پھر اس ( نفس) کو اس کے برے کام اور ان سے بچنے کا طریقہ سمجھا دیا
الشمس : ٨ میں فرمایا : پھر اس ( نفس) کو اس کے برے کام اور ان سے بچنے کا طریقہ سمجھا دیا۔
” الھام “ کا معنی اور انسان کے اچھے اور برے کاموں کے متعلق اہل سنت کا مؤقف
اس آیت میں ” الہام “ کا لفظ ہے، اس کا اصل معنی ابلاغ اور پہنچانا ہے، اور عرف میں اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو بندے کے دل میں ڈالنا، یعنی اللہ تعالیٰ نے بندے کے دل میں یہ ڈال دیا کہ فلاں فلاں کام برا ہے اور اس کے دل میں یہ بھی ڈال دیا کہ ان برے کاموں سے بچنے کا طریقہ کیا ہے اور یہی ” الفجور “ اور ” الطغوی “ کا معنی ہے اور اس آیت کی نظریہ آیت ہے :
وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ ۔ ( البلد : ١٠) ہم نے اس کو (خیر اور شر کے) دونوں راستے دکھا دیئے۔