Site icon اردو محفل

وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ لَشَدِيۡدٌ ؕ‏ – سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 8

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ لَشَدِيۡدٌ ؕ‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے

العدیث : ٨ میں فرمایا : اور بیشک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔

مال کی محبت کے متعلق احادیث

اس آیت میں ” الخیر “ کا لفظ ہے، یعنی وہ خیر کی محبت میں بہت سخت ہے اور قرآن مجید میں ” خیر “ کے لفظ سے مال کا بھی ارادہ کیا گیا ہے، جیسا کہ حسب ذیل آیات میں ہے :

(البقرہ :180) جب تم میں سے کسی پر موت کا وقت آئے، سو اگر اس نے مال چھوڑا ہو تو اس پر وصیت کو فرض کردیا گیا ہے۔

واذا مسہ الخیر منوعاً ۔ ( اور جب اس کو مال ملتا ہے تو وہ بخل کرنے والا ہے۔ )

اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنے عرف میں مال کو خیر قرار دیتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے عرف کے موافق فرمایا کہ انسان خیر کی یعنی مال کی محبت میں شدید ہے اور شدید سے مراد بخیل ہے۔

انسان کو مال سے جس قدر محبت ہے، اس کا ذکر ان حدیثوں میں ہے :

حضرت ابن (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہئوے سنا ہے : اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو و تیسری وادی کو طلب کرے گا اور ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرماتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6436، صحیح مسلم رقم الحدیث :1049، مسند حمد ج ٦ ص 55 ج ٣ ص 247)

حضرت انس (رض) باین کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بحرین کا مال آیا، آپ نے فرمایا : اس کو مسجد میں پھیلا دو اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جو اموال آتے تھے ان میں یہ مال سب سے زیادہ تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھنے گئے اور اس مال کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، نماز پڑھانے کے بعد آپ اس مال کے پاس بیٹھ گئے، پھر آپ جس شخص کو بھی دیکھتے، اس کو اس مال سے عطا کرتے، اس وقت آپ کے پاس حضرت عباس (رض) آئے، پھر انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے مال عطا کیجیے کیونکہ میں نے اپنا فدیہ بھی دیا تھا اور عقیل کا فدیہ بھی دیا تھا، آپ نے ان سے فرمایا : آپ اس میں سے مال لے لیں، انہوں نے اپنے کپڑے میں مال ڈالنا شروع کیا اور اس مال کی چوٹی بنادی اور اس کو اٹھا نہ سکے، انہوں نے کہا : یا رسولا للہچ کسی کو حمک دیں کہ وہ اس مال کو اٹھا کر میرے اوپر رکھ دے، آپ نے فرمایا : نہیں ! آپ خود اٹھائیں، انہوں نے کہا : اچھا تو پھر آپ اٹھا کر رکھ دیں، آپ نے فرمایا : نہیں، انہوں نے اس گٹھڑی سے مال کم کیا لیکن پھر اس کی چوٹی بن گئی، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کو کہیے کہ اس کو اٹھا کر مجھ پر رکھ دے، آپ نے فرمایا : نہیں، انہوں نے کہا، پھر آپ خود اٹھا کر رکھ دیں، آپ نے فرمایا نہیں : آپ خود اٹھائیں، انہوں نے اس میں سے مال کم کیا، پھر اس کو اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا، پھر چلے گئے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر ان کا تعاقب کرتی رہی، حتیٰ کہ وہ نظر سے اوجھل ہوگئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی حرص پر تعجب ہو رہا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے اس وقت اٹھے، جب وہاں پر ایک درہم بھی باقی نہیں رہا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢١ )

مال کی محبت کے اثرات

مفسرین نے اس آیت کی حسب ذیل تفسرییں کی ہیں :

(١) انسان مال کی محبت کی وجہ سے بخیل اور ممسک ہوگیا ہے۔

(٢) انسان مال کی محبت میں اور دنیا کو طلب کرنے اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے میں بہت شدید اوقوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں بہت خفیف اور ضعیف ہے۔

(و) اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے اس کا دل بہت تنگ ہوتا ہے اور منقبض ہوتا ہے۔

بخیل کی مذمت میں احادیث

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے، جنہوں نے لوہے کے دو کوٹ پہنے ہوئے ہوں، جو ان کے پستانوں سے ان کے گلوں تک ہوں، رہا خرچ کرنے والا تو وہ جوں جوں خرچ کرتا ہے، اس کے لوہے کے کڑے ڈھیلے ہوتے جاتے ہیں اور اس کے جسم سے ان کڑوں کے نشان مٹتے جاتے ہیں اور بخیل جب بھی خرچ کرنے کا ارادہ کرے تو لوہے کا ہر کڑا اس کے جسم کے ساتھ اور چمٹتا جاتا ہے، وہ اس کوٹ کو کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٤٣، (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٤٧ مسند احمد ج ٢ ص 389)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر روز جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو وہ فرشتے نازل ہوتے ہیں، ایک فرشتہ دعا کرتا ہے، اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو (خرچ کئے ہوئے) مال کا بدل عطا فرما اور دوسرا فرشتہ دعا کرتا ہے : اے اللہ ! بخیل کے مال کو ضائع کر دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٤٢ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩١٧٨)

القرآن – سورۃ نمبر 100 العاديات آیت نمبر 8

Exit mobile version