وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِۚ – سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 10
sulemansubhani
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِۚ ۞
ترجمہ:
اور ہم نے اس کو ( خیر اور شر کے) دونوں راستے دکھادیئے
البلد : ١٠ میں فرمایا : اور ہم نے اس کو ( خیر اور شر کے) دونوں راستے دکھا دیئے۔
مجاہد نے :” ھدینہ النجدین “ کا معنی ہے : ہم نے انسان کو خیر اور شر کے راستوں کی پہچان کرا دی ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ہدایت اور گم راہی کے راستوں کی۔
امام ابن مردویہ نے حضرت حسن (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : اے لوگو ! یہ دو راستے خیر اور شر کے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے شرکا راستہ خیر کے راستے سے زیادہ محبوب نہیں بنایا۔
( الدر المنثور ج ٨ ص ٤٧٨۔ ٤٨٨ دراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
ان آیات میں اس پر واضح دلیل ہے کہ انسان مجبور نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو اختیار دیا ہے، اس کو حواس عطاء کیے ہیں اور عقل سلیم دی ہے، اس کو نیکی اور بدی کے راستے دکھا دیئے ہیں اور سمجھا دیئے ہیں، اس پر لازم ہے کہ وہ نیکی کے راستے کو اختیار کرے اور برائی کے راستے کو ترک کر دے اور اگر اس نے اختیار کے باوجود نیک عمل نہیں کیے اور برے عمل کرتا رہا تو وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے دوزخ بنائے گا۔