Site icon اردو محفل

وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰٓىۙ – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 19

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰٓىۙ ۞

ترجمہ:

اور اس پر کسی کا کوئی ( دنیاوی) احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔

اللیل، ١٩ تا ٢١ میں فرمایا : اور اس پر کسی کا کوئی ( دنیاوی) احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔ مگر اس کا مال دینا صرف اپنے رب اعلیٰ کی رضا جوئی کے لیے ہے۔ اور عنقریب اس کا رب ضرور راضی ہوگا۔

یعنی وہ شخص صرف اللہ کی رضا کے لئے زکوٰۃ اور صدقات دیتا ہے، کسی کا بدلہ اتارنے کے لیے زکوٰۃ اور صدقات نہیں دیتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی کی نیکی کا بدلہ دینے کے لیے اس کا زکوٰۃ اور صدقات دینا جائز نہیں ہے، بلکہ یہ بھی جائز ہے، قرآن مجید میں ہے :

ہَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ۔ (الرحمن : ٦٠) نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے۔

لیکن اس سے اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی کے ساتھ نیکی کی جائے اور اس کو صدقہ دیا جائے، اس کے بعد فرمایا : اور عنقریب اس کا رب ضرور راضی ہوگا اور اس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس شخص کو اسکا رب اتنی جزا دے گا کہ وہ اپنے رب سے راضی ہوجائے گا۔

حضرت ابوبکر کے حضرت بلال اور دیگرچھ غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے کے متعلق روایات

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے، انہوں نے محض اللہ کی رضا کے لیے چھ یا سات غلاموں کو آزاد کیا تھا، ان غلاموں کا حضرت ابوبکر پر کوئی احسان نہیں تھا کہ یہ کہا جائے کہ ان کا بدلہ اتارنے کے لیے ان کو حضرت ابوبکر نے خرید کر آزاد کیا تھا، ان کے آزاد کیے ہوئے غلاموں میں حضرت بلال اور حضرت عامر بن فہیرہ تھے۔

( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٩٠٢٤، جز ٢٠ ص ٢٨٠ دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام عبد الرحمان محمد بن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں :

عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے سات ایسے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا، جنہیں اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا، وہ یہ ہیں : (١) حضرت بلال (٢) حضرت عام بن فہیرہ (٣) حضرت نہیدہ (٤) اور ان کی بیٹی (٥) زنیرہ (٦) امام عیسیٰ (٧) بنو مئومل کی باندی اور انکے غلام خرید کر آزاد کرنے کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص ٣٤٤١۔ رقم الحدیث : ١٩٣٦٧، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٢١٧ ھ)

امام ابن ہشام متوفی ٢١٧ ھ اور امام الحسین بن مسعود المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

امام محمد بن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ حضرت بلال کا نام بلال بن رباح ہے، ان کی والدہ کا نام حمامۃ تھا، حضرت بلال صدق الاسلام اور طاہر القلب تھے، یہ امیہ بن خلف کے غلام تھے، جب خوب دھوپ گرم ہوجاتی تو امیہ ان کو باہر نکالتا اور ان کو مکہ کی پتھریلی زمین پر لٹا کر گھسیٹتا، پھر بہت وزنی پتھر کو ان کے سینہ پر رکھنے کا حکم دیتا، پھر کہتا : تم جب تک مرو گے نہیں میں تم کو یونہی عذاب دیتا رہوں گا، ورنہ تم محمد کے رسول ہونے کا انکار کرو، اور حضرت بلال (رض) اسی آزمائش کی حالت میں پکارتے :” احد احد “ ( اللہ واحد ہے، اللہ واحد ہے) ۔ امام محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ایک دن اسی طرح حضرت بلال کو عذاب دیا جا رہا تھا تو حضرت ابوبکر (رض) کا وہاں سے گزر ہوا، آپ نے امیہ سے کہا : تمہیں اس مسکین کو عذاب دینے سے خدا کا خوف نہیں آتا ؟ امیہ نے کہا : تم نے ہی اس کا دین فاسد کیا ہے، اب تم جس طرح چاہو اس کا چھڑا لو، حضرت ابوبکر نے فرمایا : میرے پاس ایک حبشی غلام ہے جو اس سے زیادہ مضبوط اور قوی ہے اور وہ تمہارے دین پر ہے ( یعنی مشرک ہے) میں تم کو حضرت بلال کے بدلہ میں اس کو دے دیتا ہوں، امیہ نے کہا : مجھے منظور ہے، پھر حضرت ابوبکر نے اپنا غلام امیہ کو دے کر اس سے حضرت بلال کو لے لیا اور ان کو آزاد کردیا، پھر ان کے ساتھ اور چھ غلاموں کو خرید کر آزاد کیا، جن کو اسلام قبول کرنے کی پاداش میں عذاب دیا جاتا تھا، انکے نام یہ ہیں : (١) عامر بن فہیرہ، یہ غزوہ بدر اور احد میں حاضر ہوئے اور بیر معونہ کے دن شہید ہوئے (٢) ام عمیس (٣) زنیرہ، ان کی بینائی چلی گئی تھی، حضرت ابوبکر نے ان کو آزاد کردیا، قریش نے کہا : ان کی بینائی لات اور عزیٰ نے سلب کی ہے، حضرت زنیر نے کہا : یہ جھوٹ بولتے ہیں، لات اور عزیٰ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، پھر اللہ عالیٰ نے ان کی بینائی لوٹا دی (٥۔ ٤) اور حضرت ابوبکر نے نہدیہ اور اس کی بیٹی کو آزاد کردیا، یہ دونوں بنو عبد الدار کی ایک عورت کی باندیاں تھیں، حضرت ابوبکر ان کے پاس سے گزرے، ان کو ان کی مالکہ نے لکڑیاں چننے کے لیے بھیجا تھا، اور وہ کہہ رہی تھی : اللہ کی قسم ! میں تم دونوں کو کبھی آزاد نہیں کروں گی، حضرت ابوبکر نے فرمایا : اے ام فلاں ! ایسا نہ کہو، وہ کہنے لگی : ہرگز نہیں ! ہم نے ہی ان کو خراب کیا ہے، تم ان دونوں کو آزاد کردو، حضرت ابوبکر نے پوچھا : کتنے میں ؟ اس نے کہا : اتنے اور اتنے میں، حضرت ابوبکر نے فرمایا : میں نے ان کو خرید لیا اور یہ دونوں آزاد ہیں (٢) اور حضرت ابوبکر بنو المؤمل کی باندی کے پاس سے گزرے، اس کو عذاب دیا جارہا تھا، آپ نے اس کو بھی خرید کر آزاد کردیا۔

سعید بن المسیب نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت بلال کو خریدنے کے وقت حضرت ابوبکر نے امیہ سے کہا تم اس کو فروخت کرو گے ؟ اس نے کہا : ہاں ! میں اس کو نسطاس کے عوض فروخت کرتا ہوں، اور نسطاط حضرت ابوبکر کا غلام تھا، اور اس کی ملکیت میں دس ہزار دینار اور غلام اور باندیاں اور مویشی تھے، حضرت ابوبکر نے اس سے کہا : تم مسلمان ہو جائو تو یہ سب مال تمہارا ہوجائے گا، اس نے انکار کردیا، جس وجہ سے حضرت ابوبکر اس سے ناراض ہوگئے اور جب امیہ نے کہا : میں بلال کو نسطاط کے عوض بیچتا ہوں تو حضرت ابوبکر نے اس کو غنیمت جانا اور نسطاس کے عوض حضرت بلال کو خرید لیا۔ اس وقت مشرکین نے کہا : ابوبکر نے جو بلال کو اتنی مہنگی قیمت پر خریدا ہے تو ضرور بلال نے ابوبکر پر کوئی احسان کیا ہوگا جس کا بدلہ اتارنے کے لیے ابوبکر نے بلال کو اتنی مہنگی قمت پر خریدا ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔

وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓی۔ اِلَّا ابْتِغَآئَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی۔ وَلَسَوْفَ یَرْضٰی۔ (اللیل : ١٩۔ ٢١ )

اس پر کسی کا کوئی ( دنیاوی) احسان ہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔ انہوں نے کسی کا بدلہ اتارنے کے لیے یہ نیکی نہیں کی۔ لیکن اس کا مال دنیاصرف اپنے رب اعلیٰ کی رضا جوئی کے لیے کی ہے۔

اور عنقریب ان کا رب ان کو آخرت میں جنت میں اتنی عزت اور کرامت عطاء فرمائے گا کہ وہ اپنے رب سے راضی ہوجائیں گے۔

( السیرۃ النبویہ ج ١ ص ٣٣٥۔ ٣٥٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ، معالم التنزیل ج ٥ ص ٢٦٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

اس آیت کا مصداق حضرت ابوبکر ہیں، اس پر امام رازی کے دلائل

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ اس آیت کا مصداق حضرت ابوبکر (رض) ہیں اور شیعہ اس روایت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے، اس پر یہ دلیل ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوْنَ ۔ (المائدہ : ٥٥) اور وہ حالت ِ رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔

اور اس سورت میں فرمایا ہے :

الْاَتْقَی۔ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی۔ (اللیل : ١٨۔ ١٧) سب سے زیادہ متقی ہے۔ جو اپنا مال زکوٰۃ ( پاکیزگی) کے لیے خرچ کرتا ہے۔

اور اس آیت میں زکوٰۃ دینے سے حضرت علی کے حالت رکوع میں زکوٰۃ دینے کی طرف اشارہ ہے اور جب بعض شیعہ علماء نے میرے سامنے یہ دلیل پیش کی تو میں نے کہا : میں اس پر عقلی دلیل قائم کرتا ہوں کہ اس آیت کے مصداق حضرت ابوبکر ہیں اور اس کی تقریر یہ ہے کہ اس ’ ’ اتقیٰ “ سے مراد وہ ہے جو افضل الخلق ہو، اور جب اس طرح ہو تو پھر واجب ہے کہ اس سے مراد حضرت ابوبکر ہیں، ہم نے جو یہ کہا ہے کہ ” الاتقیٰ “ سے مراد افضل الخلق ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن میں ہے :

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہ ِ اَتْقٰـکُم ْط (الحجرات : ١٣)

بے شک اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔

پس اس آیت سے ثابت ہوگیا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو وہی سب سے زیادہ افضل ہے، پس اب ہم کہتے ہیں کہ اس پر امت کا اجماع ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد افضل الخلق حضرت ابوبکر ہیں یا حضرت علی ہیں، اور اس آیت کو حضرت علی پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے کہ ” الاتقیٰ “ وہ ہے جس پر کسی کا دنیاوی احسان نہ ہو اور حضرت علی (رض) پر تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت دنیاوی احسان ہیں، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو ان کے والد سے لے کر ان کی پرورش کی، ان کو کھلایا اور پلایا اور پہنایا، سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر دنیاوی احسان کرنے والے تھے، جس کی جزاء ان پر واجب تھی، اور رہے حضرت ابوبکر تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان پر کوئی دنیاوی احسان نہیں تھا، بلکہ حضرت ابوبکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خرچ کرتے تھے، ہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضرت ابوبکر پر ہدایت دینے اور دین کی تعلیم دینے کے دینی احسانات تھے لیکن ان احسانات کا کوئی امتی بدلہ نہیں دے سکتا، نہ ان کا بدلہ دیا جاتا ہے، قرآن مجید میں ہے :

قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْر (الفرقان : ٥٧) آپ کہیے : میں تم سے اس تبلیغ ِ رسالت پر کسی اجر کا سوال نہیں کرتا۔

