ہے کہ انسان پر کوئی قادر نہیں ہوگا، کیوں نہیں ! اس شہر کی قسم ! اللہ اس کو دوبارہ زندہ کرنے پر ضرور قادر ہوگا، اور اس کی تیسری صورت یہ ہے کہ میں اس شہر کی اس وقت قسم نہیں کھاتا جب آپ اس شہر میں نہ ہوں، بلکہ میں اس شہر کی اس وقت قسم کھاتا ہوں جب آپ اس شہر میں مقیم ہوں۔

(٢) لفظ ” لا “ کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ ’ ’ لا “ زائد ہے اور اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ میں اس شہر کی قسم نہیں کھاتا، کیونکہ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شہر کی قسم کھائی ہے، فرمایا :

وھذا البلد الامین۔ ( التین : ٣) اور اس امن والے شہر کی قسم !۔

اور جب اللہ تعالیٰ اجس شہر کی قسم کھاچکا ہے تو اس شہر کے قسم کھانے کی نفی کس طرح صحیح ہوگی، اس کی نظیر یہ آیت ہے، اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا :

ما منعک الاتسجد ( الاعراف : ١٢) ( اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے) تجھ کو سجدہ نہ کرنے سے کس نے منع کیا ؟

حالانکہ مقصود یہ ہے کہ تجھ کو سجدہ کرنے سے کس نے منع کیا، جیسا کہ اس آیت میں ہے :

ما منعک ان تسجد (ص : ٧٥) تجھ کو سجدہ کرنے سے کس نے منع کیا ؟

پس معلوم ہوا کہ الاعراف : ١٢ میں لفظ ” لا “ زائد ہے اسی طرح ” لا اقسم بھذا البلد۔ “ میں بھی لفظ ” لا “ زائد ہے۔

مکہ مکرمہ کی فضلیت میں آیات اور احادیث

مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ اس شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے اور مکہ مکرمہ کی فضیلت حسب ذیل آیات ہیں :

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ فِیْہِ اٰیٰتٌم بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰہِیْمَج وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًاط وَِ اللہ ِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً ط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللہ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (آل عمران : ٩٧۔ ٩٦)

بے شک اللہ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے، وہ تمام جہانوں کے لیے برکت والا اور ہدایت والا ہے۔ اس میں واضح نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، جو اس میں داخل ہوگیا وہ امن والا ہوگیا، اور اللہ کے لیے ان لوگوں کے اوپر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو اس گھر کے راستہ پر جانے کی قدرت رکھتے ہوں، اور جس نے کفر کیا تو بیشک اللہ تمام جہانوں سے بےپرواہ ہے۔

وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًاط وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّیط وَعَہِدْنَآ اِلٰٓی اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَہِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ۔ (البقرہ : ١٢٥ )

اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے ثواب کی جگہ بنادیا اور امن کی جگہ بنادیا، اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے یہ عہد لیا کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لیے اور اعتکاف کرنے والوں کے لیے رکوع کرنے والوں، سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔

وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ۔ (الحج : ٢٩) اور ( وہ لوگ) اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں۔

اور بیت اللہ کی فضلیت میں حضرت ابو شریح (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکہ کو اللہ نے حرم بنایا ہے، اس کو لوگوں نے حرم نہیں بنایا، جو شخص اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ مکہ میں خون بہائے اور نہ مکہ کے کسی درخت کو کاٹے، اگر کسی شخص مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتال کرنے سے معارضہ کرے تو اس سے کہو کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تم کو اجازت نہیں دی ہے اور مجھے دن کی ایک ساعت ( ایک گھنٹہ) میں قتال کی اجازت دی تھی، پھر اس کی حرمت آج اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل تھی۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٠٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٥٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٨٠٩، سنن نسائی رقم الحدیث : ٨٧٦)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منٰی میں فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ آج کون سا دن ہے ؟ مسلمانوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : بیشک یہ یوم حرام ہے ( عزت اور حرمت والا دن ہے) ، پھر فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے ؟ مسلمانوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ بلد حرام ہے ( حرمت والا شہر ہے) پھر فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے ؟ مسلمانوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ عزت اور حرمت والا مہینہ ہے، پھر آپ نے فرمایا : بیشک اللہ نے تمہاری جانوں کو اور تمہارے مالوں اور تمہاری عزتوں کو ایک دوسرے پر اس طرح حرام کردیا ہے، جس طرح آج کے دن کی حرمت ہے اور آج کے مہینہ کے حرمت ہے اور جس طرح تمہارے اس شہر کی حرمت ہے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧٤٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٦، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٧٦، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٩٤٣، مسند احمد ج ٥ ص ٢٩ )

تبیان القرآن سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 1

Exit mobile version