التکاثر : ٢ میں فرمایا : حتی کہ تم نے قبروں کی زیارت کرلی، اس سے مراد ہے : حتیٰ کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قبر کی زیارت کرنے والا تو کچھ دیر قبر کی زیارت کر کے وپ اس چلا جاتا ہے اور جو قبر میں دفن ہوتا ہے، وہ تو حشر تک قبر میں ہی رہتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ قبر میں دفن ہونے والا بھی بالاخر قبر سے نکل کر میدان حشر کیطرف روانہ ہوجائے گا۔
زیارت قبور کا یان
علامہ بدر الدین عینی حنفی لکھتے ہیں :
زیارت قبور میں علماء کا اختلاف ہے، علامہ حازمی نے کہا ہے کہ تمام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ مردوں کے لئے قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت ہے، علامہ ابن عبدالبر مالکی نے کہا ہے کہ قبروں کی زیارت کرنے کا حکم عام ہے، جیسے پہلے قبروں کی زیارت سے ممانعت عام تھی، پھر جب یہ عام ممانعت منسوخ ہوگئی تو مردوں اور عورتوں کے لئے قبروں کی زیارت کرنا جائز ہوگیا، زیارت قبور کی اباحت اور جواز پر بہ کثرت احادیث مروی ہیں :
(١) امام مسلم نے حضرت بریدہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب قبروں کی زیارت کیا کرو۔
(٢) امام ترمذی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے، اس کے یہ ا لفاظ ہیں، میں نے تم کو زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی ماں (رض) کی قبر کی اجازت دے دی گئی ہے، سو اب قبروں کی زیارت کیا کر، کیوں کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔
(٣) امام ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ دنیا میں آخرت کی یاد دلاتی ہے۔
(٤) امام ابن ابی شیبہ نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ روسل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبروں کی زیارت کرنے سے منع فرمایا تھا، پھر فرمایا : قبروں کی زیارت کیا کرو اور کوئی بری بات نہ کہنا
(٥) امام ابودائود نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی والدہ ماجدہ کی قبر کی والدہ کے استغفار کی اجازت طلب کی تھی، مجھے یہ اجازت نہیں دی (تاکہ استغافر کرنے سے کسی کو والدہ ماجدہ کے متعلق ارتکاب معصیت کا وہم نہ ہو کیونکہ جب غیر معصوم کے لئے استغفار کیا جائے تو اس سے اس کے ارتکاب معصیت کا شبہ ہوتا ہے) پھر میں نے ان کی زیارت کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت مل گئی، سو تم قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔
(٦) امام ابن ماجہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ روسل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زیارت قبور کی اجازت دی ہے۔
(٧) امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت حیان انصاری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم خیبر کو خطبہ دیا اور ان تین چیزوں کو حلال کردیا، جن سے پہلے آپ نے منع فرمایا تھا، ان کے لئے زیارت قبور، قربانی کے گوشت اور برتنوں کی اجازت دے دی۔
(٨) امام حاکم نے حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : قبر کی زیارت کرو، اس سے تم کو آخرت یاد آئے گی۔
(٩) امام احمد نے حضر علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تم کو زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تم کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔
(١٠) امام احمد حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کی طرف منہ کر کے فرمایا : السلام علیکم
