حکومتی سرپرستی میں منعقد ہونے والی “قومی علماء و مشائخ کانفرنس” میں شریک اکثر مذہبی شخصیات کی گفتگو سن کر یوں محسوس ہوا جیسے یہ سب علماء نہیں بلکہ اقتدار کے ترجمان ہوں۔ مدح، قصیدے، دعائیں، اور حکومتی کارکردگی کے گُن گائیے ہوں… گویا تعلیمات نبوی کے وارث نہیں، سرکاری ترجمان ہوں۔
یہ منظر نیا نہیں، مگر ہر بار اتنا ہی شرمناک ضرور ہوتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ علماء کا اصل امتحان اقتدار کے ایوانوں میں نہیں، اقتدار کے سامنے کھڑے ہو کر ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان ہے کہ “ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا سب سے افضل جہاد ہے”
لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہ جہاد کر کون رہا ہے؟
(اسکا جواب آپ اپنے ضمیر سے لیجیے)
نبی کریم ﷺ کے بعد صحابہؓ نے اقتدار کی قربت کو اعزاز نہیں سمجھا۔۔۔ حضرت ابوذر غفاریؓ نے جب اموی حکمرانوں کی عیش پرستی پر سوال اٹھایا تو انہیں مدینہ سے نکال دیا گیا۔۔۔ نہ انہوں نے الفاظ بدلے، نہ لہجہ نرم کیا۔ یہی فرق تھا صحابی اور درباری خطیب میں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت سعید بن زیدؓ اور دیگر کئی صحابہؓ نے فتنۂ اقتدار میں شامل ہونے کے بجائے خاموشی، تقویٰ اور ظلم کے خلاف آواز بلندی کو ترجیح دی
تابعین کے دور میں حجاج بن یوسف جیسے جابر حکمران تھے، مگر امام سعید بن جبیرؒ جیسے علماء بھی تھے، جنہوں نے سچ کہا اور سر کٹوا دیا، ضمیر نہیں بیچا۔
امام حسن بصریؒ نے دربار کے حق میں فتوے نہیں لکھے بلکہ ظلم کو ظلم کہا۔
پھر محدثین اور فقہاء کا دور آیا۔
حضرت سیدنا امام جعفر صادق بنو عباس کے ظلم کا نشانہ بنے۔
امام ابو حنیفہؒ کو قاضی بنانے کی پیشکش ہوئی، انکار کیا، کوڑے کھائے، قید کاٹی اور جان دے دی، مگر حکمران کی بیعت نہیں کی۔
امام مالکؒ کو سرِ عام کوڑے مارے گئے کیونکہ ان کا فتویٰ حکمرانوں کے مفاد کے خلاف تھا۔
امام احمد بن حنبلؒ کو خلقِ قرآن کے مسئلے پر بدترین تشدد کا سامنا کرنا پڑا، مگر ریاستی بیانیہ قبول نہ کیا۔
امام شافعی بھی درباری سازشوں کا شکار رہے۔
یہ تھے علماءِ حق۔۔۔جن کے قول و فعل اقتدار کا ملازم نہیں تھا۔
مگر سچ یہ بھی ہے کہ ہر دور میں ایک دوسرا طبقہ بھی موجود رہا۔۔۔
وہ علماء جو ہر طاقتور کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔
جو ظلم کو “مصلحت”، جبر کو “استحکام” اور آمریت کو “اطاعتِ امیر” کا نام دیتے ہیں۔
یزید کے دربار میں بھی یہ موجود تھے، بنو امیہ و بنو عباس میں بھی، اور آج کے حکومتی ہالز میں بھی۔۔۔
یہی وہ لوگ ہیں جو ہر حکومت میں”اسلامی خدمت” کے سرٹیفکیٹ بانٹتے ہیں، مگر حق پر لگنے والے زخموں پر خاموش رہتے ہیں۔
علماء و مشائخ کانفرنس میں موجود ان علماء نے کبھی قومی غریب ، قومی ظلم و زیادتی، مہنگائی کے خلاف بھی زبان کو جنبش دی ؟
کیا منبر مظلوم کے ساتھ ہے یا طاقتور کے ساتھ؟
کیا عالم کا کام سوال اٹھانا ہے یا تعریف کرنا؟
کیا دین اقتدار کا محافظ ہے یا اقتدار دین کا؟
علماءِ حق ہمیشہ کم رہے، مگر سرخرو رہے۔
تاریخ کا فیصلہ بہت واضح ہے۔
لوگوں کو درباری علماء کے نام یاد نہیں۔۔۔
مگر قید خانے آج بھی امام ابو حنیفہؒ کو جانتے ہیں
کوڑے آج بھی امام مالکؒ کو یاد رکھتے ہیں
اور کربلا آج بھی بتاتی ہے کہ حق کی قیمت کیا ہوتی ہے۔
درباری علماء ہمیشہ زیادہ رہے، مگر تاریخ میں محض ایک سطر بن کر رہ گئے۔
آج بھی انتخاب وہی ہے
امام ابو حنیفہؒ و حنبل کی قید، یا دربار کی کرسی۔۔۔۔دونوں ایک ساتھ کبھی نصیب نہیں ہوئیں۔
از قلم
سید حسنین نوری
