اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ناگہانی مصیبت۔ ناگہانی مصیبت کیا چیز ہے ؟۔ آپ کیا سمجھے کہ نگاہانی مصیبت کیا ہے ؟۔ (یہ وہ دن ہے) جس دن تمام لوگ منتشر پروانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ اور پہاڑ دھنی ہوئی رنگ برنگی اون کی طرح ہوجائیں گے۔ (القارعۃ ٥-١)
” القارعۃ “ کا معنی ہے : کھٹکھٹانا ” قرع الباب “ کا معنی ہے : دروازہ کھٹکھٹایا، اس کا عرفی معنی ہے : اچانک آنے والی مصیبت، اور بہت بڑا حادثہ، قیامت بھی نگاہانی مصیبت اور بہت بڑا حادثہ ہے، قرآن مجید میں ہے :
ولایزال الذین کفرواتصیبھم بما صنعوا قارعۃ (الرعد : ١ و) کفار کے کرتوتوں کے سبب ہمیشہ ان پر کوئی ناگہانی مصیبت آتی رہے گی۔
” القارعۃ “ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب قیامت کے دن صور میں پھونکا جائے گا تو ایک زبردست چنگھاڑ کی آواز آئے گی، جس سے تمام لوگ دہل کر مرجائیں گے، دوسری وجہ یہ ہے کہ جب قیامت آئے گی تو سورج، چاند ستارے اور پہاڑ وغیرہ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور اس سے بہت گرج دار آواز پیدا ہوگی، اس وجہ سے قیامت کو ” القارعۃ “ فرمایا تیسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن جب آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا اور سورج اور چاند کو لپیٹ دیا جائے گا اور ستارے جھڑ جائیں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگ برنگی، اون کی طرح ریزہ ریزہ ہو کر اڑ رہے ہیں گے تو لوگ مارے خوف اور دہشت کے دہل رہے ہوں گے، چوتھی وجہ یہ ہے کہ قیامت اپنے ہولناک امور سے اللہ کے دشمنوں اور کفار کے دلوں کو ضرب شدید سے کھٹکھٹا رہی ہوگی۔