ان کی جزاء ان کے رب کے پاس ہے جو دائمی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے، یہ (جزائ) اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا رہا ؏
البینہ : ٨ میں فرمایا : ان کی جزا ان کے ربکیپ اس ہے، جو دائمی جنتیں ہیں، جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے، یہ (جزائ) اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا رہا۔
مئومنین صالحین کو جزا میں دائمی جنت عطا کرنے ایک توجیہ
مئومنین صالحین کی یہ نیت ہوتی ہے کہ وہ جب تک زندہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان رکھیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اعمال صالحہ کرتے رہیں گے اور اگر وہ دوام اور خلود کی زندگی پاتے تو وہ ائما ایمان پر قائم رہتے اور اعمال صالحہ کرتے رہتے، ان کی اس نیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں دوام اور خلود عطا فرمائے گا۔
اس آیت میں فرمایا ہے کہ مئومنین صالحین کی جزا دائمی جنتیں ہیں، اس سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ ان کو جنت ان کے نیک اعمال کی وجہ سے ملے گی جبکہ قرآن مجید میں یہ بھی ہے کہ مئومنین جنت میں داخل ہونے کے بعد کہیں گے :
(فاطر : ٣٥) جس نے اپنے فضل سے ہم کو ہمیشگی کے مقام میں داخل کردیا۔
پس ان دونوں آیتوں میں تعارض ہے، البینہ : ٨ سے معلوم ہوتا ہے کہ مئومنین صالحین کو جنت ان کے اعمال کی وجہ سے ملے گی اور فاطر : ٣٥ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو جنت اللہ سبحانہ کے فضل کی وجہ سے ملے گی، اس کا جواب یہ ہے کہ جنت ملنے کے دو سبب ہیں : حقیقی اور ظاہری سبب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور ظاہری سبب مئومنین صالحین کے نیک اعمال ہیں، فاطر : ٣٥ حقیقی سبب کا ذکر ہے اور البینہ : ٨ میں ظاہری سبب کا ذکر ہے، اس لئے ان دونوں آیتوں میں کوئی تعاضر نہیں ہے۔
مئومنین صالحین اور مئومنین تائبین کو ایک سے زائد جنتیں عطا فرمانے کی تحقیق
اس آیت میں فرمایا ہے کہ مئومنین صالحین کی جزاء دائمی جنات ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ مئومنین صالحین کو ایک سے زائد جنتیں ملیں گی، قرآن مجید میں ہے :
ولمن خاف مقام ربہ جنتن۔ (الرحمٰن : ٤٦) جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔ نیز فرمایا :
ومن دونھما جنتن۔ (الرحمٰن : ٦٢) اور ان دو جنتوں کے عالوہ اور دو جنتیں ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ مئومنین صالحین کے لئے چار جنتیں ہیں، امام رازی نے فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی چار پلکیں ہیں اور جب وہ خوف خدا سے روتا ہے تو ان چار پلکوں سے آسنو گرتے ہیں تو اس کی جزا میں اللہ تعالیٰ اس کو چار جنتیں عطا فرماتا ہے، الرحمٰن : ٢٦ میں خوف خدا کا ذکر مقدم ہے اور البینہ : ٨ میں خوف خدا کا ذکر مئوخر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : یہ (جزائ) ان کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، اس کا معنی یہ ہے کہ یہ چار جنتیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا ان مئومنین صالحین کے لئے جو اپنی زندگی کی ابتداء اور انتہاء میں یعنی پوری زندگی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی صورت یہ ہے کہ جب انسان کو اس کا نفس یا شیطان کسی گناہ پر ابھارے تو اسے خدا یاد آجائے اور وہ خوف خدا سے اس گناہ سے باز آجائے، جیسا کہ اس آیت میں ہے :
(الاعراف : ٢٠١) بیشک جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں جب شیطان ان کے دلوں میں برے کام کا خیال ڈالتا ہے تو وہ خدا کو یاد کرتے ہیں، سو اچانک ان کی آنکھیں کھلی جاتی ہیں۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ پھر تو چار جنتیں ان مئومنین صالحین کو ملیں گی، جو گناہ کرنے سے پہلے اللہ سے ڈریں اور گناہ نہ کریں اور جو لوگ شامت نفس یا اغواء شیطان سے گناہ کر گزریں، ان کا کیا انجام ہوگا، اس کا جواب یہ ہے کہ جو مئومنین گناہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے عذاب سے ڈر کر توبہ کرلیں اور اپنے گناہ پر اصرار نہ کریں، ان کا بھی اللہ سبحانہ سے ڈرنے والاوں میں شمار ہوگا، قرآن مجید میں ہے :
(آل عمران : ١٣٦-١٣٥) رب کی طرف سے مغفرت ہے اور وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور نیکی کرنے والوں کا کیا خوب اجر ہے۔ ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ جو مئومنین گناہ کرنے کے بعد اللہ سے ڈر کر فوراً توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی کئی جنتیں عطا فرمائے گا۔
عام مسلمانوں کی خدا خوفی کی دلیل
