” الموریات “ جمع مئونث اسم فاعل ہے، اس کا مصدر ” ایرائ “ ہے، اس کا معنی ہے : آگ روشن کرنے والے، عکرمہ نے کہا : اس سے مراد مجاہدین کے وہ گھوڑے ہیں جو پتھریلی زمین پر چلتے ہیں تو ان کے سموں کی رگڑ سے آگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں، قتادہ نے کہا، اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جن کے سواروں کے دلوں میں عداوت کی آگ بھڑکتی ہے، سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے، اس سے مراد سواروں کا وہ دستہ ہے جو دن بھر جہاد کرنے کے بعد شام کو وپ اس آ کر کھانا پکانے کے لئے آگ جلاتا ہے۔
” قحاً “ کا معنی ہے : چقماق کو مار کر آگ نکالنا، پتھر پر پتھر یا لوہے کو مار کر آگ نکالنا ” قدح بنالزند “ کا معنی ہے چقمقا کو رگڑ کر آگ نکالی، اور اس سے مراد ہے : ھگوڑوں کا نعل دار سموں کو پتھریلی زمین پر مارنا ” قدح فیہ “ کا معنی ہے : کسی چیز میں نکتہ چینی کرنا۔ (جامع البیان جز 30 ص 348-349 معالم التنزیل ج ٥ ص 295)