Site icon اردو محفل

وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَۙ – سورۃ نمبر 94 الشرح آیت نمبر 2

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَۙ ۞

ترجمہ:

اور آپ سے (پرمشقت چیزوں کا) بوجھ اتار دیا

الانشراح : ٣-٢ میں فرمایا : اور آپ سے (پرمشقت چیزوں کا) بوجھ اتار دیا۔ جس نے آپ کیپشت کو گراں بار کردیا تھا۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ” وزر “ کے محامل

اس آیت میں ” وزر “ کا لفظ ہے، بعض مفسرین نے اس کا معنی گناہ کیا ہے، چونکہ ” وزر “ کی نسبت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے، اس لئے اس کا معنی گناہ کرنا صحیح نہیں ہے، سو یہاں اس کا معنی ہے، پر مشقت کا موں کا بوجھ

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی لکھتے ہیں :

عبدالعزیز بن یحییٰ اور ابوعبیدہ نے کہا : اس کا معنی ہے : ہم نے آپ سے نبوت کے بوجھ اور اس کے فرئاض کی ادائیگی میں تخفیف کردی تاکہ فرئاض نبوت کو ادا کرنا آپ پر دشوار نہ ہو۔

ایک قول یہ ہے کہ ابتداء میں آپ پر وحی کا نزول بہت شدید ثقیل ہوتا تھای حتیٰ کہ آپ خود کو پہاڑ کی چوی سے گرا دنیے کا ارادہ کرتے، پھر حضرت جبریل آپ کو بچا لیتے تھے، پھر آپ سے اس بوجھ کو زائل کردیا، جس سے آپ کی عقل کے متغیر ہونے کا خطرہ تھا۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٩٤ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خود کو پہاڑ سے گرا دینے کے ارادہ کی روایت صحیح نہیں

مصنف کے نزدیک یہ قول صحیح نہیں ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وحی کے ثقل سے گھبرا کر کبھی خود کو پہاڑ سے گرا دینے کا ارادہ نہیں کیا، اس کے برخلاف حدیث میں یہ ذکر ہے :

حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ سخت سردی کے ایام میں آپ پر وحی نازل ہوتی تو وحی منقطع ہونے کے بعد آپ کی پیشانی سے پسینہ بہ رہا ہوتا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٣٣، مسند حمد ج ٦ ص 158)

اور پہاڑ سے خود کو گرا دینے کے قصد کی حسب ذیل روایت صحیح نہیں ہے، اس حدیث میں ہے :

حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ سخت سردی کے ایام میں آپ پر وحی نازل ہوتی تو وحی منقطع ہونے کے بعد آپ کی پیشانی سے پسینہ بہ رہا ہوتا تھا۔ (حیح البخاری رقم الحدیث : ٢ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٣٣، مسند احمد ج ٦ ص 158) اور پہاڑ سے خود کو گرا دینے کے قصد کی حسب ذیل روایت صحیح نہیں ہے، اس حدیث میں ہے۔

حضرت عائشہ (رض) کی روایت کردہ طویل حدیث کے آخر میں ہے :

حضرت خدیجہ (رض) آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، ورقہ بن نوفل نے آپ کو تسلی دی اور کہا : آپ کے پاس وہی ناموس آیا ہے جو حضرت موسیٰ کے پاس آیا تھا …پھر کچھ دنوں بعد ورقہ فوت ہوگئے اور وحی کا آنا رک گیا، حتیٰ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت غمگین ہوئے (امام زہری فرماتے ہیں :) ہمیں جو حدیث پہنچی ہے، اس میں یہ مذکور ہے کہ آپ پر غم کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آپ نے کئی بار خود کو پہاڑ کی چوٹیوں سے گرانے کا ارادہ کیا اور ہر بار جب بھی آپ خود کو پہاڑ کی چوٹی سے گرا دینے کا ارادہ کرتے تو آپ کے سامنے حضرت جبریل (علیہ السلام) آجاتے اور کہتے : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک آپ رسول برحق ہیں، پھر آپ کا اضطراب ختم ہوجاتا اور آپ کا دل ٹھنڈا ہوجاتا اور آپ واپس چلے جاتے، پھر جب کافی دنوں تک وحی نہ آتی تو پھر آپ اسی طرح پہاڑ پر جاتے اور پہاڑ کی بلندی سے خود کو گرانے کا ارادہ کرتے اور جبریل آپ کے سامنے نمودار ہو کر اسی طرح کہتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٨٢)

