Site icon اردو محفل

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ فِىۡ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمۡ شَرُّ الۡبَرِيَّةِ – سورۃ نمبر 98 البينة آیت نمبر 6

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ فِىۡ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمۡ شَرُّ الۡبَرِيَّةِ ۞

ترجمہ:

بیشک اہل کتاب میں سے جو کفار ہیں اور مشرکین ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہنے والے ہیں، وہی تمام مخلوق میں بدترین ہیں

البینہ : ٦ میں فرمایا : بیشک اہل کتاب میں سے جو کفار ہیں اور مشرکین ہیں، وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہنے والے ہیں، وہی تمام مخلوق سے بدترین ہیں۔

کفار اہل کتاب کے عذاب کو مشرکین کے عذاب پر مقدم کرنے کی توجیہ

میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ اعمال کی صحت کا مدارنیت پر ہے، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اعمال کی فضیلت کا مدارنیت پر ہے کیونکہ بہت سارے اعمال بغیر نیت کے بھی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ہوتے ہیں، مثلاً کسی چیز کو خریدنا، بیچنا، واپس کرنا، کسی چیز کو کرائے پر دینا، کسی کو ملازم رکھنا، نکاح کرنا، طلاق دینا، منگنی کرنا، ایلاء کرنا، ظہار کرنا، بیوی بچوں کو خرچ دینا اور اس طرح کے بہت اعمال بغیر نیت کے بھی صحیح ہیں، لہٰذا وضو کرنا بھی بغیر نیت کے صحیح ہے، البتہ فضیلت اسی میں ہے کہ وضو کرنے سے پہلے اس میں طہارت کی نیت کی جائے۔

البینہ : ٥ کے لطائف اور نکات

اس آیت میں حسب ذیل لطائف اور نکات ہیں :

(١) اس آیت سے پہلی چار آیتوں میں کفر کو ترک کرنے اور عقائد صحیحہ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس آیت میں اخلاص سے عبادت کرنے، نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم ہے پھر اس مجموعہ کے متعلق فرمایا کہ یہی دین قیمہ ہے یعنی دین مستقیم ہے، اور اس میں یہود اور نصاریٰ اور مرجنئہ کا رد ہے، کیونکہ یہود اور نصاریٰ عمل تو بہت کرتے تھے لیکن اللہ عزوجل کی توحید اور سدینا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت پر ان کا ایمان نہیں تھا، مرجئہ کا عقائد صحیحہ پر ایمان تو تھا مگر وہ اعمال صالحہ کو ضروری نہیں مانتے تھے، پس ان میں سے کوئی بھی دین قیمہ اور دین مستقیم کا حامل نہیں ہے، دین قیمہ کے حامل صرف اہل سنت و جماعت ہیں۔

(٢) اس آیت میں مسلمانوں کی فرشتوں پر فضیلت ظاہر کی گئی ہے کیونکہ فرشتے تسبیحات پڑھتے ہیں، رکوع اور سجود کرتے ہیں لیکن وہ محنت اور مشقت سے مال کما کر اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور مسلمان نماز پڑھتے ہیں، یہ وصف فرشتوں میں بھی ہے اور مسلمان زکوۃ بھی ادا کرتے ہیں اور یہ وصف فرشتوں میں نہیں ہے، اس لئے فرشتوں سے آخرت میں کہا جائے گا کہ تم مسلمانوں کی عظمتوں کو سلام کرو کیونکہ انہوں نے محنت اور مشقت میں نہیں ہے، اس لئے فرشتوں سے آخرت میں کہا جائے گا کہ تم مسلمانوں کی عظمتوں کو سلام کرو کیونکہ انہوں نے محنت اور مشقت سے مال کما کر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر صبر کیا اور انہوں نے روزے رکھے اور بھوک اور پیاس کو بردشات کر کے صبر کیا، قرآن مجید میں ہے :

(الرعد : ٢٤-٢٣) اور فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے داخل ہوں گے۔ اور کہیں گے : تم پر سلام ہو کیونکہ تم نے صبر کیا۔

(٣) نفس کا مل تب ہوتا ہے، جب اس کو علم بھی ہو اور قدرت بھی، اگر اس کو علم ہو اور قدرت نہ ہو تو وہ اپاہج کی طرح عاجز اور ناقص ہے، اگر اس کو قدرت اور علم نہ ہو تو وہ مجنون کی طرح ناقص ہے اور نماز دین کے لئے علم کے منزلہ میں ہیں اور زکوۃ دین کے لئے قدرت کے مرتبہ میں، پس جس طرح نفس علم اور قدرت سے کامل ہوتا ہے، اسی طرح دین نماز اور زکوۃ سے کامل ہوتا ہے اور یہی دین قیمہ ہے۔

(٤) پہلے ” مخلصین “ فرمایا : اس میں دین کے عقائد کی طرف اشارہ ہے، پھر نماز اور زکوۃ کا فرمایا اور ان عبادات کی مشقت سے مسلمان علم اور عمل کے لحاظ سے کامل ہوگئے، اور وہ دین قیمہ کے حامل ہوگئے۔

(٥) اس آیت میں عقائد اور اعمال کا ذکر ہے اور ایمان کامل تصدیق اور اعمال صالحہ کا مجموعہ ہے، سو اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے۔

البینہ : ٥ میں فرمایا : بیشک اہل کتاب میں سے جو کفار ہیں اور مشرکین ہیں، وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہنے والے ہیں، وہی تمام خلوق سے بدترین ہیں۔

کفار اہل کتاب کے عذاب کو مشرکین کے عذاب پر مقدم کرنے کی توجیہ

البینہ : ٦ میں کفار کے عذاب کا ذکر فرمایا ہے اور البینہ : ٨ -٧ میں مئومنین کے اجر وثواب کا ذکر فرمایا ہے، پہلے کفار کے عذاب اور پھر مئومنین کے اجر وثواب کا ذکر فرمایا تاکہ مئومنین اللہ کے عذاب کے ڈر سے گناہوں کو ترک کرتے رہیں، کفار کی وعید میں دو چیزوں کا ذکر فرمایا ہے : ایک یہ کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور دوسری چیز یہ ہے کہ وہ تمام خلوق میں بدترین ہیں۔

اگر کوئی شخص ساری عمر نماز نہ پڑھے تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی، لیکن اگر کوئی شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک بال کی بھی توہین کرے تو اس کی تکفیر کردی جائے گی، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی عبادات اتنی عزیز نہیں ہیں جتنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت اور حرمت عزیز ہے اور اہل کتاب میں سے کفار اللہ تعالیٰ کو تو مانتے تھے اور اس کی عبادت بھی کرتے تھے لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بےتوقیری کرتے تھے اور مشرکین اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے تھے اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر اللہ تعالیٰ کی بےتوقیری کرتے تھے اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کفار کا عذا ب بیان فرمای جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بےتوقیری کرتے تھے، پھر ان کا عذاب بیان فرمایا جو شرک کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی بےتوقیری کرتے تھے اور اس سے یہ ظاہر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ موجب غضب یہ چیز ہے کہ اس کے رسول کی بےتوقیری کی جائے، اس لئے اہل کتاب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ موجب غضب یہ چیز ہے کہ اس کے رسول کی بےتوقیری کی جائے، اس لئے اہل کتاب میں سے کفار کے عذاب کو پہلے بیان فرمایا اور مشرکین کے عذاب کو بعد میں بیان فرمایا۔

القرآن – سورۃ نمبر 98 البينة آیت نمبر 6

Exit mobile version