Site icon اردو محفل

فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ سورۃ نمبر 101 القارعة آیت نمبر 6

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ۞

ترجمہ:

پس جس (کی نیکی) کے پلڑے بھاری ہوں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جس (کی نیکی) کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔ اور جس (کی نیکی) کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ تو اس کا ٹھکانہ ھاویہ ہوگا۔ اور آپ کیا سمجھے کہ ھاویہ کیا ہے ؟۔ وہ سخت دہکتی ہوئی آگ (کا بہت نیچا گڑھا) ہے۔ (القارعۃ : ١١-٦)

مئومنین اور کفار کے اعمال کے وزن کی کیفیت میں امام ماتریدی کی تقریر

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ وزن اعمال کی تفسیر میں لکھتے ہیں : جن کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا، وہ تمام مئومنین ہیں اور جن کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا، وہ تمام کافر ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ مئومن اللہ تعالیٰ کے حق کی تعظیم کرتا ہے، اور وہ اس کی حدود کو قائم کرتا ہے، اس لئے اس کے اعمال کے لئے میزان ہوگی اور اس کے اعمال کی قدر و قیمت ہوگی، اور کافر نیک اعمال نہیں کرتا، اس لئے اس کی نیکیوں کا پ لڑا ہلکا ہوگا۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ دل کے ان نیک اعمال کا وزن کیا جائے گا، جن پر فرشتے بھی مطلع نہیں ہوتے، جو بنو آدم کے اعمال لکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ نیک اعمال صرف مئومنین کے ہوتے ہیں نہ کہ کفار کے، ہم اس سے پہلے میزان کے مسئلہ پر لکھ چکے ہیں، اس لئے یہاں ہم نے اختصار سے کام لیا ہے۔ (تاویلات اہل السنتہ ج ٥ ص 512، مئوسستہ الرسالتہ، ناشرون ١٤٢٥ ھ)

امام ابومنصور ماتریدی نے وزن اعمال کے متعلق زیادہ تفصیل سے الاعراف : ٨ کی تفسیر میں لکھا ہے، وہاں ان کی عبارت یہ ہے :

حسن بصری نے کہا، میزان کے دو پلڑے ہیں، جن میں نیکیوں اور برائیوں کا وزن کیا جائے گا اور جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا اور جس کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ دوزخ میں داخل ہوگا، اور دوسرے اہل تاویل نے کہا : ” موازین “ سے مراد خود نیکیاں اور برائیاں ہیں، سو جس کی نیکیاں برائیوں پر راجح ہوں گی وہ جنت میں چلا جائے گا اور جس کی برائیاں نیکیوں پر راجح ہوں گی وہ دوزخ میں جائے گا (یعنی وزن نہیں ہوگا۔ )

امام ابو منصور ماتریدی میزان پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آیت میں مئومنین اور کفار دونوں کا ذکر فرمایا ہے اور مئومن کے ساتھ ایمان ہوگا تو اس کی کوئی برائی نیکی پر راجح نہیں ہوگی اور کافر کے ساتھ جب شرک ہوگا تو اس کی کوئی نیکی برائی پر راجح نہیں ہوگی اور کافر کے ساتھ جب شرک ہوگا تو اس کی کوئی نیکی برائی پر راجح نہیں ہوگی اور کافر کے ساتھ جب شرک ہوگا تو اس کی کوئی نیکی برائی پر راجح نہیں ہوگی، پھر اعملا کے وزن کا کیا فائدہ ہوگا، تاہم یوں کہا جاسکتا ہے کہ مومن کے اعمال کا جب وزن کیا جائے گا تو ایمان کے بغیر صرف اس کی نیکیوں اور برائیوں کا مقابلہ کیا جائے گا، اسی طرح جب کافر کے اعمال کا وزن کیا جائے گا تو اس کے کفر کے بغیر اس کی نیکیوں اور برائیوں کا مقابلہ کیا جائے گا اور کافر کو اس کی نیکیوں پر کوئی اجر نہیں دیا جائے گا کیونکہ دنیا میں جو اس کو نعمتیں دی گئی تھیں، وہی اس کی نیکیوں کا اجر تھا اور رہا مئومن تو اس کی برائیوں سے درگزر کرلیا جائے گا اور اس کی نیکیوں پر اجر دیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے متعلق فرماتا ہے :