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس حدیث کے آخر میں یہ اضافہ صرف معمر کی روایت میں ہے، امام ابونعیم نے اپنی مستخرج میں شیخ بخاری یحییٰ بن بکیر سے اس حدیث کو اس اضافہ کے بغیر روایت کیا ہے، اسماعیل نے بھی کہا ہے کہ یہ اضافہ صرف معمر کی روایت میں ہے، امام مسلم، امام احمد، امام اسماعیلی اور امام ابونعیم نے اس حدیث کو اس اضافہ کے بغیر روایت کیا ہے اور یہ حدیث بلاغات زہری سے ہے اور متصل نہیں ہے (لہٰذا یہ حدیث منقطع ہے اور چونکہ امام بخاری کے شیخ یحییٰ بن بکیر اور دیگر ائمہ حدیث نے اس حدیث کو اس اضافہ کے بغیر روایت کیا ہے، اس لیء یہ حدیث شاذ ہے اور کیونکہ اس حدیث کا متن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر موجب طعن ہے، اس لئے یہ حدیث نہ روایۃ صحیح ہے نہ داریۃ سعدی غفرلہ) حافظ ابن حجر نے لکھا ہے : اس روایت کا متصل نہ ہونا ہی معتمد ہے۔ (فتح الباری ج ١٤ ص 383، دارلافکر، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ” وزر “ کے بعض دیگر محامل

ہم نے آپ کے اعلان نبوت سے پہلے آپ کو نامناسب کاموں سے محفوظ رکھا، حتیٰ کہ جب آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ بالکل معصوم تھے۔

امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی 333 ھ لکھتے ہیں :

عام اہل تاویل نے کہا ہے کہ ” وزر “ کا معنی گناہ ہے، وہ کہتے ہیں : پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ” وزر “ ” ذنب “ کو ثابت کیا، پھر ” ذنب “ کو آپ سے ساقط اور زائل کردیا، اس قوم سے ہم کو وحشت ہوتی ہے، ہم کہتے ہیں کہ اس کا معنی ہے : آپ کے اوپر جو نبوت کا ثقل تھا، ہم نے اس میں تخفیف کردی، اگر ہم یہ تخفیف نہ کرتے تو نبوت کا بوجھ آپ کی کمر توڑ کر رکھ دیتا۔

اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے آپ کو گناہوں سے محفوظ اور معصوم بنایا اور اگر آپکی حفاظت اور عصمت نہ ہوتی تو آپ کے ” اوزار “ اور ” ذونبو “ ہوتے، جیسے ” ووجدک ضالاً فھدی۔ “ (الضحیٰ : ٧) میں فرمایا تھا : اگر اللہ آپ کو ہدایت پر ثابت قدم اور برقرار نہ رکھتا تو وہ ضرور آپ کو غیر ہدایت یافتہ پاتا کیونکہ آپ گم راہ قوم کے درمیان تھے، لیکن آپ کو ہدایت پر ثابت قدم اور برقرار رکھا تو آپ کو غیر ہدایت یافتہ نہیں پایا، اسی طرح اس آیت کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم بنایا اور آپ میں گناہوں کے بوجھ کو داخل ہونے نہیں دیا اور اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ پہلے آپ نے گناہوں کا بوجھ اٹھایا اور پھ آپ سے اس بوجھ کو اتار دیا۔ (تاویلات اہل السنتہ ج ٥ ص 482، مئوسستہ الرسالتہ، ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی نے اس آیت کے نومحمل ذکر کئے ہیں، جن میں سے بعض نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منصب اور آپ کی شان کے لائق نہیں ہیں، ہم قوسین میں ان نامنساب اور باطل محامل کی نشان دہی کردیں گے۔

(١) قتادہ نے کہا : اس سے مراد زمانہ جاہلیت میں آپ کے گناہ ہیں، جن کا آپ پر بوجھ تھا، اللہ تعالیٰ نے اس بوجھ کو اتار دیا یعنی آپ کو معاف کردیا۔ (یہ قول باطل ہے کیونکہ آپ اعلان نبوت سے پہلے اور اس کے بعد ہر قسم کے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے معصوم ہیں، خواہ ان گناہوں کا صدور آپ سے سہواً یا عمداً ، صورۃ ہو یا حقیقتاً غلام رسول سعیدی غفرلہ)

(٢) ” وزر ‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ کی قوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت کے خلاف جو کام کرتی تھی، آپ ان کاموں کو مکروہ جانتے تھے اور ان کی وج ہ سے آپ کی طبیعت پر بوجھ تھا اور آپ خود ان میں تغیر کرنے پر قادر نہ تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

فاتبعوا ملۃ ابراہیم حنیفاً ط (آل عمران : ٩٥) تم لوگ ملت ابراہیم کی پیروی کرو، جو باطل ادیان سے الگ ہیں۔ اور یوں اللہ تعالیٰ نے آپ کی طبیعت کے اس بوجھ کو اتار دیا۔

