الشمس : ٢ میں فرمایا : اور چاند کی قسم جب وہ اس کے پیچھے آئے۔
چاند کن چیزوں میں سورج کے تابع ہے ؟
اس آیت میں ” تلاھا “ کا لفظ ہے، ” تلایتلوا “ کا معنی ہے : ایک چیز کا دوسری چیز کے تابع ہونا اور چاند، سورج کے حسب ذیل امور میں تابع ہے :
(١) مہینہ کے نصف اول میں سورج کے غروب ہونے کے بعد چاند طلوع ہوتا ہے اور اپنی روشنی میں سورج کے تابع ہوتا ہے۔
(٢) سورج جب غروب ہوجاتا ہے تو پہلی رات کا چاند سورج کے غروب ہونے کے فوراً بعد نظر آتا ہے۔
(٣) چاند کے تابع ہونے کا یہ معنی ہے کہ چاند اپنی روشنی سورج سے حاصل کرتا ہے۔
(٤) چودھویں رات کو جب چاند پور نظر آتا ہے تو اس وقت وہ روشن ہونے میں سورج کے قائم مقام ہوتا ہے۔
(٥) سورج کے جو منافع ذکر کیے گئے ہیں وہ چاند میں بھی موجود ہیں، غذا سورج سے پکتی ہے اور اس میں ذائقہ چاند کی کرنوں سے آتا ہے۔
(٦) سورج اور چاند کے فوائد تمام مخلوق کو حاصل ہوتے ہیں اور یہ اس کی دلیل ہے کہ ان دونوں کا خالق واحد ہے، کیونکہ اگر ان کے خالق متعدد ہوتے تو ان کے فوائد تمام مخلوق کو حاصل نہ ہوتے بلکہ ہر خالق صرف اپنی مخلوق کو ان کے فوائد پہنچاتا۔