سو اللہ کے رسول نے ان سے کہا : اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی حفاظت کرو
الشمس : ١٤۔ ١٣ میں فرمایا : سو اللہ کے رسول نے ان سے کہا : اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی حفاظت کرو۔ انہوں نے اپنے رسول کو جھٹلایا اور اس ( اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں۔ الایۃ۔
اللہ کے رسول سے مراد حضرت صالح (علیہ السلام) ہیں، ان کے ارشاد کا معنی یہ تھا کہ اللہ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے ڈرو اور اس اونٹنی کو چھوڑ دو ، جیسے اس آیت میں فرمایا :
یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے بہ طور نشانی ہے، اس کو چھوڑ دو یہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے، اس کو نقصان پہنچانے کے لیے مت چھوڑو ورنہ تم کو درد ناک عذاب پکڑے گا۔
اس کا قصہ سورة الشعراء میں تفصیل سے گزر چکا ہے، قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنی نبوت کا معجزہ پیش کرنے کے لیے چٹان سے اونٹنی نکال کردکھائیں تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے چٹان سے اونٹنی نکال دی اور دن قوم کے لیے مقرر کیا کہ وہ اس دن کنویں سے پانی پئیں اور ایک دن اونٹنی کے لیے مقرر کیا، یہ بات ان کو ناگوار گزری، پھر انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، اس اونٹنی کے ٹخنوں کے اوپر جو پٹھے تھے ان کو تلوار کے وار سے کاٹ ڈالا، اس اونٹنی کی کونچوں کی قدار بن سالف نے کاٹا تھا لیکن اس آیت میں ان کی پوری قوم کی طرف اس فعل کی اضافت کی ہے کیونکہ پوری قوم اس کے فعل پر راضی تھی، انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے اس قوم کی تکذیب کی تھی کہ اگر تم نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو تم پر عذاب آئے گا۔ قتادہ نے کہا ہے کہ قدار اس وقت تک اونٹنی کی کونچیں کاٹنے پر راضی نہیں ہوا، جب تک کہ اس قوم کے تمام مرد اور عورت اور چھوٹے اور بڑے اس کے تابع نہیں ہوئے۔
اس کے بعد فرمایا : تو ان کے رب نے ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو ہلاک کر کے ان کی بستی کو ہم وار کردیا۔
ان کا گناہ یہ تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا کفر کیا، حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ اس آیت میں ” دمدم “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : اس نے تباہ کردیا اور اس نے ہلاک کردیا ” دمدم “ کا حقیقی معنی ہے : عذاب کو دگنا اور چوگنا کرنا اور اس کو بار بار لوٹانا، اور کسی چیز کو دوسری چیز پر منطبق کرنا یعنی عذاب کو ان پر منطبق کردیا، اور اس کا معنی ہے : کسی بستی کو ہلاک کر کے اس کو جڑ سے اکھاڑ دینا۔
اور فرمایا : اس کو ہم وار کردیا، یعنی ان کو پیوند زمین کر کے زمین کو ان پر ہم وار کردیا، ان پر ایک خوف ناک چنگھاڑ آئی تھی، جس سے ان کے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوگئے، اس کا معنی یہ بھی ہے کہ نزول عذاب میں اس پوری امت کو برابر رکھا، چھوٹوں اور بڑوں، مردوں اور عورتوں، امیروں اور غریبوں سب پر عذاب آیا۔