(٣) نبوت کے فرئاض منصبی کا جو آپ پر ثقل تھا، اس بوجھ کو اتار کر آپ کے فرائض منصبی میں تخفیف کردی۔

(٤) امت کے گناہ بھی آپ کی طبیعت پر بوجھ تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ سے شفاعت کا وعدہ فرما کر اور ” ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ ۔ “ ( الضحیٰ : ٥) نازل فرما کر اس بوجھ کو اتار دیا۔

(٥) اگر آپ کے گناہ ہوتے تو ان کے بوجھ سے آپ کی کمر ٹوٹ جاتی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم بنا کر اس بوجھ سے معصوم اور مامون کردیا۔

(٦) ” وزر “ سے مراد ہیبت اور خوف ہے، جو حضرت جبریل سے پہلی ملاقات کے وقت آپ پر طاری ہوا تھا اور آپ پر یہ حالت طاری ہوئی کہ آپ شدت اشتیاق سے خود کو پہاڑ سے گرا دینا چاہتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل کو قوی کردیا۔ (ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ واقعہ صحت سے ثابت نہیں۔ سعیدی غفرلہ)

(٧) کفار قریش کے ظلم و ستم سے آپ کے دل پر بوجھ طاری تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لد کو قوی کر کے وہ بوجھ اتار دیا، حتیٰ کہ ایک موقع پر کفار نے آپ کا چہرہ خون سے رنگین کردیا تب بھی آپ یہی فرما رہے تھے :

اللھم اھد قومی فانھم لایعلمون، اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ مجھ کو نہیں (تفسیر کبیرج ١١ ص 207 داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ) اے اللہ ! یمیر قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ مجھ کو نہیں جانتے۔

” اللھم اھد لقومی فانھم لایعلمون “ یہ دعا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کی …کسی اور بنی نے کی

علامہ ابن حجر مکی متوفی ٩٧٤ ھ نے لکھا ہے کہ غزوہ احد میں جب کفار نے آپ کا دانت شہید کردیا اور آپ کا چہرہ زخمی کردیا تو آپ کے اصحاب کو اس سے بہت رنج ہوا اور انہوں نے آپ سے کہا، آپ ان کے خلاف دعا کریں، تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا، بلکہ مجھے دعا کرنے والا اور رحمت بنا کر بھیجا ہے، اے اللہ ! میری قوم کو معاف فرما دے یا فرمایا :” اللھم اھد قومی فانھم الیعلمون “ اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ مجھے نہیں جانتے۔ (اشرف الوسائل الی فہم الشمائل ص ٥٠٢ دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٤١٩ ھ)

ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی ١٠١٤ ھ نے بھی اپنے استاد علامہ ابن حجر کی اتباع میں اسی طرح لکھا ہے۔ (جمع الوسائل فی شرح الشمائل ج ٢ ص ١٩٤ مطبع نور محمد، کراچی)

میں کہتا ہوں کہ ” اللھم اھد قومی فانھم لایعلمون “ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا نہیں ہے، کسی اور نبی کی دعا ہے، حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ گویا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دیکھ رہا تھا، آپ انبیاء سابقین میں سے کسی نبی کا واقعہ بیان فرما رہے تھے، جن کو ان کی قوم نے زخمی کردیا تھا، وہ اپنے چہرے سے خوف صاف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے :” اللھم اغفر لقومی فانھم لایعلمون “ اے اللہ ! میری قوم کو معاف کر دے کیونکہ یہ مجھے نہیں جانتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٧٧ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٩٢ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٤٥ سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٤٧١ مسند احمد ج ١ ص ٣٨٠)

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔

جب غزوہ احد میں کافر نے آپ کا چہرہ زخمی کردیا تھا، تو آپ نے یہ فرمایا تھا :

کیف یفلح قوم شجوا نبیھم وکسروا رباعیتہ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٩١) وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا چہرہ زخمی کردیا اور ان کا دانت شہید کردیا۔ ہوسکتا ہے کہ جب غزوہ احد میں کفار نے آپ کا چہرہ زخمی کردیا اور صحابہ غمگین ہوئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس نبی کا واقعہ یاد آگیا اور آپ نے صحابہ کی دلجوئی کے لئے اس نبی (علیہ السلام) کا قول ذکر فرمایا۔ (فتح الباری ج ٧ ص 204، دارالفکر، بیروت ١٤٢٠ ھ)

علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم مالکی قرطبی متوفی 656 ھ مسلم : ١٧٩١ کی شرح میں لکھتے ہیں :

