البلد : ٤ میں فرمایا : بیشک ہم نے انسان کو ( اس کی) مشقت میں پیدا کیا۔
” کبد “ کا معنی اور انسان کی دشواری کے محامل
اس آیت میں ” کبد “ کا لفظ ہے، ” کبد “ کا منی ہے : دشواری، بختی، مشقت، ” کبد “ یا ” کبد “ کا معنی ہے : جگر، کلیجی، جگرکا درد ہونا، ” کبد “ یعنی شدت اور مشقت کے حسب ذیل محامل ہوسکتے ہیں۔
(١) ہم نے انسان کو شدت اور مشقت کے کئی مراحل میں پیدا کیا ہے، ایک مرتبہ اس کی ماں کے پیٹ میں، پھر اس کے دودھ پینے کی مدت میں، پھر جب وہ بالغ ہوگیا تو اپنے معاش اور روزگار کے حصول کی مشقت میں مبتلا ہوگیا، پھر اس کے بعد موت کی شدت میں۔
(٢) اس سے مراد دین کی مشقت اٹھانا ہے، وہ نعمت ملنے پر شکر ادا کرتا ہے اور مصیبت آنے پر صبر کرتا ہے اور عبادات کی ادائیگی میں مشقت اٹھاتا ہے۔
(٣) اس سے مراد آخرت کی مشقت ہے، پہلے سکرات موت کی شدت ہے، پھر قبر میں منکر نکیر کے سوالوں کے جواب کی مشقت ہے، پھر قبر کے اندھیرے کا سامنا ہے، پھر قبر سے نکل کر میدان حشر کی طرف جانا ہے، پھر اللہ عزوجل کے سامنے حاضر ہوتا ہے، اور پھر آخرت کے انجام کا پیش آنا ہے، جو جنت ہوگا یا دوزخ۔
(٤) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے یہ مراد ہو کہ دنیا میں کوئی لذت نہیں ہے، انسان جس کو بہ ظاہر لذت سمجھتا ہے اس میں بھی درد اور تکلیف کی آمیزش ہے، کھانا کھانے سے پہلے انسان بھوک کی تکلیف برداشت کرتا ہے اور کھانے کے بعد غذا کے ناموافق ہونے کی وجہ سے انسان مختلف بیماریوں کا سامنا کرتا ہے، جن میں قبض، اسہال، شوگر، ہائی بلڈ پریشر، کو لیسٹرول اور دیگر موذی امراض ہیں، بیوی سے عمل زوجیت میں لذت ہے، مگر اس کے نتیجہ میں اولاد کو پالنے پوسنے اور ان کی تربیت کی مشقت ہے، بعض دفعہ اولاد نالائق اور نا خلف ہوتی ہے اور اس کے نتیجہ میں انسان ساری زندگی اذیت میں مبتلا رہتا ہے، مال اور دولت میں لذت ہے مگر اس مال کی وجہ سے انسان لوٹ مار، ڈکیتی، دہشت گردی کے خطرات اور خوف و ہراس میں مبتلا رہتا ہے، خوب صورت مکانوں میں لذت ہے مگر پہلے ان کو بنانے کی مشقت ہے، پھر انکے قرض کی ادائیگی، ٹیکس کی ادائیگی کی مصیبت ہے اور ان کو قدرتی آفات مثلاً سیلاب اور زلزلوں سے محفوظ رکھنے کی مشقت ہے۔
غرض انسان کو محنت، مشقت، شدت اور مصیبت میں پیدا کیا گیا ہے، اس لیے اس جہان کے بعد کوئی اور جہان ہونا چاہیے تاکہ وہ جہان اس کے لیے لذات، سعادات اور کرامات کے حصول کا جہان ہو۔