(١١) امام احمد حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قبرستان گئے اور اہل قبور کو سلام کیا اور کہا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انہیں سلام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(١٢) امام ابن عبدالبرسند صحیح کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ جو شخص اپنے اس مسلمان بھائی کی قبر کے اس سے گزرتا ہے جس کو وہ دنیا میں پہچانتا تھا اور اس کو سلام کرتا ہے تو وہ اس کو پہچان کر اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔
(١٣) امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اللہ لعنت فرماتا ہے۔ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے، پھر کہا : بعض اہل علم کا یہ نظریہ ہے کہ یہ حدیث زیارت قبور کی رخصت دینے سے پہلے کی ہے اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زیارت قبور کی رخصت دی تو اس میں مرد اور عورتیں دونوں داخل ہوگئے۔ (حافظ بدر الدین محمود بن احمد متوفی ٨٥٥ ھ عمدۃ القری ج ٨ ص 69-70 ادارۃ الطباعۃ المنیریہ، مصر 1348 ھ)
فقہاء احناف کے نزدیک عورتوں کے لئے زیارت قبور کا حکم
علامہ بدر الیدن عینی حنفی لکھتے ہیں :
بعض علماء کا یہ نظریہ ہے کہ عورتوں کے لئے قبروں کی زیارت کرنا مکروہ ہے، کیونکہ ان میں صبر کم ہوتا ہے اور وہ بےصبری کا اظہار زیادہ کرتی ہیں اور امام ابودائود نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت زیادہ زیارت قبور کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مسجد بنانے والوں اور چراغ جلان والوں پر لعنت فرمائی ہے، ایک قوم نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ زیارت قبور کی رخصت مردوں کے ساتھ، خاص ہے اور عورتوں کو شامل نہیں ہے۔
علامہ ابن عبدالبر مالکی نے کہا : ممکن ہے، یہ حدیث بھی زیارت قبور کی رخصت سے پہلے کی جو، جو عورتیں بنائو سنگھار کرتی ہیں، میرے نزدیک ان کا نہ جانا مستحب ہے اور جوان عورتوں کا قبروں پر جانا فتنہ سے خالی نہیں ہے اور عورتوں کے لئے اپنے گھر کی چار دیواری میں لازم رہنے سے اور کوئی چیز بہتر نہیں ہے، بہت سے علماء نے نماز پڑھنے کے لئے عورتوں کے جانے کو بھی مکروہ کہا ہے تو قبرستان میں جانا تو بہ طریق اولیٰ مکروہ ہوگا، عورتوں پر جمعہ کا پڑھنا جو فرض نہیں ہے تو میرے خیال میں اس کی یہی وجہ ہے کہ ان کو گھر سے باہر نکلنے کی ممانت ہے، جو لوگ عورتوں کے لئے زیارت قبور کے جواز کے قائل ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی ملکیہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک دن قبرستان سے آرہی تھیں، میں نے پوچھا، اے المومنین ! آپ کہاں سے آرہی ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں اپنے بھائی عبدالرحمان بن ابی بکر (رض) کی قبر کی زیارت کر کے آرہی ہوں، میں نے عرض کیا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبور کی زیارت سے منع نہیں فرمایا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! پہلے حضور نے منع فرمایا تھا، بعد میں آپ نے زیارت قبور کا حکم فرمایا۔
بعض علماء نے بوڑھی اور جوان عورتوں میں فرق کا ہے اور صرف زیارت اور مردوں سے اختال میں فرق کیا ہے علامہ قرطبی مالکی نے کہا : جو ان عورتوں کا زیارت قبور کے لئے جانا حرام ہے اور رہیں بوڑھی عورتیں تو ان کا زیارت قبور کے لئے جانا جائز ہے، بہشرطی کہ وہ مردوں سے اختلاف نہ کریں، اور انشاء اللہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہوگا نیز علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ جامع ترمذی کی روایت میں ” وارات “ (بہت زیادہ زیارت کرنے والوں) پر لعنت ہے اور ” زورات “ مبالغہ کا صیغہ ہے، اس کا معنی ہے : جو بہ کثرت زیارت قبول کے لئے جاتی ہوں، اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی کبھی زیارت قبول کرنے والی عورتوں پر لعنت نہیں ہے اور نہ ان کو ممانعت ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عورتوں کو بہ کثرت زیارت کرنے سے اس لئے منع کیا ہے کہ ان پر لعنت نہیں ہے اور نہ ان کو ممانعت ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عورتوں کو بہ کثرت زیارت کرنے سے اس لئے منع کیا ہے کہ ان کے قبرستان میں زیادہ جانے سے خاوند کے حقوق ضائع ہوتے ہیں اور اس کی پوشیدہ زینوں کا اظہار ہوتا ہے اور عورتوں کا باہر نکلنا مشہور ہوجاتا ہے اور اس میں ان لوگوں کے ساتھ تشبہ ہوتا ہے جو قبروں کی تعظیم کی وجہ سے قبروں کے ساتھ ساتھ لازم رہتے ہیں، اور عورتوں کے قبروں پر جانے سے ان کے رونے، چلانے اور وایلا کرنے کا بھی خدشہ ہے، اس کے علاوہ اور بھی خرابیاں اور عورتوں کے قبروں پر جانے سے ان کے رونے، چلانے اور واویلا کرنے کا بھی خدشہ ہے، اس کے علاوہ اور بھی خرابیاں ہیں (مثلاً عورتوں کے زیادہ آنے جانے سے ان کے رونے، چلانے اور واویلا کرنے کا بھی خدشہ ہے، اس کے علاوہ اور بھی خرابیاں ہیں (مثلاً عورتوں کے زیادہ آنے جانے سے لوگ بھی فتنہ میں مبتلا ہوتے ہیں اور عورتوں کی عزت اور ناموس کو بھی خطرہ ہوتا ہے) اس اعتبار سے ’ دزائرات “ اور ” زوارات “ (کبھی کبھی زیارت کرنے والیوں اور بہت زیادہ زیارت کرنے والیوں) میں فرق کیا جاسکتا ہے۔
” توضیح “ میں مذکور ہے کہ حضرت بریدہ کی حدیث میں زیارت قبور کی ممانعت کے منسوخ ہونے کی تصریح ہے، اور ظاہر یہ ہے کہ کہ شعبی اور نخعی کو اجازت کی احادیث نہیں پہنچیں، اور شارع (علیہ السلام) سال کی ابتداء میں شہداء کی قبروں پر جاتے تھے اور فرماتے تھے :
السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی۔ تمہارے صبر کی وجہ سے تم پر سلام ہو اور دار آخرت کیا ہی اچھا ہے۔
اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) بھی اسی طرح کرتے تھے اور حضرت شارع (علیہ السلام) نے ایک ہزار اصحاب کے اتھ فتح مکہ کے دن اپنی والدہ ماجدہ کی قبر کی زیارت کی، ابن ابی الدنیا نے اس روایت کو بیان کیا ہے اور امام ابن ابی شیبہ نے حضرت علی، حضرت ابن مسعود اور حضرت انس (رض) سے زیارت قبورل کی اجازت روایت کی ہے اور حضرت فاطمہ (رض) ہر جمعہ کو حضرت حمزہ (رض) کی قبر کی زیارت کرتی تھیں، اور حضرت ابن عمر (رض) اپنے والد کی قبر کی زیارت کرتے تھے، وہاں ٹھہرتے اور انکے لئے دعا کرتے اور امام عبدالرزاق نے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) ہر جمعہ کو حضرت حمزہ (رض) کی قبروں کی زیارت کرتی تھیں، اور حضرت ابن عمر (رض) اپنے والد کی قبر کی زیارت کرتے تھے، وہاں ٹھہرتے اور ان کے لئے دعا کرتے، اور امام عبدالرزاق نے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) اپنے بھائی حضرت عبدالرحمٰن بی ابی بکر (رض) کی قبر کی زیارت کرتی تھیں اور ان کی قبر مکہ میں تھی، ابن ابی حبیب نے کہا ہے کہ قبروں کی زیارت کرنیے، وہاں بیٹھنے اور قبروں کے پاس سے گزرتے وقت اسلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول الال (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ افعال کئے ہیں، امام مالک سے زیادہ قبور کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : نبی (رض) نے پہلے اس سے منع کیا تھا پھر اس کی اجازت دے دی، سو اگر انسان ایسا کرے اور صاف نیک کملات کے تو میرے زدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نیز ” توضیح “ میں مذکور ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کی قبروں کی زیارت کے استحباب پر تمام امت کا اجماع ہے اور احضرت ابن عمر (رض) جب کسی سفر آتے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مکرم پر آتے اور عرض کرتے :” السلام علیک یا رسول الہ، السلام علیک یا ابابکر، السلام علیک یا ابتاہ “
صرف ابتداء اسلام میں زیارت قبور سے منع کیا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت بتوں کی عبادت اور قبروں پر سجدہ کرنے کا رواج قریب تھا اور لوگ نئے نئے اس عہد سے نکلے تیھ اور جب لوگوں کے دلوں میں اسلام مستحکم اور قوی ہوگیا اور قبروں کی عبادت کرنے اور ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا خطرہ نہیں رہا تو آپ نے قبروں کی زیارت کی ممانعت کو منسوخ کردیا، کیونکہ اس سے آخرت کی یاد آتی ہے اور دنیا سے بےرغبتی ہوتی ہے اور طائوس سے منقول ہے کہ دفن کے بعد لوگ سات دن تک قبر سے جدا نہ ہونے کو مستحب قرار دیتے تھے کیونکہ مردوں سے قبروں میں سات دن حساب اور آزمائش ہوتی ہے۔
اس تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کا قبروں کی زیارت کرنا مکروہ ہے، بلکہ اس زمانہ میں حرام ہے، خصوصاً شہر کی عورتوں کا جانا حرام ہے، کیونکہ وہ بطور فتنہ اور فساد نکلتی ہیں (یعنی بہت زیادہ خوشبو لگا کر اور میک اپ کر کے نکلتی ہیں اور راستہ میں آنے جانے والے مرد ان کو دیکھتے ہیں اور ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں) زیارت قبور کی اجازت تو صرف اس لئے دی گئی ہے کہ لوگ آخرت کو یاد کریں، مضای کی بد اعمالیوں پر غور کر کے ان سے بچیں اور توبہ کریں اور دنیا سے دل نہ لگائیں۔ (عمدۃ القاری ج ٨ ص 69-80 ادارۃ الطباعۃ المیزیہ مصر 1348)
علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی 970 ھ لکھتے ہیں :
وقیل تحرم علی النساء والاصح ان الرخصۃ ثابتۃ لھما۔ (البحر الرائق ج ٢ ص 195 المطبعہ علمیہ، مصر، ١٣١١ ھ) ایک قول یہ ہے کہ عورتوں کا زیارت قبور کے لئے جانا حرام ہے اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے رخصت ثابت ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں :
ایک قول یہ ہے کہ عورتوں کا قبروں کی زیارت کرنا حرام ہے اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ عورتوں کے لئے بھی قبروں کی زیارت جائز ہے۔ (البحرالرائق) اور ’ دشرح المنیۃ “ میں لکھا ہے کہ یہ مکروہ ہے، علامہ خیر الدین رملی نے کہا ہے کہ اگر عورتیں غم کی تجدید مردے کی خوبیاں بیان کرنے اور رونے اور واویلا کرنے کے لئے جائیں تو یہ جائز نہیں ہے اور حدیث میں زوارات قبور پر جو لعنت کی گئی ہے، وہ اسی پر محمول ہے اور اگر رونے اور واویلا کرنے کے بجائے اعتبار آخرت اور میت پر دعا کرنے کے لئے حرج نہیں ہے اور جوان عورتوں کے لئے جانا مکروہ ہے، جس طرح جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے عورتوں کے مسجدوں میں جانے کا معاملہ ہے اور یہ بہت اچھی توفیق ہے۔ (ردا المختارج ١ ص 843 مطبعہ عثمانیہ، استنبول، 1327 ھ)
زیارت قبور کے مسئلہ کی زیادہ تحقیق اور مذاہب ائمہ ہم نے شرح صحیح مسلم ج ٧ ص 734-742 میں بیان کئے ہیں۔