اگر یہ سوال کیا جائے کہ آپ نے یہ کہا ہے کہ جو شخص پوری زندگی اللہ سے ڈرتا رہے، اس کو چار جنتیں ملیں گی تو عام مسلمان کیسے پوری زندگی اللہ سے ڈرنے کے مصداق ہوں گے، میں کہتا ہوں کہ جو مسلمان پانچ وقت کی نما زپڑھتے ہیں اور وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں، وہ اللہ سبحانہ سے ہمیشہ ڈرتے رہنے کے مصداق ہیں، اول اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی یا اس کے عذاب سے ڈر کر پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں، ثانی اس لئے کہ وہ وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ وضو نماز نہیں پڑھتے، سخت سردی میں بھی وہ وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بےوضو نماز نہیں پڑھتے، سو جو مئومنین پانچ وقت وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں، وہ اپنی ساری زندگی میں اللہ سے ڈرنے والوں کے مصداق ہیں اور اللہ کے فضل سے امید واثق ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور ان سے جو گناہ ہوگئے، ان کو بخش دے گا اور اپنے فضل سے انہیں کئی جنتیں عطا فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونے کی فضیلت
تاہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے رویا کریں، اگر از خود رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کریں، اس کا طریقہ ی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اپنے اوپر انعامات اور احسانات کو یاد کریں، پھر اپنے گناہوں کے متعلق سوچیں اور اپنے دل میں نادم ہوں، پھر ندامت کے غلبہ سے آنکھوں میں آسنو لائیں، حدیث میں ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شخص دوزخ میں داخل نہیں ہوگا، جو اللہ کے خوف سے رویا ہو حتیٰ کہ دودھ تھن میں لوٹ جائے اور اللہ کی راہ میں پڑنے والا غبار اور دوزخ کا دھواں جمع نہیں ہوگا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٦٣٣) (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣١٠٧ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣١٤٤ مسند احمد ج ٢ ص ٥٠٥)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو آنکھوں کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی، ایک وہ آنجھ جو اللہ کے خوف سے روئی ہو اور دوسری وہ جس نے اللہ کے راستہ میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٦٣٩)
اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا جنت عطا کرنے سے بڑا انعام ہے
نیز مئومنین صالحین کے متعلق فرمایا : اللہ ان سے رضائی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔
مئومنین صالحین کو پہلے یہ انعام عطا فرمایا کہ ان کو دائمی جنتیں عطا کیں، اس کے بعد اس سے بڑا اناعم یہ فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور یہ اللہ تعالیٰ کا مئومنین پر سب سے بڑا انعام ہے، حدیث میں ہے :
حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا، اے اہل جنت ! ، و کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں اور تیری اطاعت کے لئے تایر ہیں، ہرق سم کی خیر تیرے ہاتھوں میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تم راضی ہوگئے ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کیا ہا کہ ہم تجھ سے راضی نہ ہوں، اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا ہے، جو اپنی مخلقو میں سے کسی کو نہیں عطا کیا، اللہ عزوجل فرمائے گا : کیا میں تم کو اس سے زیادہ افضل چیز نہ عطا کروں ؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! اس سے افضل چیز اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اللہ سبحانہ فرمائے گا : میں تم پر اپنی رضا حلال کرتا ہوں، میں اس کے بعد تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٥٤٩ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٢٩ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٥٥، السنن، الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٧٧٤٩ )
اللہ تعالیٰ کی رضا اور بندوں کی رضا کے محامل
اللہ تعالیٰ کے بندوں سے راضی ہنے اور بندوں کے اللہ سے راضی ہونے کے حسب ذیل محامل ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کا معنی یہ ہے کہ بندوں نے دنیا میں جو نیک کام کئے اور اللہ سبحانہ کے احکام کی اطاعت کی، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے راضی ہوگا۔ اور بندوں کے راضی ہونے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جو نیک اعمال کی توفیق دی اور آخرت میں جو ان پر انعام اور اکرام کیا، بندے اس سے خوش ہوگئے۔
(٢) اللہ کے راضی ہونے کا معنی یہ ہے کہ بندوں نے اپنی نجات کے لئے جو نیک کام کئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول فرمایا اور اس پر ان کو ثواب عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ان پر انعام ہے کہ اس نے یہ فرمایا ہے کہ وہ ان سے راضی ہوگیا۔ اگر اللہ ان کو معاف فرما دیتا اور ان سے درگزر فرماتا تو یہ بھی اس کا کرم تھا اور اس کا کرم بالائے کرم یہ ہے کہ وہ ان سے راضی ہوگیا۔ بندے اس سے راضی ہوگئے یعنی اس کے فضل اور اس کے لطف سے خوش ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پر مشقت کاموں کا مکلف کیا اور ان پر آفات اور مصائب ڈالے، اس کے مقابلہ میں جب آخرت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کا انعام اور اکرام دیکھا تو دنیا کی تمام سختایں ان پر آسان ہوگئیں۔
(٣) اللہ تعالیٰ ان سے رضائی ہوگیا یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی اور نیک کاموں پر ان کی تحسین کی۔
