الشمس : ١٢ میں فرمایا : جب ( اس قوم کا) سب سے بدبخت اٹھا۔
اس شخص کا نام قدار بن سالف تھا، اس نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تھیں، اس واقعہ کی پوری تفصیل الاعراف : ٧٣ میں گزر چکی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن زمعہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ میں اونٹنی کا ذکر فرما رہے تھے اور اس کا ذکر فرما رہے تھے، جس نے اس کو ذبح کیا، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی :” اذا نبعث اشقھا “ (الشمس : ١٤) آپ نے فرمایا : اس اونٹنی کے لیے ایک آدمی اٹھا، اس کا نام عزیز عارم تھا، وہ اپنے قبیلہ کا بڑا تھا جیسے ابو زمعہ ہے۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٤٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤٤ )