پھر تم سے ضرور اس دن نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا ؏
التکاثر : ٨ میں فرمایا : پھر تم سے ضرور اس دن نعمتوں کے متعق سوال کیا جائے گا۔
نعمتوں کے متعلق سوال صرف کفار سے ہوگا یا مئومنین سے بھی ہو گا
بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں بھی کفار سے خطاب ہے یعنی جو کافر مال و دولت پر فخر کرتے تھے، ان کے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ان سے کہا جائے گا کہ چونکہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس لئے تم کو یہ عذاب ہو رہا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان سے حساب کے وقت نعمتوں کے متعلق سوال کیا جائے کہ کیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا ؟
بعض مفسرین نے کہا کہ یہ آیت مئومنین اور کفار دونوں کے لئے عام ہے، اگر کافروں سے سوال ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو یہ نعمتیں عطا فرمائیں لیکن تم اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان نہیں لائے اور تم نے اس کے رسول کا انکار کیا اور اس کے پغیام کو ققبول نہیں کیا اور گار یہ سوال مئومنین سے ہو تو اس کا محمل یہ ہے کہ اے مئومنو ! تم نے جو نیک اعمال کئے تھے وہ تو ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے بھی کافی نہ تھے، جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے تم کو عطا کی تھیں، تاکہ مئومنین یہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کی خطائوں سے درگزر فرمایا ہے اور ان کو ثواب میں جنت عطا فرمائی ہے، یہ محض اللہ کا ان پر فضل ہے ورنہ ان کے نیک اعمال تو ان نعمتوں کے شکر کے لئے بھی کافی نہ تھے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمائی تھیں۔
درج ذیل حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نعمتوں کے متعلق سوال مئومنین سے بھی کیا جائے گا۔
مئومنین سے نعمتوں کے سوال پر دلائل
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کسی دن یا کسی رات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے باہر آئے تو آپ کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) ملے، آپ نے ان سے پوچھا کہ تم اس وقت باہر کیوں نکلے ہو ؟ انہوں نے کا، یا رسول اللہ ! بھوک کی وجہ سے، آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، میں بھی اسی سبب سے باہر آیا ہوں جس سبب سے تم آئے ہو، پھر فرمایا : تم میرے ساتھ چلو، پھر آپ ایک انصاری کے گھر گئے، اس وقت وہ انصاری گھر میں نہیں تھا، جب اس کی اہلیہ نے آپ کو دیکھا تو کہا : مرحبا ! آپ اپنے لوگوں میں آئے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : وہ شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا، وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گیا ہے، اتنے میں وہ انصاری آگیا، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صاحبین کی طرف دیکھا، پھر کہا : الحمد للہ ! آج سے پہلے میرے گھر اتنے مکرم اور معظم مہمان نہیں آئے، پھر وہ اٹھ کر گیا اور ادھ پکی اور تازہ پکی ہوئی کھجوروں کے خوشے اور چھوارے لے کر آیا اور کہا : آپ حضرات ان کو تناول فرمائیں، پھر اس نے چھری پکڑی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : دودھ دینے وال بکری کو ذبح نہ کرنا، اس نے بکری ذبح کی اور انہوں نے اس بکری کا گوشت کھایا اور ان خوشوں سے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا اور خوب سیر ہوگئے آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہیچ قیامت کے دن تم سے آج کی ان نعمتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا، تم اپنے گھروں سے بھوکے نکلے، پھر گھروں میں لوٹنے سے پہلے تم کو یہ نعمتیں مل گئیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2038، (سنن ترمذی رقم الحدیث :2369)
نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روٹی کا وہ ٹکڑا جو تمہاری بھوک دور کرے اور اتنا پکڑا جس سے تمہاری شرم گاہ چھپ سکے اور وہ غار جو تمہیں گرمی اور سردی سے بچائے، ان تین نعمتوں کے علاوہ باقی نعمتوں کا تم سے سوال کیا جائے گا۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص 28)
جن نعمتوں کا سوال کیا جائے گا، ان کے متعلق آثار صحابہ اور اقوال تابعین
جن نعمتوں پر سوال کیا جائے گا، وہ حسب ذیل ہیں :
(١) حضرت ابن مسعود (رض) نے کہا، وہ امن اور صحت ہے۔
(٢) سعید بن جبیر نے کہ، وہ صحت اور فراغت ہے، حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت لوگ فریب خوردہ ہیں : صحت اور فراغت۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6412، (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٠٤)
(٣) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ سماعت اور بصارت ہے، قرآن مجید میں ہے :
(بنی اسرائیل : ٣٦) بیشک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک کے متعلق سوال کیا جائے گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک بندے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا : کیا میں نے تجھے کان اور آنکھ اور مال، اولاد نہیں دیئے تھے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2968، (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤٣٠)
(٤) حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری (رض) فرماتے ہیں : وہ کھانے اور پینے کی جگہ ہے۔
(٥) حسن بصری نے کہا، وہ صبح کا ناشتہ اور رات کا کھانا ہے۔
(٦) مکحول نے کہا، وہ سیر ہو کر کھانا اور پینا ہے، اور سایہ دار مکان اور میٹھی نیند ہے۔
(٧) مجاہد نے کہا : دنیا کی ہر لذت کے متعلق قیامت کے دن سوال کیا جائے گا۔
ان نعمتوں پر سوال کے متعلق احادیث سے استدلال
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :” ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم “ (التکاثر : ٨) تو لوگوں نے کہا، یا رسول اللہ ! کس نعمت کے متعلق ہم سے سوال کیا جائے گا، یہ تو صرف کھجور اور پانی ہے اور دشمن موجود ہے اور تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بیشک یہ سوال کیا جائے گا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث :3357)
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی بندے کو بلائے گا اور اس کو اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس سے اس کی عزت اور وجاہت کے متعلق اس طرح سوال کرے گا، جس طرح اس سے اس کے مال کے متعلق سوال کرے گا۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٤٥١ المعجم الصغیر رقم الحدیث : ١٨ اس کی سند ضعیف ہے)
حضرت عثمان بن عفان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن آدم کا صرف ان چیزوں میں حق ہے، اس کی رہائش کا گھر ہو، وہ کپڑا جس سے اس کی شرم گاہ چھپ جائے اور روٹی کا ٹکڑا اور پانی۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث :2341)
یہ تمام وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ بندہ نے ان کا شکر ادا کیا ہے یا نہیں، اور شکریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمت جس لئے دی ہے، اس نعمت کو اس مقصد میں خرچ کیا جائے اور اس نعمت پر دل سے، زبان سے اور دیگر اعضاء سے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی تعظیم کی جائے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے پہلے بندہ سے قیامت کے دن جس نعمت کا سوال کیا جائے گا وہ یہ ہے کہ کیا ہم نے تمہارا تندرست جسم نہیں بنایا تھا اور تم کو ٹھنڈے پانی سے سیر نہیں کیا تھا ؟ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٥٨ صحیح ابن حبان، رقم الحدیث : ٧٣٦٤ المستدرک ج ٤ ص 138)
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن ابن آدم دو قدم بھی نہیں چل سکے گا حتیٰ کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال کیا جائے گا : (١) اس نے اپنی عمر کن کاموں میں خرچ کی ؟ (٢) اس نے اپنی جوانی کو کن کاموں میں گنوایا ؟ (٣) اس نے اپنا مال کہاں سے حاصل کیا ؟ (٤) اس نے اپنا مال کن کاموں میں خرچ کیا ؟ (٥) اس نے اپنے علم کے موافق کتنا عمل کیا ؟ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤١٦ مسند ابویعلی رقم الحدیث : ٥٢٧١ معجم کبیر رقم الحدیث : ٩٧٧٢ مجم صغیر رقم الحدیث : ١٧٦٠ الکامل لابن عدی ج ٢ ص 763 تاریخ بغداد ج ١٢ ص ٤٤٠ )