بندے اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جو ان کے اعمال کی جزاء عطا فرمائی، اس پر شکر ادا کیا۔ رضا کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کی قضاء پر دل کا خوش ہونا اور قلم تقدیر پر دل کا مطمئن ہونا۔
بندہ جسم اور روح کا مجموعہ ہے، جسم کی جنت، جنت الفردوس اور جنت عدن ہے اور روح کی جنت اس کے رب کی رضا ہے، بندہ پر ابتدائی انعام جنت ہے اور انتہائی انعام اس کے رب کی رضا ہے، پہلے اللہ کے راضی ہنے کا ذکر فرمایا، پھر بندے کے راضی ہونے کا ذکر فرمایا کیونکہ خالق کا ذکر بندوں کے ذکر پر مقدم ہے۔
اللہ تعالیٰ کے خوف کی دو تفسیریں
اس کے بعد فرمایا : یہ (جزائ) اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا رہا۔
بعض مفسرین نے کہا، اس کا معنی یہ ہے کہ جب ان کے دل میں کسی گناہ کا خیلا آئے تو وہ اللہ کے خوف سے اس گناہ سے باز رہتے ہیں اور بعض عارفین نے کہا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، پھر بھی اللہ سبحانہ کے خوف سے لرزہ براندام ہوتے ہیں، پتا نہیں ہماری یہ اطاعت اور عبادت قبول ہوگی یا نہیں، قرآن مجید میں ہے :
(المومنون : ٦٠) وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل خوف زدہ رہتے ہیں (کیا پتا یہ عمل قبول ہو یا نہ ہو) ۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا : یا رسول اللہ ! آیا یہ ڈرنے والے وہ لوگ ہیں، جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! اے صدیق کیب یٹی ! یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں اور وہ اس سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انکے نیک اعمال قبول نہ کئے جائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣١٧٥ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٩٨، مسند احمد ج ٥ ص ١٥٩) اس آیت کے ساتھ جب درج ذیل آیت ملائی جائے تو اس میں علم اور علماء کی فضیلت پر دلیل ہے۔
(فاطر : ٢٨) اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔
اور جو اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” رضی اللہ عنھم ورضواعنہ “ (البینہ : ٨) ۔
اس سے واضح ہوا کہ صحابہ اور اخیار تابعین کے بعد علماء عاملین کے متعلق یہ کہنا جائز ہے : (رض) ، مثلاً امام ابوحنیفہ (رض) ، امام بخاری (رض) ، امام رازی (رض) ، غوث اعظم (رض) اور ہم ایسے لوگوں کے متعلق کہنا چاہیے عفی عنہ یا غفرلہ، مثلاً غلام رسول سعیدی غفرلہ
کوئی مسلمان اپنے نجات یافتہ اور جنتی ہونے کا دعویٰ نہ کرے
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ کوئی مسلمان کبھی بھی اس مرتبہ پر نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ سبحانہ کی گرفت اور اس کے عذاب سے بےخوف ہوجائے اور اس کو یہ علم ہو کہ وہ اہل جنت سے ہے، ماسوا انبیاء (علیہم السلام) کے کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اہل جنت سے ہیں، اس کے باوجود وہ تمام مسلمانوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتے ہیں، حدیث میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
ان اتقاکم و اعلمکم باللہ انا (بےشک مجھے تم سب سے زیادہ اللہ کا علم ہے اور میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٢١٦)
واللہ انی لارجو ان کون اخشا کم للہ واعلمکم بما اتقی (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٠) اللہ کی قسم ! مجھے امید ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ تقویٰ کا علم رکھنے والا ہے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 252 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
اس مسئلہ میں یہ حدیث بہت واضح ہے :
خارجہ بن زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ ام العلاء انصاریہ کہتی ہیں کہ جب مہاجرین کو تقسیم کیا گیا تو ہمارے حصہ میں حضرت عثمان بن مظعون آئے، ہم نے ان کو اپنے گھر میں ٹھہرایا، وہ بیمار ہوگئے اور اس بیماری میں فوت ہوگئے، ان کو غسل دیا گیا اور کفن پہنایا گیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو میں نے حضرت عثمان بن مظعون کے متعلق کہا، میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ نے تمہارا اکرام کیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا ہے ؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ پر میرا باپ فدا ہو، پھر اللہ کس کا اکرام کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : ان کے اوپر تو موت آچکی ہے اور مجھے ان کے لئے خیر کی امید ہے اور اللہ کی قسم ! میں از خود نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، حضرت ام العلاء کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں نے پھر کبھی کسی کی ایسی تعریف نہیں کی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٤٣ مسند احمد ج ٦ ص ٤٣٦) سو کسی مسلمان کا خود کو جنتی کہنا جائز نہیں ہے۔
آپ کو از خود اپنا حال معلوم نہیں تھا، تاہم اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے آپ کو معلوم ہوگیا کہ آپ کو مقام محمود پر فائز کیا جائے گا اور شفاعت کبریٰ عطا کی جائے گی۔