Site icon اردو محفل

اَفَلَا يَعۡلَمُ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِى الۡقُبُوۡرِۙ – سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 9

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَلَا يَعۡلَمُ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِى الۡقُبُوۡرِۙ ۞

ترجمہ:

کیا وہ نہیں جانتا کہ جو قبروں میں ہیں وہ اٹھا لئے جائیں گے

العدیت : ٩ میں فرمایا : کیا وہ نہیں جانتا کہ جو قربوں میں ہیں وہ اٹھا لیے جائیں گے۔

” بعثر “ کا معنی

اس آیت میں ” بعثر “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” بعثرۃ “ ہے، اس کا معنی ہے : کسی چیز کو الٹ پلٹ کرنا ” بعثر “ کا معنی ہے وہ اٹھایا یا وہ کریدا گیا، وہ لاٹ پلٹ کیا گیا۔ قرآن مجید میں ہے :

واذا القبور یعثرت۔ (الانفطار : ٤) اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی۔

اس آیت میں ’ دمافی القبور “ فرمایا ہے اور لفظ ” ما “ غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے اور قبروں میں جو مردے دفن ہیں، وہ ذوی العقول تھے، اس کا جواب یہ ہے کہ جس وقت ان کو قبروں سے اٹھایا جائے گا، اس وقت وہ زندہ اور قعل والے نہ ہوں گے، قبروں سے اٹھائے جانے کے بعد وہ زندہ کئے جائیں گے اور ان کی عقل لوٹائیج ائے گی۔

القرآن – سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 9

Exit mobile version