حضرت ابن مسعود نے جو فرمایا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کسی نبی کا واقعہ بیان فرما رہے تھے، جن کی قوم نے ان کا چہرہ خون آلود کردیا تھا ” اللھم اغفر لقومی فانھم لایعلمون “ اس نبی سے آپ کی مراد خود اپنی ذات مبارکہ تھی، گویا غزوہ احد سے پہلے آپ کی طرف یہ وحی کی گئی تھی اور آپ کے لئے اس نبی کا تعین نہیں کیا گیا تھا اور جب غزوہ احد پیش آیا تو متعین ہوگیا کہ اس نبی سے مراد آپ خود تھے۔ (المفہم ج ٣ ص 651، دارابن کثیر، دمشق، ١٤٢٠ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : علامہ قرطبی کے اس قول کا فساد درج ذیل حدیث سے ظاہر ہوجاتا ہے۔ (فتح الباری ج ٧ ص 204-205)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں : جب جعرانہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں تو آپ پر بہت رش ہوگیا، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو اس کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا، ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی اور ان کا چہرہ زخمی کردیا، پس وہ نبی اپنی پیشانی سے اپنا خون صاف کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اے اللہ ! میری قوم کو معاف فرما، پس بیشک یہ نہیں جانتے، حضرت ابن مسعود نے فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دیکھ رہا تھا، آپ اس نبی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنی پیشانی صاف کر رہے تھے۔ (شعب الارنوط نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے)

خلاصہ یہ ہے کہ ” اللھم اغفرلقومی فانھم لایعلمون “ یہ دعا کسی اور نبی (علیہ السلام) کی ہے، سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دعا کو نقل فرمایا ہے، خود یہ دعا نہیں کی اور اس دعا کی نسبت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کرنے میں امام رازی، علامہ ابن حجر مکی، ملا علی قاری اور علامہ قرطبی نے خطاب کی ہے۔ ہم نے اس کی زیادہ تفصیل اس لئے کی ہے کہ ہمارے زمانہ میں علماء مقررین اور مصنفین اس دعا کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اس قول کی نسبت کریں، جو آپ نے نہ فرمایا ہو، حدیث میں ہے :

حضرت سلمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے میری طرف اس بات کی نسبت کی جو میں نے نہیں کی، وہ اپنے بیٹھنے کی جگہ دوزخ میں بنا لے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٠٩ مسند احمد ج ٢ ص 502)

(٨) اگر یہ سورت ابوطالب کی موت کے بعد نازل ہوئی ہے تو ان کی موت سے جو آپ کو شدید قلق ہوا تھا، اس بوجھ سے مراد وہ قلق ہے اور جب شب معراج سب نبیوں نے آپ کو خوش آھدید کہا اور آپ کی تحسین کی اور آپ کا ذکر بلند فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس بوجھ کو اتار دیا۔

(٩) ” وزر “ سے مراد وہ ثقل اور حیرت ہے جو اعلان نبوت سے پہلے آپ پر طاری تھی، کیونکہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی کامل عقل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر غور کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عدم سے وجود میں لایا اور آپ کو حیات عقل اور دیگر بہت نعمتیں عطا کیں تو آپ پر اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا بہت ثقل اور بوجھ ہوا اور قریب تھا کہ شدت حیا سے آپ کی کمر ٹوٹ جاتی، کیونکہ آپ دیکھ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں غیر متناہی ہیں اور آپ حیران تھے کہ کس طرح اپنے رب کی اطاعت کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو معبوث فرمای اور آپ کو شریعت عطا کی اور اعلان نبوت کا حکم دیا اور آپ کو مکلف کیا، تب آپ کو معلوم ہوا کہ اب رب کی کیسے اطاعت کریں، پھر آپ کا بوجھ کم ہوگیا اور آپ پر معاملات آسان ہوگئے، کیونکہ لئیم النفس کو زیادہ نعمتیں ملیں اور وہ منعم کی خدمت نہ کرے تو اس کو حیاء نہیں آتی اور جو کریم النفس ہو اور اس پر زیادہ انعام کیا جائے اور وہ ان نعمتوں کے مقالہ میں منعم کی خدمت نہ کرسکے تو اس کو بہت حیائی آتی ہے اور اس کی طبیعت پر بہت بوجھ پڑتا ہے اور جب منعم اس کو اپنی خدمت کا مکلف کر دے تو اس کا بوجھ اتر جاتا ہے اور اس پر معاملہ سہل ہوجاتا ہے اور وہ خوش ہوجاتا ہے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 207-208 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 94 الشرح آیت نمبر 2

Exit mobile version