Site icon اردو محفل

اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰىؕ – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 4

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰىؕ ۞

ترجمہ:

بیشک تمہاری کوشش ضرور مختلف ہے۔

اللیل : ٤ میں فرمایا : بیشک تمہاری کوشش ضرور مختلف ہے۔

تمام لوگوں کے اعمال کا برابر نہ ہوتا

اس آیت میں جواب قسم مذکور ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے رات، دن اور نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا : اس کے بندوں کے اعمال مختلف ہیں۔ اس آیت میں ” شتی “ کا لفظ ہے، یہ ” شتیت “ کی جمع ہے، جیسے مریض کی جمع ” مرضیٰ “ ہے ” شتات “ کا معنی اباعد اور افتراق ہے، یعنی تمہارے اعمال ایک دوسرے سے بعید اور مختلف ہیں، بعض لوگوں کے اعمال گم راہی ہیں اور بعض لوگوں کے اعمال ہدایت ہیں، بعض لوگوں کے اعمال ان کو جنت تک پہنچاتے ہیں اور بعض لوگوں کے اعمال ان کو دوزخ میں جھونک دیتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ سب لوگوں کے اعمال ایک جیسے نہیں ہیں، جیسا کہ ان آیات سے بھی معلوم ہوتا ہے :

لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ط (الحشر : ٢٠) دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ہیں۔

افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون۔ (السجدہ : ١٨) آیا جو شخص مومن ہے وہ فاسق کی مثل ہوسکتا ہے، یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔

کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِلا سَوَآئً مَّحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْط سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ ۔ (الجاثیہ : ٢١ )

کیا جو لوگ بدکاری کرتے ہیں ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کو مؤمنوں اور نیکو کاروں کی مثل کردیں گے کہ ان کا مرنا اور جینا برابر ہوجائے، یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کر رہے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 4

Exit mobile version