العلق : ٧-٦ میں فرمایا : بیشک انسان ضرور سرکشی کرتا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو بےنیاز سمجھ لیا ہے۔
” طغیان “ کا معنی
مفسرین نے کہا : العلق : ٦ سے لے کر آخر سورت تک تمام آیات ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی ہیں، اس آیت میں ” لیطغی “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” طغیان “ ہے، اس کا معنی ہے : اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا۔
حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : جب یہ آییں نازل ہوئیں اور مشرکین نے ان کو سنا تو ابوجہل نے آپ کے پاس آ کر کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا یہ زعم ہے کہ جو مستغنی ہوتا ہے، وہ سرکشی کرتا ہے تو آپ ہمارے لئے مکہ کے پہاڑوں کو سنا بنادیں، شاید ہم اس سے کچھ سونا لے لیں، پھر ہم اپنا دین چھوڑ کر آپ کے دین کی پیروی کریں گے، تب آپ کے پاس حضرت جبریل (علیہ السلام) آئے اور کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کو اختیار دیں، اگر یہ چاہیں تو ہم پہاڑ کو سونا بنادیں اس کے باوجود اگر انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تو ہم ان پر وہ عذاب نازل کریں گے، جو اصحاب مائدہ پر نازل کیا تھا، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم تھا کہ وہ اس کو قبول نہیں کریں گے، اس لئے آپ نے ان کو ان کے اسی حال پر باقی رکھا۔