Site icon اردو محفل

وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىۙ سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 1

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىۙ ۞

ترجمہ:

اور رات کی قسم جب وہ ( دن کو) چھپالے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور رات کی قسم جب وہ ( دن کو) چھپالے۔ اور دن کی ( قسم) جب وہ روشن ہو۔ اور اس ذات کی ( قسم) جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے۔ بیشک تمہاری کوشش ضرور مختلف ہے۔ ( اللیل : ٤۔ ١)

رات اور دن کے آنے جانے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی توحید پر دلائل

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رات اور دن اور اپنی تخلیق کی قسم کھا کر یہ بتایا ہے کہ ہر انسان کو دنیا میں کوشش دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، اس وجہ سے ہر انسان کا انجام بھی دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

اللیل : ١ میں اللہ تعالیٰ نے رات کی قسم کھائی، جس میں ہر جاندار اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر آرام کرتا ہے اور اپنی تھکاوٹ اتارتا ہے، پھر نیند اس کو ڈھانپ لیتی ہے، جس سے اس کے بدن کو راحت پہنچتی ہے اور اللیل : ٢ میں اللہ تعالیٰ نے دن کی قسم کھائی کیونکہ جب دن نکلتا ہے تو اسکی روشنی سے ہر وہ چیز منکشف ہوجاتی ہے جس کو رات کے اندھیرے نے چھپالیا تھا، اور اس ہیں اور حشرات الارض اپنے اپنے بلوں سے نکل آتے ہیں، اگر رات ہی مستقل طور پر رہتی تو لوگوں کے لیے معاش کا حصول مشکل ہوجاتا، اور اگر دن ہی مستقل طور پر رہتا تو راحت اور آرام حاصل نہ کرسکتے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی مصلحت اور اس کی رحمت کا تقاضا یہ تھا کہ رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کا سلسلہ لگاتار جاری رکھا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا ہے :

وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً (الفرقان : ٦٢ )

وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے روانہ کیا۔

قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہ ُ عَلَیکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُ اللہ ِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآئٍط اَفَلاَ تَسْمَعُوْنَ ۔ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہ ُ عَلَیْکُمُ النَّھَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُ اللہ ِ یَـاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِط اَفَـلَا تُبْصِرُوْنَ ۔ (القصص : ٧٢۔ ٧١)

آپ کہیے : تم یہ بتائو کہ اگر اللہ تم پر قیامت تک کے لیے رات کو مسلط کردیتا تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے دن کی روشنی لاتا، کیا تم نہیں سنتے۔ آپ کہیے : تم پر ( بھی) بتائو کہ اگر اللہ تم پر قیامت تک کے لیے دن کو مسلط کردیتا تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے رات کو لاتا، جس میں تم راحت حاصل کرتے، کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور رات کی قسم جب وہ چھپائے اس کا مفعول نہیں ذکر کیا کہ وہ کس چھپائے، بعض نے کہا : اس سے مراد ہے : وہ سورج کو چھپائے اور بعض نے کہا : اس سے مراد ہے : وہ دن کو چھپائے اور بعض نے کہا : وہ اپنی ظلمت سے ہر چیز کو چھپالے۔

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ فرماتے ہیں :

رات اور دن جس کا مخلوق پر بار بار آنا جانا ہوتا ہے، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور اپنی توحید پر دو عظیم نشانیاں بنایا ہے، ان کو ہر شخص مانتا ہے، خواہ وہ مومن ہو یا کافر، کسی مذہب کا ماننے والا ہو یا دہریہ ہو۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٤٦٩ )

ان کی اللہ کی الوہیت اور توحید پر اس طرح دلالت ہے کہ رات اور دن کے آنے جانے کا سلسلہ ہمیشہ سے اسی طرح جاری ہے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رات نہ آئے یا کبھی دن نہ آئے، اور ہمیشہ گرمیوں میں دن بڑے ہوتے ہیں اور راتیں چھوٹی ہوتیں ہیں اور سردیوں میں راتیں بڑی ہوتی ہیں اور دن چھوٹے ہوتے ہیں، عموماً گرمیوں میں چودہ گھنٹے کا دن اور اس گھنٹے کی رات ہوتی ہے اور سردیوں میں چودہ گھنٹوں کی رات اور دس گھنٹوں کا دن ہوتا ہے، پھر ایسا نہیں ہوتا کہ چودہ گھنٹوں کی رات کے بعد فوراً دس دن ہوجائے بلکہ دن اور رات کا گھٹنا اور بڑھنا بہ تدریج ایک ایک منٹ سے ہوتا رہتا ہے، جس طرح سردی کے بعد گرمی فوراً نہیں آتی بہ تدریج آتی ہے، اسی طرح دن اور رات کا گھٹنا اور بڑھنا بھی تدریجاً ہوتا ہے اور یہ نظام اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت پر مبنی ہے کیونکہ اگر گرمی کے بعد فوراً سردی آجاتی تو لوگ برداشت نہ کرسکتے، اسی لیے درجہ حرارت درجہ بہ درجہ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اور رات اور دن اور موسموں کے تغیر کا یہ نظام ہمیشہ سے اسی طرح جاری ہے اور نظام کی وحدت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس نظام کا بنانے والا بھی واحد ہے۔

Exit mobile version