Site icon اردو محفل

فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ – سورۃ نمبر 99 الزلزلة آیت نمبر 7

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ ۞

ترجمہ:

سو جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کا صلہ دیکھے گا

الزلزال :ُ ٨ -٧ میں فرمایا : سو جو ذرہ برابر نیکی کرے گا، وہ اس کا صلہ دیکھے گا۔ اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ اس کا عذاب دیکھے گا۔ مئومن اور کافر کے اعمال کے بدلہ کا ضابطہ

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : کفار میں سے جو شخص بھی ذرہ کے برابر کوئی نیک کام کرے گا، اس کو اس کی نیکی کا اجر دنیا میں ہی دے دیا جائے گا اور اس کو آخرت میں کوئی اجر نہیں ملے گا اور اگر کوئی کافر کوئی برا کام کرے گا تو آخرت میں اس کو شرک کی سزا کے علاوہ وہ اس برائی کی سزا بھی دی جائے گی اور مئومنین میں سے جو شخص بھی ایک ذرہ کے برابر کوئی سزا نہیں دی جائے گی اور اس کی برائی سے درگزر کرلیا جائے گا اور اگر مئومن نے ذرہ برابر کوئی نیکی کی تو اس کو قبول کرلیا جائے گا اور اس کا آخرت میں اجر زیادہ کردیا جائے گا۔

بعض احادیث میں ہے کہ ذرہ کا کوئی وزن نہیں ہے، اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ابن آدم کے کسی عمل سے غافل نہیں ہے، خواہ وہ عمل صغیرہ ہو یا کبیرہ، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(النسائ : ٤٠) بیشک اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ آدمی زمین پر ہاتھ رکھ کر اٹھائے تو اس کے ہاتھ پر جو خاک لگی ہو وہ ذرہ ہے، حضرت ابن عباس (رض) کا بھی یہی قول ہے۔

محمد بن کعب القرظی نے کہا ہے کہ کافر جو ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا، اس کا ثواب اس کو دنیا میں اس کے نفس، اس کے مال، اس کے اہل اور اس کی اولاد میں دے دیا جائے گا، حتیٰ کہ جب وہ دنیا سے جائے گا تو اللہ سبحانہ کے پاس اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی اور مومن نے دنیا میں ذرہ برابر جو برائی کی ہوگی، اس کی سزا اس کو دنیا میں ملے گی۔ اس کے نفس، اس کے مال، اس کے اہل اور اس کی اولاد میں اس کو سزا دے دی جائے گی حتیٰ کہ جب وہ دنیا سے جائے گا تو اللہ سبحانہ کے پاس کی کوئی برائی نہیں ہوگی۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس وقت نازل ہوئی، جب حضرت ابوبکر کھاتا کھا رہے تھے، وہ کھانے سے رک گئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم کو ہمارے اچھے اور برے عملوں کا بدلہ ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : تم جو ناگوار چیزیں دیکھتے ہو، وہ تمہاری ذرہ برابر برائی کا بدلہ ہے اور تمہاری ذرہ برابر نیکی کو آخرت کا بدلہ ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : تم جو ناگوار چیزیں دیکھتے ہو وہ تمہاری ذرہ برابر برائی کا بدلہ ہے اور تمہاری ذرہ برابر نیکی کو آخرت کے لئے ذخیرہ کرلیا جاتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے دن تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٩٢٢٢ مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٤٢ )

قرآن مجید میں ہے :

(الشوریٰ : ٣٠) تم کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے کر تتوں کی وجہ سے ہے اور بہت سے گناہ تو وہ معاف فرم ا دیتا ہے۔

موطاء امام مالک میں ہے : ایک مسکین نے حضرت عائشہ (رض) سے کھانا طلب کیا، ان کے سامنے انگور رکھے ہوئے تھے، حضرت عائشہ نے ایک انسان سے کہا : اس کو انگور کا ایک دانہ دے دو ، اس انسان نے تعجب سے حضرت عائشہ کی طرف دیکھا، حضرت عائشہ نے اس سے کہا : تم انگور کے ایک دانہ پر تعجب کر رہے ہو، یہ ایک ذرہ برابر نیکی ہے۔

حضرت عسد بن ابی وقاص (رض) نے دو کھجوریں صدقہ کیں تو سائل نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو حضرت عسد نے سائل سے کہا : اللہ تعالیٰ ہم سے ذرہ برابر نیکی قبول فرما لیتا ہے اور دو کھجوروں میں تو بہت ذرات ہیں۔

المطلب بن حنطب بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ آیت تلاوت کرتے ہئے سنا، اس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ایک ذرہ کے برابر بھی ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص 135-136 دارالفکر بیروت 1415 ھ)

اس آیت میں معتزلہ کے خلاف اہل سنت و جماعت کے مسلک پر دلیل ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں : جو مئومن گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو اور وہ بغیر توبہ کے مرجائے، وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا، ہم کہتے ہیں کہ اس آیت میں فرمایا ہے : جس مئومن نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہو، وہ اس کی جزا پائے گا، تو اس مئومن کو اس کے ایمان کی جزا ضرور ملے گی، اس لئے اگر اس کو اپنے گناہوں کی سزا دینے کے لئے دوزخ میں ڈالا گیا تو پھر اس کو اس کے ایمان کی جزا دینے کے لئے ضرور دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا، لہٰذا وہ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا، کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ اس کو جنت سے نکال کر دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا، لہٰذا مئومن مرتکب کبیرہ کی اگر شفاعت یا مغفرت نہیں ہوئی تو وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر جنت میں ضرور جائے گا۔

بعض علماء نے کہا ہے کہ جس کے فرائض پورے نہیں ہوئے، اس کے نوافل قبول نہیں ہوں گے، ہم کہتے ہیں کہ اس کے نوافل بہرحال خیر اور نیکی ہیں اور نیکی ذرہ برابر بھی ہو تو بندہ مئومن اس کی جزا پائے گا، فرائض کے ترک پر وہ عذاب کا مستحق ہوگا اور نوافل کا اس کو ثواب عطا کیا جائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 99 الزلزلة آیت نمبر 7

Exit mobile version