پس واضح ہوگیا کہ اس آیت میں احسان سے مراد دنیاوی احسان ہے اور صرف حضرت ابوبکر ہی ایسے شخص ہیں جن پر کسی کا کوئی دنیاوی احسان ہیں ہے، اسکے بر خلاف حضرت علی پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت دنیاوی احسان ہیں اور جب اس آیت میں ” الاتقیٰ “ سے مراد حضرت علی نہیں ہیں تو پھر متعین ہوگیا کہ اس آیت میں ” الاتقیٰ “ سے مراد حضرت ابوبکر ہیں اور وہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد افضل الخلق ہیں۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٨٨، داراحیاء التراث العربی، ١٤١٥ ھ)

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی فضیلت اور افضلیت میں احادیث اور آثار

(١) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خوش خبری سنو ! تم دوزخ سے اللہ کے عتیق ( آزاد کردہ ہو) میں کہتی ہوں : اس دن سے حضرت ابوبکر کا نام عتیق پڑگیا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٧٩، جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٤٠٣)

(٢) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس ابھی ابھی حضرت جبریل آئے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہوگی، پھر حضرت ابوبکر نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری خواہش ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوں، حتیٰ کہ میں بھی اس دروازہ کو دکھوں، تب آپ نے فرمایا : سنو اے ابوبکر ! تم میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گے۔

( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٥٦، جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٤٠٤)

(٣) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں فرمایا : اللہ عزوجل نے ایک بندہ کو اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اس کے پاس رہے تو اس بندہ نے اللہ کے پاس رہنے کو اختیار کرلیا، پس حضرت ابوبکر رونے لگے تو ہم کو ان کے رونے پر تعجب ہوا کہ ایک بندہ کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خبر دینے کے متعلق یہ کیوں رو رو ہے ہیں ؟ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی وہ بندے تھے جن کو اختیار تھا اور حضرت ابوبکر (رض) ہم سب سے زیادہ عالم تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اپے مال اور اپنی رفات سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے ابوبکر ہیں اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن ان کے ساتھ اسلام کی اخوت، اور محبت ہے، مسجد کے ہر دروازے کو بند کردیا جائے، سوائے ابوبکر کے دروازہ کے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٥٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٨٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٦٠، مسند احمد ج ٢ ص ١٨)

(٤) حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، میں نے دل میں سوچا کہ اگر میں حضرت ابوبکر سے بڑھ سکتا ہوں تو آج بڑھ سکتا ہوں، میں اپنا آدھا مال لے کر آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا بچایا ہے ؟ میں نے کہا : اتنا ہی، اور حضرت ابوبکر (رض) اپنا کل مال لے کر آگئے، آپ نے پوچھا : اے ابوبکر ! تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑا ہے، تب میں نے دل میں کہا : میں حضرت ابوبکر سے کبھی نہیں بڑھ سکتا۔

(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٧٨، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٧٥، سنن دارمی رقم الحدیث : ١٦٦٧ )

(٥) حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا : حضرت ابوبکر ہمارے سردار ہیں، ہم میں سب سے افضل ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں۔

( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٥٦، جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٢٣٥)

(٦) حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابوبکر نے کپڑے کو ایک طرف سے پکڑے ہوئے آئے، حتیٰ کہ انہوں نے اپنے گھٹنے سے اپنا کپڑا اٹھایا، پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا صاحب کسی سے جھگڑا کر آ رہا ہے، پھر حضرت ابوبکر نے سلام کر کے کہا : میرے اور عمر بن الخطاب کے درمیان کچھ رنجش ہوگئی، پس میں نے جلدی کی، میں نادم ہوا اور میں نے ان سے سوال کیا کہ وہ مجھے معاف کردیں، انہوں نے مجھے اس کا انکار کیا تو میں آپ کے پاس آگیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا : اے ابوبکر ! تمہیں اللہ معاف فرمائے، پھر حضرت عمر نادم ہوئے اور حضرت ابوبکر کے گھر گئے، پھر پوچھا : کیا یہاں ابوبکر ہیں ؟ گھر والوں نے کہا : نہیں، پھر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیرہو رہا تھا، حتیٰ کہ حضرت ابوبکر ڈر گئے اور وہ اپنے گھنٹوں پر بیٹھ کر کہنے لگے : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں ہی ظلم کرنے والا تھا، انہوں نے یہ جملہ دو بار کہا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے تم لوگوں کی طرف معبوث فرمایا، تم لوگوں نے مجھے جھوٹا کہا اور ابوبکر نے کہا : آپ نے سچ کہا اور اپنے مال اور اپنی جان سے میری مدد کی، پھر دوبارہ فرمایا : کیا تم میرے لیے میرے صاحب کو چھوڑنے والے ہو، اس کے بعد حضرت ابوبکر کو ایذاء نہیں دی گئی۔ (صحح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٤٠۔ ٣٦٦١، جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٤١٤)

(٧) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جن لوگوں میں ابوبکر ہوں، ان میں ان کے سوا اور کسی کو امامت نہیں کرنی چاہیے۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٧٣، جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٤١٥)

(٨) حضرت عبد اللہ بن زمعہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مرض شدید ہوگیا اور میں بھی لوگوں کی جماعت میں آپ کے پاس تھا، آپ کو حضرت بلال نے نماز کے لیے بلایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، سو تم گئے، اس وقت حضرت عمر لوگوں میں تھے اور حضرت ابوبکر حاضر نہ تھے، میں نے کہا : اے عمر ! آپ کھڑے ہوں اور لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عمر نے آگے بڑھ کر اللہ اکبر کہا اور حضرت عمر (رض) کی آواز بلند تھی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آواز سنی تو فرمایا : ابوبکر کہاں ہیں ؟ اللہ انکار کرے گا اور مسلمان انکار کریں گے، آپ نے دوبارہ فرمایا، وہ اس وقت آئے جب حضرت عمر نماز پڑھا چکے تھے، پھر حضرت ابوبکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی، ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حجرہ سے سر باہر نکال کر غصہ سے فرمایا : نہیں، نہیں ! لوگوں کو ابو قحافہ کا بیٹا نماز پڑھائے۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٦٠، جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٤١٦)

(٩) حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو انصار نے کہا : ایک امیر ہم میں سے ہوجائے اور ایک امیر تم میں سے ہوجائے، پھر ان کے پاس حضرت عمر (رض) آئے اور کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا، پس تم میں سے کون خوشی سے چاہتا ہے کہ وہ ابوبکر پر مقدم ہو، مسلمانوں نے کہا : ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم ابوبکر پر مقدم ہوں۔

(مسند احمد ج ٢١، سنن نسائی ج ٢ ص ٧٤، بیروت، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٦٤ )

(١٠) حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور آپ کا مرض شدید ہوگیا تو آپ نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابوبکر نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آگ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے، آپ نے فرمایا : تم ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ نے دوبارہ یہی کہا، آپ نے فرمایا : تم ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم یوسف (علیہ السلام) کی زمانہ کی عورتوں کی طرح ہو، پھر حضرت ابوبکر کے پاس بلانے والا گیا اور حضرت ابوبکر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٨٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٢٠، مسند احمد ج ٤ ص ٤١٢)

(١١) حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجرہ کا پردہ اٹھایا، آپ نے کھڑے ہو کر ہماری طرف دیکھا، گویا آپ کا چہرہ قرآن کے ورق کی طرح تھا، پھر آپ ہنستے ہوئے مسکرائے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھنے کی خوش میں لگتا تھا کہ ہم نماز توڑ دیں گے، پھر حضرت ابوبکر اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے آئے تاکہ آپ صف سے مل جائیں، ان کا گمان تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھانے باہر آ رہے ہیں، پھر ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ کیا کہ تم نماز مکمل کرو اور آپ نے حجرہ کا پردہ گرا دیا اور اسی دن آپ کی وفات ہوگئی۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٨٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤١٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٢٤، شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٣٨٥، مسند احمد ج ٣ ص ١١٠)

(١٢) حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر سے فرمایا : تم حوض پر میرے صاحب ہو گے اور تم غار میں میرے صاحب تھے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٦٧ )

(١٣) عرہ بن زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے پوچھا : مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سب سے زیادہ برا سلوک کب کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے، اس نے اپنی چادر آپ کے گلے میں ڈال کر آپ کا گلا گھونٹا شروع کیا اور بہت زور سے گلا گھونٹنے لگا، پھر حضرت ابوبکر آگئے اور انہوں نے اس کو دھکا دے کر دفع کیا اور کہا : تم اس شخص کو اس لیے قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، حالانکہ یہ اپنے رب کے پاس سے معجزات لے کر آیا ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٧٨، مسند احمد ج ٢ ص ٢٠٤)

(١٤) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے، اس وقت آپ کے اصحاب میں کسی کے بھی کھچڑی بال ( سیاہ اور سفید ملے جلے بال) نہیں تھے، سوا حضرت ابوبکر کے، انہوں نے ان بالوں کو مہندی اور سیاہ رنگ سے رنگ کر چھپالیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٩١٩)

(١٥) حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے سامنے حضرت ابوبکر (رض) کا ذکر کیا گیا تو وہ رونے لگے اور کہا : میں یہ چاہتا تھا کہ میرے تمام اعمال مل کر حضرت ابوبکر کے ایک دن کے عمل کی طرح ہوجاتے اور ان کی ایک رات کے عمل کی مثل ہوجاتے، رہی رات تو یہ وہ رات تھی جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غار میں گئے، جب وہ دونوں غار تک پہنچ گئے تو حضرت ابوبکر نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ اس میں نہ داخل ہوں، حتیٰ کہ آپ سے پہلے میں داخل ہوں، پھر حضرت ابوبکر نے غار میں داخل ہو کر دیکھا تو اس میں ایک جانب سوراخ تھے، انہوں نے اپنی چادر پھاڑ کر ان سوراخوں کو بند کردیا، دو سوراخ باقی رہ گئے، ان میں حضرت ابوبکر نے اپنے دونوں پیر داخل کردیئے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : آپ آجائیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار میں داخل ہوئے اور حضرت ابوبکر کی گود میں سر رکھ کر سو گئے، حضرت ابوبکر کے پیر میں ڈنگ لگا، لیکن انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیدار ہونے کے خدشہ سے بالکل حرکت نہیں کی، پھر درد کی شدت سے ان کی آنکھوں سے آنسو نکل کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر گرے، آپ نے پوچھا : اے ابوبکر کیا ہوا ؟ حضرت ابوبکر نے کہا : آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، مجھے ڈنک لگا ہے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ اپنا لعاب دہن ڈالا تو حضرت ابوبکر کا درد جاتا رہا، بعد میں وہ درد پھر لوٹ آیا اور وہی ان کی موت کا سبب بن گیا اور رہا ان کا دن تو جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور عرب کے لوگ مرتد ہوگئے اور کہا : ہم زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے تو حضرت ابوبکر نے کہا : اگر یہ زکوٰۃ میں ایک بکری کا بچہ ( یارسی) دینے سے بھی انکار کریں گے تو ان سے جنگ کروں گا، پس میں نے کہا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ! لوگوں کے ساتھ الفت سے پیش آئیں اور ان کے ساتھ نرمی کریں، حضرت ابوبکر نے مجھ سے کہا : کیا تم زمانہ ٔ جاہلیت میں قوی اور سخت تھے اور اسلام میں کم زور اور نرم ہوگئے ہو ؟ بیشک اب وحی منقطع ہوچکی ہے اور دین مکمل ہوگیا ہے، کیا میری زندگی میں دین کی مخالفت کی جائے گی۔

(جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٤٢٦، الریاض النضرۃ ص ١٠٥۔ ١٠٤)

(١٦) حضرت البراء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ہمیں ہجرت کا واقعہ سنایا اور کہا : ہم مکہ سے روانہ ہوئے اور ایک رات اور ایک دن سفر کرتے رہے، حتیٰ کہ ہم کو دوپہر کا وقت ہوگیا، پھر میں نے نظر اٹھا کر دیکھا کہ کہیں مجھے سائے کی جگہ نظر آئے، پھر مجھے ایک چٹان نظر آئی، میں نے دیکھا تو اس کا سایہ تھا، میں نے اس جگہ کو صاف کیا اور اس جگہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بستر بچھایا، پھر میں نے آپ سے کہا : اے اللہ کے نبی ! آپ یہاں لیٹ جائیں، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیٹ گئے، پھر میں اٹھ کر چاروں طرف دیکھنے لگا کہ کوئی ہمیں تلاش تو نہیں کر رہا، پھر میں نے ایک بکریاں چرانے والے کو دیکھا، وہ اپنی بکریوں کو چرا کر اس چٹان کی طرف لا رہا تھا، وہ بھی اسی چٹان کے سائے کی جستجو میں تھا، جس کا ہم نے ارادہ کیا تھا، میں نے اس سے پوچھا : تم کس کے غلام ہو ؟ اس نے قریش کے ایک آدمی کا نام لیا، جس کو میں پہچانتا تھا، میں نے اس سے پوچھا : تمہاری بکریوں میں دودھ ہے ؟ اس نے کہا : ہاں، میں نے اس سے پوچھا : آیا تم ہمارے لیے دودھ دو گے ؟ اس نے کہا : اس میں نے اس کو ایک بکری باندھنے کے لیے کہا : پھر میں نے اس سے کہا : اپنے ہاتھ صاف کرلو، پھر اس نے میرے لیے دودھ دوہا، میں نے اسی دودھ کو چمڑے کے ایک مشکیزہ میں ڈالا، پھر دودھ میں کچھ پانی ڈال کر اس کو ٹھنڈا کیا، پھر میں اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گیا، اس وقت آپ بیدار ہوچکے تھے، میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! دودھ پئیں، آپ نے اتنا دودھ پیا حتیٰ کہ میں راصی ہوگیا، پھر میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اب کوچ کریں، آپ نے فرمایا : ہاں، ہم روانہ ہوئے اور لوگ ہمارا پیچھا کر رہے تھے، ان میں سے کوئی ہم تک نہیں پہنچ سکا، سوائے سراقہ بن مالک کے، وہ ایک گھوڑے پر سوار تھا، میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تو ہم تک آپہنچا ہے، آپ نے فرمایا : تم خوف نہ کرو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٥٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٠٩)

(١٧) حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس وقت میں غار میں تھا، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کے نیچے دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا، آپ نے فرمایا : اے ابوبکر ! تمہارا ان دو کے متعلق کیا گمان ہے جن میں کا تیسرا اللہ ہے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٥٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٠٩٦، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٢ ص ٧، مسند البزار رقم الحدیث : ٣٦)

(١٨) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں مسلمانوں کو ایک دوسرے سے افضل قرار دیتے تھے، پس ہم سب سے افضل حضرت ابوبکر کو قرار دیتے، پھر حضرت عمر بن الخطاب کو، پھر حضرت عثمان بن عفان (رض) کو۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٥٥ )

(١٩) حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک عورت آئی، آپ نے اس سے فرمایا : تم پھر آنا، اس نے کہا : یہ فرمائیں، اگر میں پھر آپ کو نہ پائوں ؟ گویا کہ وہ کہہ رہی تھیں کہ آپ کی وفات ہوچکی ہو، آپ علیہ الصلوٰۃ نے فرمایا : اگر تم مجھے نہ پائو تو ابوبکر کے پاس آنا۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٥٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٨٦، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٧٦)

(٢٠) حضرت عمر بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ذات السلاسل کے لشکر میں امیر بنا کر بھیجا، میں آپ کے پاس آیا اور میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے ؟ آپ نے فرمایا : عائشہ، پھر میں نے پوچھا : اور مردوں میں ؟ آپ نے فرمایا : ان کے والد، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : عمر بن الخطاب، پھر انہوں نے کئی آدمیوں کو گنا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٦٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٨٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٨٨٥)

(٢١) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فراتے ہوئے سنا ہے کہ ایک چرواہا اپنی بکریوں میں تھا، ان پر ایک بھیڑے نے حملہ کیا اور ایک بکری کو پکڑ لیا، چرواہے نے اس سے وہ بکری چھینی تو بھیڑیا اس چرواہے کی طرف مڑ کر کہنے لگا، درندوں کے دن میں ان بکریوں کا کون محافظ ہوگا ؟ جس دن میرے سوا بکریوں کا کوئی محافظ نہیں ہوگا، اور ایک آدمی ایک بیل کو لے جا رہا تھا اور اس نے اس پر سامان لادا ہوا تھا، بیل اس کی مڑ کر کہنے لگا : میں اس لیے نہیں پیدا کیا گیا ہوں، بلکہ میں ہل چلانے کے لیے پیدا کیا گیا ہوں، لوگوں نے کہا : سبحان اللہ ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پر میں ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر (رض) بھی۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٦٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٣٨٨)

(٢٢) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب میں سویا ہوا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ کنویں کے اوپر ڈول ہے، میں نے اس ڈول کے ساتھ اس کنویں سے جتنا اللہ نے چاہا پانی نکالا، پھر اس ڈول کو ابو قحافہ کے بیٹے نے لے لیا، اور اس سے ایک یا دو ڈول پانی نکالا اور ان کے پانی نکالنے میں کچھ ضعیف تھا اور اللہ ان کے ضعیف کی مغفرت فرمائے، پھر ڈول وہیں آگیا، پھر اس ڈول کو عمر بن الخطاب نے پکڑا اور میں نے اس کنویں سے پانی نکالنے میں عمر کی طرح غیر معمولی قوی شخص کوئی اور نہیں دیکھا، حتیٰ کہ گھر اور لوگ پانی نکالنے لگے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٦٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٩٢، مسند احمد ج ٢ ص ٣١٩)

(٢٣) حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اپنا تہبند ( تکبر سے) ٹخنوں کے نیچے لٹکایا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر ( رحمت) نہیں فرمائے گا، حضرت ابوبکر نے کہا : میرے تہبند کی ایک جانب لٹک جاتی ہے، الایہ کہ میں اس کی حفاظت کروں، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کو تکبر کی وجہ سے نہیں لٹکاتے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٨٤)

(٢٤) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے ایک قسم کی دو چیزیں ( جوڑا) اللہ کی راہ میں خرچ کیں، اس کو جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا : ( کہا جائے گا :) اے عبد اللہ ! یہ نیکی ہے، سو جو نمازیوں سے ہوگا، اس کو باب الصلوٰۃ سے بلایا جائے گا، اور جو مجاہدوں سے ہوگا اس کو باب الجہاد سے بلایا جائے گا اور جو اہل صدقہ سے ہوگا اس کو باب الصدقہ سے بلایا جائے گا، اور جو روزہ داروں سے ہوگا اس کو باب الصیام اور باب الریان سے بلایا جائے گا، پھر حضرت ابوبکر نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ایسا شخص بھی ہوگا جس کو تمام دروازوں سے بلایا جائے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اور مجھے امید ہے وہ شخص تم ہو گے۔

(٢٥) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی، اس وقت حضرت ابوبکر مدینہ کی بالائی بستیوں میں تھے، حضرت عمر نے کھڑے ہو کر کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت نہیں ہوئے، حضرت عمر نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے دل میں یہی بات آئی تھی، اور اللہ آپ کو ضرور اٹھائے گا اور ( چوروں اور ڈاکوئوں کے) ضرور ہاتھ پیر کاٹ دیں گے، پھر حضرت ابوبکر آگئے، انہوں نے آپ کے چہرے سے چادر ہٹائی اور آپ کو بوسہ دیا، اور کہا : آپ پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں، آپ پاکیزگی کے ساتھ زندہ رہے اور پاکیزگی کے ساتھ فوت ہوئے، اللہ تعالیٰ آپ کو دو موتیں ہرگز نہیں چکھائے گا، پھر باہر آئے اور کہا : اے قسم کھانے والے ! ٹھہر جائو، جب حضرت ابوبکر نے کہا تو حضرت عمر بیٹھ گئے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٦٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٤٢، السنن الکبریٰ ، للنسائی رقم الحدیث : ٧١١٣)

(٢٦) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : پھر حضرت ابوبکر نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد کہا : سنو ! جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے اور یہ آیت پڑھی :

اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّیِّتُوْنَ ۔ ( الزمر : ٣٠) آپ بھی جان بہ حق ہونے والے اور یہ مشرکین بھی مرنے والے ہیں۔

اور یہ آیت پڑھی :

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْط وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللہ شَیْئًاط وَسَیَجْزِی اللہ ُ الشّٰکِرِیْنَ ۔ (آل عمران : ١٤٤ )

اور محمد (خدا) نہیں ہیں صرف رسول ہیں، ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں، کیا پس اگر وہ فوت ہو اجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم ( دین اسلام سے) اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائو گے، اور جو اپنی ایڑیوں کے بل پھرجائے گا تو وہ اللہ کا ہرگز کچھ نہیں بگا ڑسکے گا اور عنقریب اللہ شکر ادا کرنے والے کو نیک جزا دے گا۔

پس لوگ رونے لگے، اور انصار، بنو ساعدہ کے چبوترے میں حضرت سعد بن عبادہ کی طرف جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے ہوگا، پھر حضرت ابو بکر، حضرت عمر بن الخطاب اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراع (رض) ان کے پاس گئے اور پھر حضرت عمر بات کرنے لگے، حضرت ابوبکر نے ان کو خاموش کردیا، حضرت عمر نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنے کلام سے اپنے نزدیک نہایت عمدہ بات کہہ رہا ہوں، مجھے خوف ہے کہ حضرت ابوبکر اس بات تک نہیں پہنچیں گے، پھر حضرت ابوبکر نے نہایت بلیغ کلام کیا اور اپنے اثناء کلام میں کہا : ہم امراء ہیں اور تم وزراء ہو، حباب بن المنذر نے کہا : نہیں، اللہ کی قسم ! ہم ایسا نہیں کریں گے، ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے ہوگا، حضرت ابوبکر نے کہا : نہیں لیکن ہم امراء ہوں گے اور تم وزراء ہو گے، تم عمر سے بیعت کرلو یا ابو عبیدہ سے بیعت کرلو، حضرت عمر نے کہا : نہیں ! بلکہ ہم آپ سے بیعت کریں گے، آپ ہمارے سید ہیں اور ہم سب سے افضل ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں، پھر حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کا ہاتھ پکڑ کر ان کی بیعت کرلی اور پھر لوگوں نے بیعت کرنی شروع کردی۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٦٨، مسند احمد ج ١ ص ١٩٣، السنن الکبریٰ ، للنسائی رقم الحدیث : ٧١١٣)

