البلد : ٦ میں فرمایا : وہ کہتا ہے : میں نے اپنا بہت مال خرچ کردیا ہے۔
” لبدا “ کا معنی
اس آیت میں ” لبدا “ کا لفظ ہے، ” لبد “ کا معنی مال کثیر ” لابد “ کا بھی یہی معنی ہے، اصل میں ” لبد “ اور ” لبدۃ “ کا معنی ہے : نمدہ اور گوند سے چپکایا ہوا اون، نمدہ ہو یا چپکایا ہوا اون، ان میں تہ پر تہ جمائی جاتی ہے، وسعت استعمال کی وجہ سے مال کثیر کو بھی ” لبد “ کہتے ہیں، گویا اس میں بھی مال کی تہ پر تہ جائی جاتی ہے، ” لبد “ اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو گھر میں بیٹھا رہے اور کمائی کے لیے باہر نہ نکلے۔ ( القاموس الحیط ص ٣١٦، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٤ ھ)
لیث نے کہا : ” مال لبد “ سے مراد یہ ہے کہ وہ اتنا زیادہ مال ہو کہ اس کی کثرت کی وجہ سے اس کے فناء ہونے کا خوف نہ ہو، اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کافر یہ کہتا ہے کہ میں نے ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت میں مال کثیر خرچ کیا ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کفار اپنی بڑائی اور فخر کو ظاہر کرنے کے لیے مال کثیر خرچ کرتے تھے، اس کے متعلق ان میں سے کسی نے کہا : میں نے اپنا بہت مال خرچ کردیا ہے۔