(الاحقاف : ١٦) یہی وہ لوگ ہیں جن کے بہت نیک اعمال تو ہم قبول فرماتے ہیں اور ان کے گناہوں سے ہم درگزر فرماتے ہیں، وہ جنجتی لوگ ہیں، اس سچے وعدہ کے مطابق جو ان سے کیا جاتا تھا۔ (تاویلات اہل النستہ ج ٢ ص 209 مئوسستہ الرسالتہ، ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

مئومنین اور کافر کے اعمال کے وزن کی کیفیت میں امام رازی کی تقریر

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ القارعۃ : ٦ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

فراء نے کہا : اس آیت میں ” موازین “ کا لفظ ہے اور یہ ” موزون “ کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ عمل ہے جس کی اللہ سبحانہ کے نزدیک کوئی اہمیت ہو، دوسرا قول یہ ہے کہ ” موازین “ ” میزان “ کی جمع ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فہرمایا : میزان کی ایک ڈنڈی ہے اور اس میں دو پلڑے ہیں، اس میں صرف اعمال کا وزن کیا جائے گا، مئومن مطیع کی نیکیوں کو حسین صورت میں لایا جائے گا اور جب اس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے پر راجح ہوگا تو اس کے لئے جنت ہے، اور کافر کی برائیوں کو بہت قبیح صورت میں لایا جائے گا، پھر اس کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا رہ جائے گا، پھر وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔

حسن بصری نے کہا : میزان کے دو پلڑے ہیں، ان کی صفت نہیں کی جاسکتی، متکلمین نے کہا : صرف نیکیوں اور برائیوں کا وزن نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جن صحیفوں میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، ان کا وزن کیا جائے گا یا نور کو نیکیوں کی علامت اور ظلمت کو برائیوں کی علامت قرار دیا جائے گا یا نیکیوں کے صحیفوں کو حسین صورتوں سے بدل دیا جائے گا اور برائیوں کے صحیفوں کو قبیح صورتوں سے بدل دیا جائے گا، پھر جب ان کا وزن کیا جائے گا تو ان کا ہلکا اور بھاری ہونا ظاہر ہوجائے برائیوں کے صحیفوں کو قبیح صورتوں سے بدل دیا جائے گا، پھر جب ان کا وزن کیا جائے گا تو ان کا ہلکا اور بھاری ہونا ظاہر ہوجائے گا اور اس وزن کا فائدہ یہ ہے کہ نیکیوں والا مومن سر محشر مسرور اور سرخ رو ہوگا اور برائیوں والا کافر سر محشر پژمردہ اور رسوا ہوگا۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 268 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

مئومنین اور کفار کے اعمال کے وزن کی کیفیت کے متعلق مصنف کی تقریر

میزان پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ وزن تو کسی ٹھوس چیز کا کیا جاتا ہے، انسان کی نیت تو کوئی ٹھوس چیز نہیں ہے، پھر انسان کی ریاکاری یا اس کے اخلاص کا وزن کیسے کیا جائے گا ؟ اسی طرح نیک کاموں سے محبت یا بغض کا وزن کیسے کیا جائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ سائنسی آلات کے ذریعہ بہت سی کیفیات کا وزن کیا جاتا ہے، حالانکہ کیفیات بھی ٹھوس چیز نہیں ہیں، انسان کے جسم میں بخار بھی ایک کیفیت ہے اور تھرمامیٹر کے ذریعہ اس کے جسم کی حرارت کا وزن کیا جاتا ہے اور دیگر آلات کے ذریعہ کمرہ اور فضاء کے درجہ حرارت کی پیمائش کی جاتی ہے، انسان کے خون میں کو لیسٹرول اور شوگر کی آلات کے ذریعہ پیمائش کی جاتی ہے، انسان کی تمام بیماریاں اس کے خون میں ہوتی ہیں اور اس کے خون کا تجزیہ کر کے ان بیماریوں کو معلوم کیا جاتا ہے اور وہ بھی کیفیات ہیں، کوئی ٹھوس چیز نہیں ہیں اور جب مخلوق کیفیات کا وزن کرلیتی ہے تو اس کے خالق کے بارے میں یہ گمان کیسے صحیح ہوگا کہ وہ اخلاص اور ریکا کاری ایسی کیفیات کا وزن نہیں کرسکتا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 101 القارعة آیت نمبر 6

Exit mobile version