(٢٧) محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ( حضرت علی (رض)) سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کون سے سب سے افضل تھا ؟ انہوں نے کہا : حضرت ابو بکر، میں نے پوچھا : پھر کون تھا ؟ انہوں نے کہا : حضرت عمر، مجھے یہ ڈر لگا کہ وہ کہیں گے : حضرت عثمان، میں نے پوچھا : پھر آپ سب سے افضل ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں تو مسلمانوں میں سے ایک مسلمان ہوں۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٧١)

(٢٨) حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر میں وضو کیا، پھر میں باہر نکلا اور میں نے سوچا آج میں سارا دن لازماً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہوں گا، پھر حضرت ابو موسیٰ مسجد میں آئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق دریافت کیا، لوگوں نے کہا : آپ مسجد سے نکل کر وہاں گئے اور ایک جگہ ارشاد کیا، پھر میں پوچھتے پوچھتے بیرارلیس تک پہنچا اور میں وہاں دروازے پر بیٹھ گیا، وہ درازہ درخت کی شاخوں کا بنا ہوا تھا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضاء حاجت سے فارغ ہوگئے اور آپ نے وضو کیا، میں آپ کے پاس گیا، اس وقت آپ بیرارلیس ( ایک کنویں) کی منڈیر کے وسط میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ نے کنویں میں ٹانگیں لٹکائی ہوئی تھیں اور پنڈلیاں کھولی ہوئی تھیں، میں نے آپ کو سلام کیا، پھر دروازہ کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور سوچا، آج میں آپ کا دربان بنوں گا، پھر حضرت ابوبکر آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا : کون ہے ؟ کہا : ابوبکر میں نے کہا : ٹھہریں، پھر میں آپ کے پاس جا کر کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حضرت ابوبکر اجازت طلب کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا : ان کو اجازت دو اور ان کو جنت کی بشارت دو ، پھر میں نے آ کر حضرت ابوبکر سے کہا : آپ آجائیں اور آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کی بشارت دی ہے، پھر حضرت ابوبکر آئے اور کنویں کی منڈیر پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے برابر اسی طرح ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ گئے اور اپنی پنڈلیاں کھول لیں، اس کے بعد اسی طرح حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) کے آنے اور انہیں جنت کی بشارت دینے کا ذکر ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٧٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤٠٣، مسند احمد ج ٤ ص ٣٩٣)

(٢٩) حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان احدپہاڑ پر چڑھے تو احد لرزنے لگا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے احد ٹھہر جا، تجھ پر ایک نبی ہے، ایک صدیق ہے اور دوشہید ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٧٥، مسند احمد ج ٥ ص ٣٣١)

(٣٠) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں لوگوں کے درمیان کھڑا ہوا تھا، پس لوگ حضرت عمر بن الخطاب کے لیے دعا کر رہے تھے اور حضرت عمر کا جنازہ ان کا تخت پر رکھا ہوا تھا، اس وقت ایک شخص نے اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھی ہوئی تھی اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ اللہ آپ پر رحم کرے، میں یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کا مقام آپ کے دو صاحبوں ( رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر) کے ساتھ کرے دے گا، کیونکہ میں نے کتنی بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : میں اور ابوبکر اور عمر تھے، اور میں نے اور ابوبکر اور عمر نے کیا، اور میں اور ابوبکر اور عمر گئے، پس بیشک میں یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ آپ کو آپ کے دونوں صاحبوں کے ساتھ رکھے گا، میں نے مڑ کر دیکھاتو یہ کہنے والے حضرت علی ابن ابی طالب تھے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٧٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٨٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٩٨، مسند احمد ج ١ ص ١١٤)

(٣١) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیماری کے ایام میں فرمایا : تم میرے لیے اپنے باپ ابوبکر کو اور اپنے بھائی ( عبد الرحمان) کو بلائو، حتیٰ کہ میں ان کو ایک مکتوب لکھ دو ، کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کوئی کہنے والا کہے گا کہ میں ہی سب سے زیادہ ( خلافت کا) مستحق ہوں اور کوئی نہیں ہے، اور اللہ اور مؤمنین ابوبکر کے غیر کا انکار کردیں گے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٨٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٦٤٦٠، مسند احمد ج ٤ ص ٣٢٢ )

(٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج صبح تم میں سے کون روزے سے اٹھا ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : میں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج تم میں سے کون شخص جنازہ کے ساتھ گیا ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : میں، آپ نے فرمایا : آج تم میں سے کس شخص نے مسکین کو کھانا کھلایا ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : میں نے، آپ نے فرمایا : آج تم میں سے کس شخص نے مریض کی عیادت کی ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : میں نے “ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص میں بھی یہ اوصاف ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣٨، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٨٠٧)

(٣٣) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں حضرت ابوبکر (رض) کے برابر کسی کو قرار نہیں دیتے تھے، حضرت عمر (رض) کو، پھر حضرت عثمان (رض) کو، پھر اس کے بعد ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو چھوڑ دیتے تھے اور کسی کو دوسرے پر فضلیت نہیں دیتے تھے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٩٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٢٨، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٠٧)

امام ابو دائود کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات میں یہ کہتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد امت میں سے افضل حضرت ابوبکر ہیں، پھر حضرت عمر ہیں اور پھر حضرت عثمان ہیں۔

(٣٤) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بھی ہمارے ساتھ کوئی نیکی کی، ہم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے سوائے ابوبکر کے، انہوں نے ہمارے ساتھ ایسی نیکی کی ہے جس کا بدلہ انہیں اللہ قیامت کے دن دے گا، اور مھجے کسی کے مال سے وہ فائدہ نہیں پہنچا جو ابوبکر کے مال سے پہنچا ہے اور اگر میں دنیا میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، سنو ! تمہارے پیغمبر اللہ کے خلیل ہیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٥٥ مسند احمد ج ٢ ص 253)

(٣٥) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا، پھر ابوبکر، پھر عمر، الحدیث (سنن ترمذی رقم الحدیث :3692)

