Site icon اردو محفل

يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِۙ‏ – سورۃ نمبر 101 القارعة آیت نمبر 4

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِۙ‏ ۞

ترجمہ:

(یہ وہ دن ہے) جس دن تمام لوگ منتشر پروانوں کی طرح ہوجائیں گے

القارعۃ : ٤ میں فرمایا : (یہ وہ دن ہے) جس دن تمام لوگ منتشر پروانوں کی طرح ہوجائیں گے۔

قیامت کے دن لوگوں کے احوال

پروانے از قبیل حشرات الارض ہیں، یہ شمع، لیمپ یا بلب وغیرہ کسی روشن چیز پر گرتے ہیں اور مترے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جس طرح پروانے متفرق اور منتشر ہوتے ہیں، اسی طرح اس دن لوگ بھی حیران اور پریشان ادھر ادھر بھاگ رہے ہوں گے اور تشبیہ اس چیز میں ہے کہ اس دن لوگ روشنی پر گرنے والے پروانوں کیطرح حیران اور مضطراب ہوں گے، قتادہ نے کہا : پروانوں کے ساتھ تشبیہ کثرت اور انتشار میں ہے اور ضعف اور ذلت میں ہے اور کسی مربوط نظام کے بغیر ادھر ادھر بھاگنے میں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 101 القارعة آیت نمبر 4

Exit mobile version