(٣٦) حضرت ابن عمر (رض) باین کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر سے فرمایا : نم غار میں بھی میرے صاحب تھے اور حوض پر بھی میرے صاحب ہو گے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث :3670)

(٣٧) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے ایک بڑا پیالہ دیا گیا ہے، جو دودھ سے بھرا ہوا تھا، میں نے اس پیالے سے پیا، حتیٰ کہ میں سیر ہوگیا اور میں نے دیکھا کہ وہ دودھ میری کھال اور گوشت کے درمیان رگوں میں جاری ہوگیا، میں نے اس پیالے میں دودھ بچا دیا اور وہ دودھ ابوبکر کو دیا، صحابہ نے کہا، یا رسول اللہ ! یہ علم ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا حتیٰ کہ جب آپ اس سے سیر ہوگئے تو آپ نے اپنا بچا ہوا علم ابوبکر کو دیا، آپ نے فرمایا : تم نے اس کی صحیح تعبیر کی ہے۔ (صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6854 المستدرک ج ٣ ص ٨٥ مجمع الزوائد ج ٩ ص ٦٩ )

(٣٨) حضرت ابن عباس (رض) بیان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا شخص داخل ہوگا، جس سے ہر گھر والے اور ہر بالا خانے والے کہیں گے : مرحبا، مرحبا، ہمارے پاس آئیں، ہمارے پاس آئیں، حضرت ابوبکر نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ شخص کتنا کامیاب اور سرخ رو ہوگا، آپ نے فرمایا : کیوں اور وہ تم ہو گے اے ابوبکر۔ (صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6867 المعجم الکبیر رقم الحدیث :11166، المعجم الاوسط رقم الحدیث :485)

(٣٩) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا میرے ماں باپ دین اسلام کے مطابق عبادت کرتے تھے اور ہر روز صبحیا شام کو ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آتے تھے جب مسلمانف تنہ میں مبتلا ہوئے تو ہجرت کر کے حبشہ کی طرف جانے لگے، حتیٰ کہ جب وہ برک الغماد پر پہنچے تو ان کو ابن الدغنہ ملا اور وہ ایک بستی کا سردار تھا، اس نے ہا : اے ابوبکر ! آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ حضرت ابوبکر نے کہا : مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ زمین میں سفر کروں اور اپنے رب کی عبادت کرں، ابن الدغنہ نے کہا : آپ ایسا شخص خود جائے گا نہ اس کو جانے دیا جائے گا، جس کے پاس مال نہ ہو، آپ اس کے لئے مال کماتے ہیں، رشتہ داروں سے مل کر رہتے ہیں، ناداروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور حق کے راستے میں جو مشکلات آتی ہیں ان میں مدد کرتے ہیں، میں آپ کا ضامن ہو، آپ لوٹ آئیں اور اپنے شہر میں اپنے رب کی عبادت کریں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2297 سنن ابو دائود رقم الحدیث :2283 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6277، مسند احمد ج ٦ ص 98)

(٤٠) حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے مشورہ کیا، انہوں نے آپ کو مشورہ دیا، پس حرت ابوبکر کا مشورہ صحیح تھا، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ اس کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر خطاء پر قرار دیا جائے۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث :3961 حافظ الہیثمی نے کہا : اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، مجمع الزوائد رقم الحدیث :14328)

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی فضیلت اور افضلیت میں کتب شیعہ کی تصریحات

محمد بن المنکدر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت (علیہ السلام) کو دیکھا، وہ کوفہ میں منبر پر فرما رہے تھے، اگر تم میرے پاس کسی ایسے شخص کو لائے جو مجھ کو ابوبکر اور عمر سے افضل کہتا ہو تو میں اس کو اتنے کوڑے ماروں گا، جو بہتان لگانے والے پر مارے جاتے ہیں۔ (رجال الکشی ص ٣٣٨، مئوستہ الاعلمی للمطبوت، کربلا)

ایام فتنہ میں حضرت عی (رض) نے حضرت عثمان (رض) سے فرمایا :

ابوبکر و عمر (رض) بھی حق پر عمل کرنے میں آپ سے زیادہ اولیٰ نہیں تھے۔ (نہج البلاغۃ ص ٥٦٦، خطبہ نمبر ١٦٤، انتشارات زرین، ایران)

شیخ ابوعلی الفضل بن الحسن الطبرسی من اکابر الامامیہ فی القرن الساوس ” والذی جآء بالصدق وصدق بہ “ (الزمر : ٣٣) کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ایک قول یہ ہے کہ ” والذی جاء بالصدق “ سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ” وصدق بہ “ سے مراد ابوبکر ہیں۔ (مجمع البیان جز ٨ ص ٧٧٧، دارالمعرفہ، یروت، ١٤٠٦ ھ) یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچا دین لے کر آئے اور حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کی تصدیق کی۔

سورۃ اللیل کی تفسیر کا اختتام

الحمد للہ رب العلمین ! آج ٢١ رمضان ١٤٢٦ ھ/٢٦ اکتوبر ٢٠٠٥ ئ، بہ روز بدھ بعد نماز فجر سورة الیل کی تفسیر مکمل ہوگئی، رب العلمین ! جس طرح آپ نے یہاں تک تفسیر لکھوا دی ہے، باقی سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں، اس تفسیر میں اور میری جملہ تصانیف کو قیامت تک باقی اور فیض آفریں رکھیں اور میری، میرے والدین کی، میرے قارئین کی اور سب مئومنین کی مغفرت فرما دیں۔

و صلی اللہ تعالیٰ علیہ حبیبہ سیدنا محمد وعلیٰ آلہ و اصحابہ وازواجہ و ذریتہ وامتہ اجمعین

القرآن – سورۃ نمبر 92 الليل آیت نمبر 19

Exit mobile version